External Publication
Visit Post

فیلڈ مارشل کے دورہ ایران میں حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت: آئی ایس پی آر

Independent Urdu [Unofficial] May 23, 2026
Source

فیلڈ مارشل کے دورۂ ایران میں حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت: آئی ایس پی آر

پاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران ہونے والے انتہائی اہم مذاکرات کے نتیجے میں (ایران - امریکہ) حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کا مختصر مگر انتہائی اہم سرکاری دورہ مکمل کر لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ایرانی قیادت سے اعلیٰ سطح ملاقاتیں کیں، جو آٹھ اپریل 2026 کی جنگ بندی کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں تناؤ میں کمی اور تعمیری روابط کے فروغ کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں۔

بیان کے مطابق فیلڈ مارشل نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جاری مشاورتی عمل کو تیز کرنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ملاقاتیں مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئیں اور انہوں نے ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی قیادت نے علاقائی مسائل کے پرامن حل اور مذاکرات کے فروغ میں پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری کردار کو سراہا


ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے حتمی متن کا جائزہ جاری ہے: اسماعیل بقائی

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے حتمی متن کا جائزہ جاری ہے۔


معاہدے سے دور بھی ہیں اور بہت قریب بھی: وزارت خارجہ ایران

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے ہفتے کو رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ اور پاکستانی آرمی چیف کے درمیان ملاقات ختم ہو گئی ہے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران سے روانہ ہو گئے ہیں۔

ایران کے ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’ہم معاہدے سے بہت دور بھی ہیں اور بہت قریب بھی ہیں۔‘

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’پاکستانی آرمی چیف کے دورے کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ تھا، جبکہ اس مرحلے پر ہماری توجہ مسلط کردہ جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے۔ مختلف شقوں کے حوالے سے فریقین کے مؤقف کئی بار ایک دوسرے تک پہنچائے گئے اور ان موضوعات پر بھی بات چیت ہوئی جہاں اختلافِ رائے موجود تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ کے متضاد مؤقف کے باعث ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ عمل تبدیل ہو جائے گا۔ فریقین کے موقف ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاہدہ ہو گیا ہے بلکہ یہ کہ شاید کسی حل تک پہنچا جا سکے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے میں مذاکرات کے دوران جوہری مسئلے اور پابندیوں کے خاتمے کی تفصیلات پر بات نہیں کی جا رہی۔ پابندیاں یقینا امریکہ کے ساتھ کسی بھی بات چیت میں زیر بحث آنے والے موضوعات میں شامل ہیں، اور یہ پابندیاں غیر قانونی اور انسانیت کے خلاف ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا: ’ایران کا پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ متن میں شامل ہے اور یہ ہمارا مستقل مؤقف ہے۔ مفاہمت کی یادداشت کے حتمی ہونے کے بعد اسے اگلے مراحل میں مزید مذاکرات کے لیے لے کر جایا جائے گا۔‘

ان کے مطابق اس حوالے سے ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کا معاملہ بھی زیر غور ہے، اور ابتدائی مرحلے میں ہی منجمد اثاثوں کی واپسی کے بارے میں فیصلہ ہونا چاہیے۔ ’14 نکاتی مفاہمتی مسودے میں جوہری مسئلہ بھی شامل ہے اور منجمد اثاثوں کی واپسی کا موضوع بھی شامل ہے۔‘

ارنا کے مطابق ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں کہا کہ ’ایران عملی طور پر بین الاقوامی قانونی فریم ورک کی پابندی کا مظاہرہ کر چکا ہے اور ہم صرف اپنی قوم کے قانونی اور جائز حقوق کے حصول کے خواہاں ہیں، تاہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے تجربات ہمیں انتہائی احتیاط کا تقاضہ کرتے ہیں۔‘

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اس تنازع میں کامیاب نہیں ہو گا اور اس کے نتیجے میں خطے اور دنیا کے ممالک کو سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسرائیل اس جنگ کے ذریعے صرف اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

ارنا نے مزید رپورٹ کیا ہے کہ ’پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوبارہ ایرانی صدر سے ملاقات کے موقع پر شکر گزار ہیں اور پاکستان کے وزیر اعظم اور صدر کی جانب سے نیک خواہشات بھی پہنچاتے ہیں۔ خوش قسمتی سے مذاکرات کا عمل بہتر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔‘

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مزید کہا کہ پاکستان کا مقصد صرف خطے میں استحکام قائم کرنا اور جنگ و تنازعے کے تسلسل کو روکنا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ جاری مذاکرات جلد ایران اور خطے کے تمام ممالک اور مسلمانوں کے لیے مثبت نتائج تک پہنچیں گے۔


ایرانی میڈیا (مہر نیوز ایجنسی) کے مطابق کہ تہران کا دورہ کرنے والے پاکستان فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے آج (ہفتے کو) تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ سپیکر باقر قالیباف سے ملاقاتیں کیں۔

ایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ہفتے کو دوسری ملاقات ہوئی ہے۔

اس سے قبل رات گئے ایک اجلاس ہو چکا ہے۔ ارنا کے مطابق: ’ان مذاکرات کی بنیاد ایران کا چار نکاتی منصوبہ ہے۔ یہ ایک تکنیکی اور قانونی اجلاس ہے جس میں شاید کچھ وقت لگے گا۔‘

روئٹرز کے مطابق یہ ایرانی رہنماؤں کے ساتھ فیلڈ مارشل کی ملاقاتیں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو تیز کر رہا ہے تاکہ صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔

Pakistani Army chief holds meetings with Iranian President, Foreign Minister, and Parliament Speaker in Tehran pic.twitter.com/XQhQ5M0K3c

— Mehr News Agency (@MehrnewsCom) May 23, 2026

پہلی ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل اور عراقچی نے حالیہ سفارتی اقدامات اور ان کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی، جن کا مقصد کشیدگی میں اضافہ روکنا اور ایران سے متعلق جاری تنازع کو ختم کرنا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات دیر رات تک جاری رہے۔

اس سے قبل پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ عاصم منیر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں تہران گئے ہیں۔

تہران آمد پر ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقعے پر پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد براہ راست گفتگو کا سلسلہ تو تعطل کا شکار ہے، تاہم اس دوران پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

دوسری جانب امریکہ اور ایران گذشتہ روز تک تہران کے یورینیم کے ذخیرے اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ایک دوسرے سے مختلف مؤقف پر ڈٹے رہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورہ امریکہ اور ایران میں ثالثی کی کوششوں کی کڑی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اپریل میں بھی ایران کا تین روزہ دورہ کیا تھا۔

ایران

امریکہ

پاکستان

اسلام آباد مذاکرات

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور تعمیری روابط کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو

ہفتہ, مئی 23, 2026 - 17:30

Main image:

23 مئی 2026 کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ سینیٹر سید محسن رضا نقوی کو تہران کے دورے کے اختتام پر ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے رخصت کیا (ارنا)

دنیا

type:

news

label:

لائیو اپ ڈیٹس

related nodes:

پاکستان ایران کو راہداری کیوں دے رہا ہے؟

امریکہ کا ایران پر نئے حملے کرنے پر غور: امریکی میڈیا

امریکہ اور ایران میں ثالثی کی کوششیں جاری: فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے

آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس نافذ کیا تو ایران سے معاہدہ ممکن نہیں ہوگا: مارکو روبیو

SEO Title:

فیلڈ مارشل کے دورہ ایران میں حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت: آئی ایس پی آر

copyright:

show related homepage:

Show on Homepage

Discussion in the ATmosphere

Loading comments...