{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiaznju7hi5zrsysfrfjznicvoycqlohneqq3iassuwufac57krs6a",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmaqlnfcptv2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihckgcsv7c6hclsshg6n3biqh7tmau57yv5oa3xtymcznon7jzcpy"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 60818
  },
  "path": "/node/185963",
  "publishedAt": "2026-05-19T15:00:26.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "pic.twitter.com/ZUUbZG2i99",
    "May 19, 2026",
    "ایران",
    "امریکہ",
    "خلیجی ممالک",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news",
    "لائیو اپ ڈیٹس",
    "@modgovae"
  ],
  "textContent": "**امریکہ کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا ہے کہ امریکہ کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور وہ حملے کا فیصلہ کرنے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے جب انہوں نے اسے مؤخر کر دیا۔\n\nٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’میں آج کارروائی کرنے کا فیصلہ کرنے سے ایک گھنٹہ دور تھا۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ایران کے رہنما معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔\n\nدوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ دوبارہ حملہ کرتے ہیں تو وہ ’ٹرگر دبانے کے لیے تیار‘ ہیں۔\n\nتسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی خاتم الانبیا کمانڈ نے منگل کو جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ کی جانب سے دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس کی مسلح افواج “ٹرگر دبانے کے لیے مکمل تیار ہیں۔\n\nخاتم الانبیا کے کمانڈر علی عبدالحسینی نے کہا کہ ’کسی بھی نئی جارحیت اور حملے کا فوری، فیصلہ کن، طاقتور اور وسیع پیمانے پر جواب دیا جائے گا۔‘\n\n* * *\n\n**گذشتہ 48 گھنٹوں میں 6 دشمن ڈرونز تباہ کیے: یو اے ای**\n\nمتحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے منگل کو بتایا کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران یو اے ای کے فضائی دفاعی نظام نے کامیابی سے 6 دشمن ڈرونز کا سراغ لگایا اور انہیں نشانہ بنایا، جو ملک میں شہری اور اہم تنصیبات کو ہدف بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔\n\n> تعلن وزارة الدفاع أنه خلال الـ48 ساعة الماضية تمكنت منظومات الدفاع الجوي الإماراتية من رصد والتعامل بنجاح مع 6 طائرات مسيرة معادية حاولت استهداف مناطق مدنية وحيوية في الدولة.\n>\n>  وقد نجحت قوات الدفاع الجوي في اعتراض وتحييد الأهداف المعادية وفق أعلى درجات الجاهزية والكفاءة، دون تسجيل… pic.twitter.com/ZUUbZG2i99\n\n> — وزارة الدفاع |MOD UAE (@modgovae) May 19, 2026\n\nبیان کے مطابق: ’فضائی فورسز نے اعلیٰ ترین تیاری اور مؤثر کارکردگی کے ساتھ ان دشمن اہداف کو روک کر ناکارہ بنا دیا اور اس دوران کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، نہ ہی اہم تنصیبات کی سلامتی متاثر ہوئی۔‘\n\n* * *\n\n**ایران سے نئی امن تجویز موصول ہونے کے بعد معاہدے کا اچھا امکان ہے: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ تہران نے واشنگٹن کو ایک امن تجویز بھیجی ہے اور اب ایک معاہدہ طے پانے کا ’بہت اچھا امکان‘ موجود ہے جو ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرے گا۔\n\nٹرمپ نے کہا کہ ایران کی جانب سے نئی امن تجویز موصول ہونے کے بعد انہوں نے امریکی فوج کو ہدایت دی کہ ’ہم ایران پر طے شدہ حملہ نہیں کریں گے، تاہم انہیں یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کوئی قابل قبول معاہدہ طے نہ پایا تو کسی بھی لمحے مکمل اور بڑے پیمانے پر ایران پر حملے کے لیے تیار رہیں۔‘\n\nآبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے معاہدہ کرنے کے دباؤ میں، ٹرمپ اس سے قبل بھی امید ظاہر کر چکے ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ قریب ہے اور ساتھ ہی انہوں نے ایران کو خبردار کیا تھا کہ اگر تہران معاہدہ نہ کرے تو اس پر شدید حملے کیے جائیں گے۔\n\nبعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اس صورت میں مطمئن ہوگا اگر وہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کر لے جو تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے۔