External Publication
Visit Post

پاکستان کا ایران کے ساتھ ڈیڑھ سال سے بند سرحد کھولنے کا اعلان

Independent Urdu [Unofficial] June 29, 2026
Source

حکومت پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں ایران کے ساتھ ڈیڑھ سال سے بند سرحد کو اگلے ماہ یعنی جولائی میں تجارت کے لیے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی طرح گوادر سے ایران ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے مختصر ترین راہداری کو فعال کیا جا رہا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ کیچ میں کراسنگ پوائنٹ کھولنے کے حوالے سے ایرانی حکام کے ساتھ اتفاق ہو گیا ہے اور جولائی میں جالگی بارڈر کراسنگ پوائنٹ سے باقاعدہ سرحدی تجارتی سرگرمیوں کا آغاز ہو جائے گا۔

اس سلسلے میں چند تکنیکی امور کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ یاسر دشتی کے مطابق پاکستانی اور ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔

پاکستان اور ایران کا تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم

مزید تفصیلات: https://t.co/Us6tWQZod3 pic.twitter.com/5hDGdKUspU

— Independent Urdu (@indyurdu) August 3, 2025

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے سرحد بند تھی جس سے دونوں جانب کے عوام اور تاجروں کو معاشی مشکلات کا سامنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ تمپ میں سوراب بارڈر کراسنگ پوائنٹ بحال ہے، اسی طرح پنجگور میں جیرک کراسنگ پوائنٹ کو عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے۔

یاسر دشتی کے مطابق جیسے جیسے تجارت کا تسلسل وقت کے ساتھ جاری ہو جائے گا تو دیگر پوائنٹس کو کھولنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

گوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) نے ایران کے ساتھ ٹرانزٹ تجارت کے لیے سی جی او 05/2026 کے تحت رہنما ہدایات جاری کی ہیں، جن میں گوادر بندرگاہ سے گبد-ہمدان سرحدی گزرگاہ کے ذریعے ایران تک سامان کی ترسیل کے طریقہ کار اور دستیاب سہولتوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔

ہدایات کے مطابق یہ عمل قانونی تقاضوں اور کسٹمز کی نگرانی میں انجام دیا جائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گوادر بندرگاہ سے گبد سرحد تک فاصلہ 87 کلومیٹر ہے، جو ایران تک مال برداری کے لیے مختصر ترین زمینی راستہ ہے۔

چیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نور الحق بلوچ کے مطابق سامان کی نقل و حمل کے لیے کسٹمز کی متعدد سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جن میں ٹی ٹی آئی کارنیٹ سکیورٹی کے ساتھ ٹرانزٹ گڈز ڈیکلریشن اور کراس اسٹف طریقہ کار شامل ہیں۔

نور الحق بلوچ کے مطابق اس اقدام سے تاجروں، درآمد کنندگان، ٹرانسپورٹروں، کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس اور گوداموں سے متعلق شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں کے لیے نئے تجارتی مواقع پیدا ہوں گے۔

بلوچستان کے پانچ اضلاع کی سرحدیں ایران کے ساتھ ملتی ہیں، جن میں چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔

ضلع گوادر کی زمینی اور سمندری سرحد ایرانی بارڈر سے ملتی ہے، جبکہ تفتان، رمدان، گبد، جیرک، جالگی اور سوراب ایسے کراسنگ پوائنٹس ہیں جن کے ذریعے ایران اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ تجارت ہوتی ہے۔

ماشکیل، گوادر، پنجگور، تفتان اور دیگر علاقوں کو ایران سے بجلی کی فراہمی بھی کی جاتی ہے۔

بلوچستان کے اکثر لوگوں کی زندگی کا دار و مدار ایران بارڈر پر تجارت اور وہاں سے آنے والی اشیائے خوردونوش پر ہے۔ بارڈر بند ہونے کی صورت میں ان علاقوں میں معاشی مشکلات جنم لیتی ہیں۔

ایران جنگ

پاکستان

ایران

تجارت

بلوچستان

گوادر

ضلع کیچ میں ڈیڑھ سال سے بند بارڈر کو جولائی میں تجارت کے لیے کھول دیا جائے گا جبکہ گوادر سے ایران ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے مختصر ترین راہداری کو بھی فعال کیا جا رہا ہے۔

محمد عیسیٰ

سوموار, جون 29, 2026 - 16:30

Main image:

یکم مارچ، 2026 کو تفتان بارڈر پر ایرانی کارگو ٹرک پاکستان میں داخل ہو رہا ہے (اے ایف پی)

معیشت

jw id:

f1F1KB7O

type:

video

related nodes:

محسن نقوی اور ایرانی ہم منصب میں ملاقات، سرحدی تجارت اور دیگر امور پر گفتگو

پاکستان بحریہ کا سمندری تجارت کے تحفظ کے لیے ’آپریشن محافظ البحر‘

پاکستان، قطری وزرائے اعظم کی ملاقات: تجارت، دفاع بڑھانے پر بات چیت

SEO Title:

پاکستان کا ایران کے ساتھ ڈیڑھ سال سے بند سرحد کھولنے کا اعلان

copyright:

show related homepage:

Hide from Homepage

Discussion in the ATmosphere

Loading comments...