{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreih7g7d6chezkrcrp6fpd7iun3tbxood5vkpajtgxaz5v4x47dfdnu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmksy5efbcl2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreie6wztlhd7s3lbikik2scwi5m73ce5xtsivlfl33lgingox6pfb4u"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 120932
},
"path": "/node/186020",
"publishedAt": "2026-05-23T12:30:33.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"pic.twitter.com/XQhQ5M0K3c",
"May 23, 2026",
"ایران",
"امریکہ",
"پاکستان",
"اسلام آباد مذاکرات",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"news",
"لائیو اپ ڈیٹس",
"@MehrnewsCom"
],
"textContent": "**فیلڈ مارشل کے دورۂ ایران میں حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت: آئی ایس پی آر**\n\nپاکستان فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران ہونے والے انتہائی اہم مذاکرات کے نتیجے میں (ایران - امریکہ) حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔\nآئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کا مختصر مگر انتہائی اہم سرکاری دورہ مکمل کر لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے ایرانی قیادت سے اعلیٰ سطح ملاقاتیں کیں، جو آٹھ اپریل 2026 کی جنگ بندی کے بعد خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں تناؤ میں کمی اور تعمیری روابط کے فروغ کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں۔\n\nبیان کے مطابق فیلڈ مارشل نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جاری مشاورتی عمل کو تیز کرنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔\n\nآئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ ملاقاتیں مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئیں اور انہوں نے ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔\nبیان میں کہا گیا کہ ایرانی قیادت نے علاقائی مسائل کے پرامن حل اور مذاکرات کے فروغ میں پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری کردار کو سراہا\n\n* * *\n\n**ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے حتمی متن کا جائزہ جاری ہے: اسماعیل بقائی**\n\nایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے حتمی متن کا جائزہ جاری ہے۔\n\n* * *\n\n**معاہدے سے دور بھی ہیں اور بہت قریب بھی: وزارت خارجہ ایران**\n\nایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے ہفتے کو رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ اور پاکستانی آرمی چیف کے درمیان ملاقات ختم ہو گئی ہے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران سے روانہ ہو گئے ہیں۔\n\nایران کے ترجمان وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ’ہم معاہدے سے بہت دور بھی ہیں اور بہت قریب بھی ہیں۔‘\n\nاسماعیل بقائی نے کہا کہ ’پاکستانی آرمی چیف کے دورے کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان پیغامات کا تبادلہ تھا، جبکہ اس مرحلے پر ہماری توجہ مسلط کردہ جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے۔ مختلف شقوں کے حوالے سے فریقین کے مؤقف کئی بار ایک دوسرے تک پہنچائے گئے اور ان موضوعات پر بھی بات چیت ہوئی جہاں اختلافِ رائے موجود تھا۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ کے متضاد مؤقف کے باعث ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ عمل تبدیل ہو جائے گا۔ فریقین کے موقف ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ معاہدہ ہو گیا ہے بلکہ یہ کہ شاید کسی حل تک پہنچا جا سکے۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے میں مذاکرات کے دوران جوہری مسئلے اور پابندیوں کے خاتمے کی تفصیلات پر بات نہیں کی جا رہی۔ پابندیاں یقینا امریکہ کے ساتھ کسی بھی بات چیت میں زیر بحث آنے والے موضوعات میں شامل ہیں، اور یہ پابندیاں غیر قانونی اور انسانیت کے خلاف ہیں۔\n\nاسماعیل بقائی نے کہا: ’ایران کا پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ متن میں شامل ہے اور یہ ہمارا مستقل مؤقف ہے۔ مفاہمت کی یادداشت کے حتمی ہونے کے بعد اسے اگلے مراحل میں مزید مذاکرات کے لیے لے کر جایا جائے گا۔‘\n\nان کے مطابق اس حوالے سے ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کا معاملہ بھی زیر غور ہے، اور ابتدائی مرحلے میں ہی منجمد اثاثوں کی واپسی کے بارے میں فیصلہ ہونا چاہیے۔ ’14 نکاتی مفاہمتی مسودے میں جوہری مسئلہ بھی شامل ہے اور منجمد اثاثوں کی واپسی کا موضوع بھی شامل ہے۔‘\n\nارنا کے مطابق ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں کہا کہ ’ایران عملی طور پر بین الاقوامی قانونی فریم ورک کی پابندی کا مظاہرہ کر چکا ہے اور ہم صرف اپنی قوم کے قانونی اور جائز حقوق کے حصول کے خواہاں ہیں، تاہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے تجربات ہمیں انتہائی احتیاط کا تقاضہ کرتے ہیں۔