\n\nانہوں نے کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ وہ کوئی حل نکال سکتے ہیں۔ اگر ہم بغیر شدید بمباری کے یہ کام کر لیں تو یہ بہت خوشی کی بات ہو گی۔‘\n\nٹرمپ کی جانب سے حملہ روکنے کا اعلان اس وقت سامنے آیا جب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ تہران کا مؤقف ’پاکستان کے ذریعے امریکی فریق تک پہنچا دیا گیا ہے‘، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔\n\n* * *\n\n**سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات کی درخواست پر نئے حملے ملتوی کیے: ٹرمپ**\n\nوائٹ ہاؤس میں منعقدہ اس تقریب کے دوران جب ایک اور صحافی نےایران کے معاملے پر ان سے پوچھا تو امریکی صدر نے کہا کہ انہیں ان تین ممالک (سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات) سمیت دیگر ممالک کی جانب سے فون کالز موصول ہوئیں، جو براہ راست امریکی حکام اور ایران کے ساتھ رابطے میں ہیں، اور اس وقت ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ معاملات طے پانے کا ایک اچھا امکان موجود ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’اگر ہم یہ سب کچھ انہیں شدید بمباری کا نشانہ بنائے بغیر کر سکتے ہیں تو مجھے بہت خوشی ہوگی۔‘\n\nاس سے قبل امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر بھی لکھا تھا کہ انہوں نے یہ ایران پر منگل کو مجوزہ حملہ خلیجی عرب اتحادیوں کی درخواست پر روکا ہے۔\n\nٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے پاکستان نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی ایک نظرثانی شدہ تجویز امریکہ کو پہنچا دی ہے۔\n\nامریکی صدر کے ٹروتھ سوشل پر خلیجی ممالک کی درخواست پر حملہ روکنے کے بیان کے بارے میں جب منگل کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں نے سوال کیا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’دیگر ممالک نے ہم سے رابطہ کر کے بتایا کہ وہ کل (منگل) ایک بہت بڑا حملہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے، تاہم میں نے اسے کچھ وقت کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے کہا کہ ’امید ہے شاید ہمیشہ کے لیے، لیکن ممکن ہے صرف کچھ وقت کے لیے، کیونکہ ایران کے ساتھ ہماری بہت اہم بات چیت ہوئی ہے اور ہم دیکھیں گے کہ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔‘\n\nامریکی صدر کے مطابق سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور چند دیگر ممالک نے ان سے درخواست کی کہ حملے کو دو یا تین دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے کیونکہ ان کے خیال میں معاہدہ طے پانے کے امکانات بہت قریب ہیں۔\n\nامریکی صدر نے بتایا کہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے دیگر متعلقہ ممالک کو بھی اس پیش رفت سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔\n\nانہوں نے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’دیکھنا ہوگا کہ آیا اس سے کوئی نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی کئی مواقع پر ایسا محسوس ہوا کہ معاہدہ ہونے کے قریب ہے لیکن بات آگے نہ بڑھ سکی، تاہم اس مرتبہ صورتحال کچھ مختلف دکھائی دے رہی ہے۔\n\n’ہم کل ایک بہت بڑے اقدام کے لیے تیار تھے، اور یہ کوئی ایسا کام نہیں تھا جو میں کرنا چاہتا تھا، لیکن ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں کیونکہ ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتے۔‘\n\nایران\n\nامریکہ\n\nخلیجی ممالک\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nایران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ٹرمپ دوبارہ حملہ کرتے ہیں تو وہ ’ٹرگر دبانے کے لیے تیار‘ ہیں۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, مئی 19, 2026 - 20:00\n\nMain image:\n\n> <p>ٹرمپ 18  مئی 2026 کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nخلیجی ریاستوں کی درخواست پر ایران پر نیا حملہ منسوخ کر دیا: ٹرمپ\n\nامریکہ نے پروجیکٹ فریڈم پاکستان کے کہنے پر روکا: مارکو روبیو\n\nٹرمپ کو چین کے دورے سے کیا حاصل ہوا؟\n\nعراق کی فضائی حدود سے آنے والے تین ڈرونز کو روک کر تباہ کر دیا: سعودی عرب\n\nSEO Title:\n\nامریکہ کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے: ٹرمپ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "امریکہ کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے: ٹرمپ"
}