امریکی اپنے بیانات میں احتیاط کریں، ہماری افواج جواب دینے کو تیار ہیں: باقر قالیباف
امریکی اپنے بیانات میں احتیاط کریں، ہماری افواج جواب دینے کو تیار ہیں: باقر قالیباف
ایران کے سپیکر پارلیمنٹ اور سوئٹزرلینڈ میں موجود مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف نے ایکس پر کہا کہ امریکیوں کو ’اپنے بیانات میں احتیاط کرنی چاہیے، ہماری مسلح افواج ہر طرح سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم امریکیوں کی دھمکیوں کو کسی حیثیت میں شمار نہیں کرتے۔‘
با خودشان فکر نمیکنند که اگر تهدیدهایشان نتیجهای داشت، به استیصال امروز نمیرسیدند؟ ما تهدیدهای آمریکاییها را به جایی حساب نمیکنیم. بهتر است مراقب اظهارنظرهای خود باشند، نیروهای مسلح ما آمادهاند تا به نحوی دیگر پاسخشان را بدهند. هر چه حرف بزنند، این ماییم که عمل میکنیم.
— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) June 21, 2026
بعد ازاں ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے مذاکراتی ٹیم کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایرانی وفد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مذاکراتی مقام سے واک آؤٹ کر دیا۔
تسنیم نے مزید رپورٹ کیا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے صدور کے درمیان دستخط شدہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے آرٹیکل 1 پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو ایران اور امریکہ کے درمیان دیگر تمام موضوعات پر ہونے والے مذاکرات روک دیے جائیں گے۔
ایرانی وفد کا امریکی وفد کے ساتھ مشترکہ تصویر سے انکار: تسنیم نیوز ایجنسی
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے آغاز سے قبل ایرانی وفد نے امریکی وفد کے ساتھ مشترکہ تصویر بنوانے سے انکار کر دیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم مذاکراتی ٹیم سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک سورس کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی وفد اور مذاکراتی اجلاس کے منتظمین نے کثیر فریقی اجلاس کے آغاز پر ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مصافحے اور مشترکہ گروپ فوٹو کا انتظام کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔
’ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ اور ٹیم کے دیگر ارکان نے ان پروٹوکول انتظامات پر اعتراض کیا اور واضح کر دیا کہ وہ امریکی وفد کے ساتھ تصویری تقریب میں شریک نہیں ہوں گے۔‘
’ایرانی وفد کی عدم شرکت کے باعث براہِ راست نشریات اور تصویری تقریب ایرانی نمائندوں کے بغیر ہی منعقد کی گئی، جس کے بعد ایرانی وفد اجلاس کے مقام پر پہنچا۔‘
ذرائع کے مطابق بعد ازاں امریکی وفد نے ایرانی وفد سے درخواست کی کہ صحافیوں کو مذاکراتی مقام سے نکلنے کے لیے پانچ منٹ کا وقت دیا جائے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور دیگر اہم معاملات پر مذاکرات جاری ہیں۔
آبنائے ہرمز بند رکھی تو اپنے ملک تک واپس بھی نہیں پہنچ سکو گے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ نہ کھولا تو امریکہ اس اہم آبی گزرگاہ پر قبضہ بھی کر سکتا ہے۔
فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے رات کے وقت ایرانی حکام سے بات کی اور انہیں خبردار کیا کہ ’اگر تم آبنائے ہرمز بند کرو گے تو تمہارا ملک نہیں رہے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکام کو بتایا گیا کہ ’تم اپنے ملک تک واپس بھی نہیں پہنچ سکو گے۔‘
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا ’نگہبان‘ بن سکتا ہے اور وہاں سے گزرنے والے تیل میں 20 فیصد حصہ بھی لے سکتا ہے۔
ان کے بقول ’اگر ضرورت پڑی تو ہم آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔ اگر ایران معاہدے پر عمل نہیں کرتا تو ہم وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول بھی وصول کریں گے۔‘
31 دسمبر، 2022 کو ایرانی بحریہ آبنائے ہرمز کے قریب مشقوں میں حصہ لے رہی ہے (اے ایف پی)
ایران کے ساتھ طے پانے والے حالیہ مفاہمتی معاہدے کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس 60 روز کا اختیار موجود ہے اور اس مدت کے بعد وہ جو چاہیں فیصلہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں گذشتہ روز خلیج فارس سے ایک کروڑ 90 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کیا گیا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے اس بیان پر کہ ایران یورینیم افزودگی کا حق ترک نہیں کرے گا، ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’انہیں اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہیے۔ اگر انہوں نے رویہ نہ بدلا تو ہم باقی ملک پر بھی قبضہ کر لیں گے۔‘
لبنان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس بات پر مایوس ہیں کہ اسرائیل حزب اللہ کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکا۔