‘\n\nایرانی صدر کا کہنا تھا کہ امریکہ اس تنازع میں کامیاب نہیں ہو گا اور اس کے نتیجے میں خطے اور دنیا کے ممالک کو سنگین نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسرائیل اس جنگ کے ذریعے صرف اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘\n\nارنا نے مزید رپورٹ کیا ہے کہ ’پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوبارہ ایرانی صدر سے ملاقات کے موقع پر شکر گزار ہیں اور پاکستان کے وزیر اعظم اور صدر کی جانب سے نیک خواہشات بھی پہنچاتے ہیں۔ خوش قسمتی سے مذاکرات کا عمل بہتر انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔‘\n\nفیلڈ مارشل عاصم منیر نے مزید کہا کہ پاکستان کا مقصد صرف خطے میں استحکام قائم کرنا اور جنگ و تنازعے کے تسلسل کو روکنا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ جاری مذاکرات جلد ایران اور خطے کے تمام ممالک اور مسلمانوں کے لیے مثبت نتائج تک پہنچیں گے۔\n\n* * *\n\n**ایرانی میڈیا (مہر نیوز ایجنسی) کے مطابق کہ تہران کا دورہ کرنے والے پاکستان فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے آج (ہفتے کو) تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ سپیکر باقر قالیباف سے ملاقاتیں کیں۔**\n\nایرانی نیوز ایجنسی ارنا کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ہفتے کو دوسری ملاقات ہوئی ہے۔\n\nاس سے قبل رات گئے ایک اجلاس ہو چکا ہے۔ ارنا کے مطابق: ’ان مذاکرات کی بنیاد ایران کا چار نکاتی منصوبہ ہے۔ یہ ایک تکنیکی اور قانونی اجلاس ہے جس میں شاید کچھ وقت لگے گا۔‘\n\nروئٹرز کے مطابق یہ ایرانی رہنماؤں کے ساتھ فیلڈ مارشل کی ملاقاتیں ایسے وقت ہو رہی ہیں جب پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کو تیز کر رہا ہے تاکہ صورت حال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔\n\n> Pakistani Army chief holds meetings with Iranian President, Foreign Minister, and Parliament Speaker in Tehran pic.twitter.com/XQhQ5M0K3c\n\n> — Mehr News Agency (@MehrnewsCom) May 23, 2026\n\nپہلی ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل اور عراقچی نے حالیہ سفارتی اقدامات اور ان کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی، جن کا مقصد کشیدگی میں اضافہ روکنا اور ایران سے متعلق جاری تنازع کو ختم کرنا ہے۔\n\nایرانی میڈیا کے مطابق مذاکرات دیر رات تک جاری رہے۔\n\nاس سے قبل پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ عاصم منیر ایران اور امریکہ کے درمیان جاری ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں تہران گئے ہیں۔\n\nتہران آمد پر ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقعے پر پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد براہ راست گفتگو کا سلسلہ تو تعطل کا شکار ہے، تاہم اس دوران پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔\n\nدوسری جانب امریکہ اور ایران گذشتہ روز تک تہران کے یورینیم کے ذخیرے اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ایک دوسرے سے مختلف مؤقف پر ڈٹے رہے۔\n\nفیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورہ امریکہ اور ایران میں ثالثی کی کوششوں کی کڑی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے اپریل میں بھی ایران کا تین روزہ دورہ کیا تھا۔\n\nایران\n\nامریکہ\n\nپاکستان\n\nاسلام آباد مذاکرات\n\nآئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور تعمیری روابط کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں کا حصہ ہیں۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, مئی 23, 2026 - 17:30\n\nMain image:\n\n> <p>23 مئی 2026 کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ سینیٹر سید محسن رضا نقوی کو تہران کے دورے کے اختتام پر ایرانی وزیرِ خارجہ سید عباس عراقچی نے رخصت کیا (ارنا)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان ایران کو راہداری کیوں دے رہا ہے؟\n\nامریکہ کا ایران پر نئے حملے کرنے پر غور: امریکی میڈیا\n\nامریکہ اور ایران میں ثالثی کی کوششیں جاری: فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے\n\nآبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس نافذ کیا تو ایران سے معاہدہ ممکن نہیں ہوگا: مارکو روبیو\n\nSEO Title:\n\nفیلڈ مارشل کے دورہ ایران میں حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت: آئی ایس پی آر\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "فیلڈ مارشل کے دورہ ایران میں حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت: آئی ایس پی آر"
}