External Publication
Visit Post

امریکہ کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے: ٹرمپ

Independent Urdu [Unofficial] May 19, 2026
Source

امریکہ کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا ہے کہ امریکہ کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور وہ حملے کا فیصلہ کرنے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے جب انہوں نے اسے مؤخر کر دیا۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’میں آج کارروائی کرنے کا فیصلہ کرنے سے ایک گھنٹہ دور تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے رہنما معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔

دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ دوبارہ حملہ کرتے ہیں تو وہ ’ٹرگر دبانے کے لیے تیار‘ ہیں۔

تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی خاتم الانبیا کمانڈ نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ کی جانب سے دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کی مسلح افواج “ٹرگر دبانے کے لیے مکمل تیار ہیں۔

خاتم الانبیا کے کمانڈر علی عبدالحسینی نے کہا کہ ’کسی بھی نئی جارحیت اور حملے کا فوری، فیصلہ کن، طاقتور اور وسیع پیمانے پر جواب دیا جائے گا۔‘


گذشتہ 48 گھنٹوں میں 6 دشمن ڈرونز تباہ کیے: یو اے ای

متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے منگل کو بتایا کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام نے کامیابی سے 6 دشمن ڈرونز کا سراغ لگایا اور انہیں نشانہ بنایا، جو ملک میں شہری اور اہم تنصیبات کو ہدف بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

تعلن وزارة الدفاع أنه خلال الـ48 ساعة الماضية تمكنت منظومات الدفاع الجوي الإماراتية من رصد والتعامل بنجاح مع 6 طائرات مسيرة معادية حاولت استهداف مناطق مدنية وحيوية في الدولة.

وقد نجحت قوات الدفاع الجوي في اعتراض وتحييد الأهداف المعادية وفق أعلى درجات الجاهزية والكفاءة، دون تسجيل… pic.twitter.com/ZUUbZG2i99

— وزارة الدفاع |MOD UAE (@modgovae) May 19, 2026

بیان کے مطابق: ’فضائی فورسز نے اعلیٰ ترین تیاری اور مؤثر کارکردگی کے ساتھ ان دشمن اہداف کو روک کر ناکارہ بنا دیا اور اس دوران کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، نہ ہی اہم تنصیبات کی سلامتی متاثر ہوئی۔‘


ایران سے نئی امن تجویز موصول ہونے کے بعد معاہدے کا اچھا امکان ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ تہران نے واشنگٹن کو ایک امن تجویز بھیجی ہے اور اب ایک معاہدہ طے پانے کا ’بہت اچھا امکان‘ موجود ہے جو ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرے گا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے نئی امن تجویز موصول ہونے کے بعد انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت دی کہ ’ہم ایران پر طے شدہ حملہ نہیں کریں گے، تاہم انہیں یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کوئی قابل قبول معاہدہ طے نہ پایا تو کسی بھی لمحے مکمل اور بڑے پیمانے پر ایران پر حملے کے لیے تیار رہیں۔‘

آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے معاہدہ کرنے کے دباؤ میں، ٹرمپ اس سے قبل بھی امید ظاہر کر چکے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ قریب ہے اور ساتھ ہی انہوں نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر تہران معاہدہ نہ کرے تو اس پر شدید حملے کیے جائیں گے۔

بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اس صورت میں مطمئن ہوگا اگر وہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کر لے جو تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے۔

انہوں نے کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ وہ کوئی حل نکال سکتے ہیں۔ اگر ہم بغیر شدید بمباری کے یہ کام کر لیں تو یہ بہت خوشی کی بات ہو گی۔‘

ٹرمپ کی جانب سے حملہ روکنے کا اعلان اس وقت سامنے آیا جب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ تہران کا مؤقف ’پاکستان کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچا دیا گیا ہے‘، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔


سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات کی درخواست پر نئے حملے ملتوی کیے: ٹرمپ

وائٹ ہاؤس میں منعقدہ اس تقریب کے دوران جب ایک اور صحافی نےایران کے معاملے پر ان سے پوچھا تو امریکی صدر نے کہا کہ انہیں ان تین ممالک (سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات) سمیت دیگر ممالک کی جانب سے فون کالز موصول ہوئیں، جو براہ راست امریکی حکام اور ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں، اور اس وقت ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ معاملات طے پانے کا ایک اچھا امکان موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر ہم یہ سب کچھ انہیں شدید بمباری کا نشانہ بنائے بغیر کر سکتے ہیں تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔‘

اس سے قبل امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر بھی لکھا تھا کہ انہوں نے یہ ایران پر منگل کو مجوزہ حملہ خلیجی عرب اتحادیوں کی درخواست پر روکا ہے۔

ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی ایک نظرثانی شدہ تجویز امریکہ کو پہنچا دی ہے۔

امریکی صدر کے ٹروتھ سوشل پر خلیجی ممالک کی درخواست پر حملہ روکنے کے بیان کے بارے میں جب منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں نے سوال کیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’دیگر ممالک نے ہم سے رابطہ کر کے بتایا کہ وہ کل (منگل) ایک بہت بڑا حملہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے، تاہم میں نے اسے کچھ وقت کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’امید ہے شاید ہمیشہ کے لیے، لیکن ممکن ہے صرف کچھ وقت کے لیے، کیونکہ ایران کے ساتھ ہماری بہت اہم بات چیت ہوئی ہے اور ہم دیکھیں گے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔‘

امریکی صدر کے مطابق سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور چند دیگر ممالک نے ان سے درخواست کی کہ حملے کو دو یا تین دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے کیونکہ ان کے خیال میں معاہدہ طے پانے کے امکانات بہت قریب ہیں۔

امریکی صدر نے بتایا کہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے دیگر متعلقہ ممالک کو بھی اس پیش رفت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’دیکھنا ہوگا کہ آیا اس سے کوئی نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر ایسا محسوس ہوا کہ معاہدہ ہونے کے قریب ہے لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی، تاہم اس مرتبہ صورتحال کچھ مختلف دکھائی دے رہی ہے۔

’ہم کل ایک بہت بڑے اقدام کے لیے تیار تھے، اور یہ کوئی ایسا کام نہیں تھا جو میں کرنا چاہتا تھا، لیکن ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں کیونکہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتے۔‘

ایران

امریکہ

خلیجی ممالک

صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ دوبارہ حملہ کرتے ہیں تو وہ ’ٹرگر دبانے کے لیے تیار‘ ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو

منگل, مئی 19, 2026 - 20:00

Main image:

ٹرمپ 18  مئی 2026 کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے (اے ایف پی)

دنیا

type:

news

label:

لائیو اپ ڈیٹس

related nodes:

خلیجی ریاستوں کی درخواست پر ایران پر نیا حملہ منسوخ کر دیا: ٹرمپ

امریکہ نے پروجیکٹ فریڈم پاکستان کے کہنے پر روکا: مارکو روبیو

ٹرمپ کو چین کے دورے سے کیا حاصل ہوا؟

عراق کی فضائی حدود سے آنے والے تین ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا: سعودی عرب

SEO Title:

امریکہ کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے: ٹرمپ

copyright:

show related homepage:

Show on Homepage

Discussion in the ATmosphere

Loading comments...