{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiby57a7ufh47ombgdlfw7juj4zz3dpr4l5k3abxaxnakuiyday5mu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mphuf4p6i5a2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigutxbmxfwiigtyfj6ahhwguf6fizqn6e5ba5b37tie7d6577n7na"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 107147
  },
  "path": "/node/186556",
  "publishedAt": "2026-06-29T11:38:39.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "https://t.co/Us6tWQZod3",
    "pic.twitter.com/5hDGdKUspU",
    "August 3, 2025",
    "ایران جنگ",
    "پاکستان",
    "ایران",
    "تجارت",
    "بلوچستان",
    "گوادر",
    "محمد عیسیٰ",
    "معیشت",
    "video",
    "@indyurdu"
  ],
  "textContent": "**حکومت پاکستان نے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں ایران کے ساتھ ڈیڑھ سال سے بند سرحد کو اگلے ماہ یعنی جولائی میں تجارت کے لیے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔**\n\nاسی طرح گوادر سے ایران ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے مختصر ترین راہداری کو فعال کیا جا رہا ہے۔\n\nڈپٹی کمشنر کیچ یاسر اقبال دشتی نے میڈیا کو بریفنگ کے دوران بتایا کہ کیچ میں کراسنگ پوائنٹ کھولنے کے حوالے سے ایرانی حکام کے ساتھ اتفاق ہو گیا ہے اور جولائی میں جالگی بارڈر کراسنگ پوائنٹ سے باقاعدہ سرحدی تجارتی سرگرمیوں کا آغاز ہو جائے گا۔\n\nاس سلسلے میں چند تکنیکی امور کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ یاسر دشتی کے مطابق پاکستانی اور ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔\n\n> پاکستان اور ایران کا تجارتی حجم 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم\n>\n>  مزید تفصیلات: https://t.co/Us6tWQZod3 pic.twitter.com/5hDGdKUspU\n>\n> — Independent Urdu (@indyurdu) August 3, 2025\n\nانہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے سرحد بند تھی جس سے دونوں جانب کے عوام اور تاجروں کو معاشی مشکلات کا سامنا تھا۔\n\nانہوں نے کہا کہ تمپ میں سوراب بارڈر کراسنگ پوائنٹ بحال ہے، اسی طرح پنجگور میں جیرک کراسنگ پوائنٹ کو عارضی طور پر کھول دیا گیا ہے۔\n\nیاسر دشتی کے مطابق جیسے جیسے تجارت کا تسلسل وقت کے ساتھ جاری ہو جائے گا تو دیگر پوائنٹس کو کھولنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔\n\nگوادر پورٹ اتھارٹی (جی پی اے) نے ایران کے ساتھ ٹرانزٹ تجارت کے لیے سی جی او 05/2026 کے تحت رہنما ہدایات جاری کی ہیں، جن میں گوادر بندرگاہ سے گبد-ہمدان سرحدی گزرگاہ کے ذریعے ایران تک سامان کی ترسیل کے طریقہ کار اور دستیاب سہولتوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔\n\nہدایات کے مطابق یہ عمل قانونی تقاضوں اور کسٹمز کی نگرانی میں انجام دیا جائے گا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nگوادر بندرگاہ سے گبد سرحد تک فاصلہ 87 کلومیٹر ہے، جو ایران تک مال برداری کے لیے مختصر ترین زمینی راستہ ہے۔\n\nچیئرمین گوادر پورٹ اتھارٹی نور الحق بلوچ کے مطابق سامان کی نقل و حمل کے لیے کسٹمز کی متعدد سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جن میں ٹی ٹی آئی کارنیٹ سکیورٹی کے ساتھ ٹرانزٹ گڈز ڈیکلریشن اور کراس اسٹف طریقہ کار شامل ہیں۔\n\nنور الحق بلوچ کے مطابق اس اقدام سے تاجروں، درآمد کنندگان، ٹرانسپورٹروں، کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس اور گوداموں سے متعلق شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں کے لیے نئے تجارتی مواقع پیدا ہوں گے۔\n\nبلوچستان کے پانچ اضلاع کی سرحدیں ایران کے ساتھ ملتی ہیں، جن میں چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔\n\nضلع گوادر کی زمینی اور سمندری سرحد ایرانی بارڈر سے ملتی ہے، جبکہ تفتان، رمدان، گبد، جیرک، جالگی اور سوراب ایسے کراسنگ پوائنٹس ہیں جن کے ذریعے ایران اور پاکستان کے درمیان باقاعدہ تجارت ہوتی ہے۔\n\nماشکیل، گوادر، پنجگور، تفتان اور دیگر علاقوں کو ایران سے بجلی کی فراہمی بھی کی جاتی ہے۔\n\nبلوچستان کے اکثر لوگوں کی زندگی کا دار و مدار ایران بارڈر پر تجارت اور وہاں سے آنے والی اشیائے خوردونوش پر ہے۔ بارڈر بند ہونے کی صورت میں ان علاقوں میں معاشی مشکلات جنم لیتی ہیں۔\n\nایران جنگ\n\nپاکستان\n\nایران\n\nتجارت\n\nبلوچستان\n\nگوادر\n\nضلع کیچ میں ڈیڑھ سال سے بند بارڈر کو جولائی میں تجارت کے لیے کھول دیا جائے گا جبکہ گوادر سے ایران ٹرانزٹ ٹریڈ کے لیے مختصر ترین راہداری کو بھی فعال کیا جا رہا ہے۔\n\nمحمد عیسیٰ\n\nسوموار, جون 29, 2026 - 16:30\n\nMain image:\n\n> <p>یکم مارچ، 2026 کو تفتان بارڈر پر ایرانی کارگو ٹرک پاکستان میں داخل ہو رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\njw id:\n\nf1F1KB7O\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nمحسن نقوی اور ایرانی ہم منصب میں ملاقات، سرحدی تجارت اور دیگر امور پر گفتگو\n\nپاکستان بحریہ کا سمندری تجارت کے تحفظ کے لیے ’آپریشن محافظ البحر‘\n\nپاکستان، قطری وزرائے اعظم کی ملاقات: تجارت، دفاع بڑھانے پر بات چیت\n\nSEO Title:\n\nپاکستان کا ایران کے ساتھ ڈیڑھ سال سے بند سرحد کھولنے کا اعلان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پاکستان کا ایران کے ساتھ ڈیڑھ سال سے بند سرحد کھولنے کا اعلان"
}