انہوں نے کہا کہ ’اسرائیل عمارتیں گرائے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔ میں اس معاملے کو شام کے حوالے کرنے کے قریب ہوں کیونکہ وہ زیادہ درست انداز میں کارروائی کرے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ توجہ کا مرکز ایران ہونا چاہیے اور جب ایران کا معاملہ حل ہو جائے گا تو خطے کے کئی دیگر مسائل بھی خود بخود حل ہونے لگیں گے۔
ایران نے لبنان میں پراکسی گروپس کو نہ روکا تو مزید سخت کارروائی کریں گے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا ہے کہ ایران کو فوری طور پر لبنان میں اپنے ’پراکسی گروپس‘ کو مشکلات پیدا کرنے سے روکنا چاہیے۔
انہوں نےکہا کہ اگر ایران نے ایسا نہ کیا تو امریکہ ایران کو دوبارہ سخت نشانہ بنائے گا اور یہ کارروائی گزشتہ ہفتے کی نسبت بھی زیادہ سخت ہوگی۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں اور مفاہمتی اقدامات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی توقعات ظاہر کی جا رہی ہیں۔
امریکہ اور ایران امن و خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے: جے ڈی وینس
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں کہا ہے کہ امریکہ اور ایران مستقبل میں مل کر امن اور خوشحالی کے فروغ کے لیے کام کریں گے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران خطے میں عدم استحکام کا ایک اہم سبب رہا ہے، تاہم گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ہونے والی پیش رفت انتہائی اہم اور حوصلہ افزا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک ایک ایسے مستقبل کو دیکھ رہے ہیں جہاں سب مل کر امن اور خوشحالی کے فروغ کے لیے کام کر سکیں گے۔
امریکی نائب صدر کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہدایت کی ہے کہ ایران کے عوام کے ساتھ تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ایک نیا باب شروع کیا جائے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ ایران کے عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو تبدیل کرنے اور باہمی تعاون کے نئے امکانات پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی ثالثی میں امریکہ ایران مذاکرات کا آغاز ہو گیا: وزارت خارجہ قطر
قطر کی وزارت خارجہ نے اتوار کی سہ پہر کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں لیک لوسیرن سربراہی اجلاس کی سرگرمیوں اور اعلیٰ سطحی کمیٹی کے پہلے اجلاس کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر سمیت اہم فریقین کے نمائندے شریک ہیں۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب، ترکی، مصر، متحدہ عرب امارات اور دیگر برادر و دوست ممالک کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کوششوں سے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سازگار ماحول میسر آیا نیز ’یہ مذاکرات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں شامل تمام امور کا احاطہ کرنے والے ایک جامع اور مستقل معاہدے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔‘
قطری وزیراعظم کے مشیر اور وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد بن محمد الانصاری کے مطابق حتمی معاہدے کی شقوں پر بات چیت کے لیے خصوصی فنی اور تکنیکی گروپس تشکیل دے دیے گئے ہیں جبکہ عملدرآمد کی نگرانی اور پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے فالو اپ گروپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات تمام فریقین کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک جامع اور پائیدار معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر ماجد بن محمد الانصاری کا کہنا تھا کہ قطر، پاکستان اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ مل کر مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا، کیونکہ تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری کو ہی مؤثر راستہ سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے اس عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے ایک اہم شراکت دار اور ثالث قرار دیا جبکہ امریکہ اور ایران کے سفارتی حل کے عزم کا بھی خیرمقدم کیا۔
ایران جنگ
امریکہ
اسلام آباد امن معاہدہ
سوئٹزرلینڈ
مذاکرات
قطر
سعودی عرب
باقر قالیباف نے اتوار کو ایکس پر کہا ہے کہ امریکیوں کو ’اپنے بیانات میں احتیاط کرنی چاہیے، ہماری مسلح افواج ہر طرح سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔‘
انڈپینڈنٹ اردو
اتوار, جون 21, 2026 - 16:45
Main image:
ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف 21 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے آ رہے ہیں (اے ایف پی)
دنیا
type:
news
related nodes:
امریکہ سے آج مذاکرات میں لبنان بنیادی موضوع ہو گا: ایران
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے
آبنائے ہرمز پھر بند، امریکہ - ایران مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں
امریکہ-ایران معاہدہ اور پاکستان کا اصل کردار
SEO Title:
امریکی اپنے بیانات میں احتیاط کریں، ہماری افواج جواب دینے کو تیار ہیں: باقر قالیباف
copyright:
show related homepage:
Show on Homepage
Discussion in the ATmosphere