کشیدگی کم کرنے کے لیے پاسداران انقلاب اور سینٹ کوم کا ایک ایک نمائندہ دوحہ میں موجود رہے گا: جے ڈی وینس
کشیدگی کم کرنے کے لیے پاسداران انقلاب اور سینٹ کوم کا ایک ایک نمائندہ دوحہ میں موجود رہے گا: جے ڈی وینس
امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو برطانوی ویب سائٹ unherd کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے براہِ راست رابطے کا ایک ذریعہ قائم کرنا واشنگٹن کے اہم مقاصد میں شامل تھا۔
ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا: ’جن چیزوں کا ہم حصول چاہتے تھے، ان میں سے ایک ایرانی فریق کے ساتھ ایسا رابطہ قائم کرنا تھا جس کے ذریعے تنازعات اور کشیدگی کو کم کیا جا سکے، اور ہم اس میں کامیاب رہے۔‘
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام نے تجویز دی کہ پاسدارانِ انقلاب کا ایک نمائندہ دوحہ میں موجود رہے اور امریکی مرکزی کمان کے ایک نمائندے کے ساتھ رابطے میں رہے تاکہ مختلف تنازعات اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس انتظام کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی بہت سی کشیدگیوں اور غلط فہمیوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
ایران کے خلاف کارروائی میں حصہ لیا، نہ امریکہ کو اپنے اڈے دیے: اطالوی وزیر خارجہ
اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے جمعرات کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو میں واضح کیا کہ اٹلی نے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی اقدام میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے لیے اپنے اڈوں کے استعمال کی اجازت دی۔
ایکس پر جاری بیان میں انتونیو تاجانی نے کہا کہ اٹلی کا یہ مؤقف امریکہ کے ساتھ معاہدوں کے مکمل احترام کے تحت اپنایا گیا ہے۔
تاجانی نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ وہاں پھنسے تمام اطالوی تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال ہو سکے۔
Ho parlato con il Ministro degli Esteri iraniano @araghchi. L’Italia non ha mai preso parte ad alcuna iniziativa militare e non ha mai autorizzato l’utilizzo delle basi per azioni di guerra contro l’Iran, nel rispetto più rigoroso dei trattati con gli Stati Uniti. Ho chiesto che… pic.twitter.com/9LC5ad7r9C
— Antonio Tajani (@Antonio_Tajani) June 25, 2026
انہوں نے کہا کہ تہران میں اطالوی سفارت خانے کا دوبارہ کھلنا مکالمے کا ایک مضبوط اشارہ ہے، جو اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کی بحالی کی جانب بھی اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
اطالوی وزیر خارجہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریبآبادی نے جمعرات کو ہی کہا تھا کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے وہ بیانات، جن میں ایران پر حملے کے لیے امریکہ کی جانب سے اٹلی اور رومانیہ کے اڈوں کے استعمال کا ذکر کیا گیا، ان ممالک کی بین الاقوامی ذمہ داری کو جنم دیتے ہیں۔
اظهارات دبیرکل ناتو درباره استفاده آمریکا از پایگاه های ایتالیا و رومانی در حمله به ایران، موجب مسئولیت بینالمللی این کشورهاست. طبق قطعنامه ۳۳۱۴ مجمع عمومی، در اختیارگذاشتن سرزمین توسط یک دولت در جهت استفاده دولت ثالث برای انجام تجاوز علیه کشور دیگر، اقدام تجاوز محسوب می شود.
— Gharibabadi (@Gharibabadi) June 25, 2026
ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کے مطابق اگر کوئی ریاست اپنی سرزمین کسی تیسرے ملک کو کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے تو اسے بھی جارحیت ہی تصور کیا جاتا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ کی مارکو روبیو سے ملاقات
سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے بحرین میں خلیجی تعاون کونسل اور امریکہ کے درمیان وزارتی اجلاس کے موقع پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔
#المنامة | سمو وزير الخارجية الأمير #فيصل_بن_فرحان @FaisalbinFarhan يلتقي معالي وزير خارجية الولايات المتحدة الأمريكية ماركو روبيو، وذلك على هامش الاجتماع الوزاري بين دول مجلس التعاون الخليجي والولايات المتحدة الأمريكية. pic.twitter.com/pbTLN1yo3K
— وزارة الخارجية (@KSAMOFA) June 25, 2026
ایران ہرمز پر ٹول عائد کرتا ہے تو ’مکمل افراتفری‘ کا خطرہ ہو گا
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرتا ہے تو یہ طرزِ عمل دیگر آبی گزرگاہوں تک بھی پھیل سکتا ہے، جس سے ’مکمل افراتفری‘ کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آبنائے ہرمز کا مستقبل، جو توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے اور جسے جنگ کے دوران ایران نے بند کر دیا تھا، تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم اختلافی نکتہ بن چکا ہے۔
مارکو روبیو نے مزید کہا: ’ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ مذاکراتی عمل کے دوران کیے جانے والے ہر فیصلے میں خطے میں موجود اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے مفادات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جائے۔‘
ان کے بقول: ’اس معاہدے کا کوئی بھی حصہ ایسا نہ ہو جو خلیجی خطے میں ہمارے کسی بھی شراکت دار کی سلامتی استحکام یا خوشحالی کو کسی بھی طرح نقصان پہنچائے۔ ہم معاہدہ تو چاہتے ہیں لیکن کسی اور کی قیمت پر نہیں۔‘
’ہم ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو اچھا ہو حقیقی ہو، جس کی تصدیق کی جا سکے اور جس پر عمل بھی کیا جائے۔ یہ نہایت اہم ہے کہ مذاکرات کے دوران طے پانے والے اور اس کے بعد ہونے والے تمام معاہدوں کی پاسداری کی جائے اور ان پر مکمل عمل درآمد ہو۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تہران کا کہنا ہے کہ وہ ٹول ٹیکس کے بجائے ’بحری خدمات کی فیس‘ عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے، اس لیے اس کے استعمال پر کوئی فیس نہیں لی جانی چاہیے۔
بحرین میں خلیجی تعاون کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا: ’بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی ایک ریاست کی ملکیت نہیں ہوتیں۔ آج کی دنیا میں یہ ایک بنیادی اصول ہے، جس کے بغیر دنیا مکمل افراتفری کا شکار ہو جائے گی۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ کوئی ملک صرف اس لیے کسی بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے استعمال پر فیس وصول کر سکتا ہے کہ وہ اس کی علاقائی حدود کے قریب واقع ہے، تو پھر یہ طرزِ عمل ایک وبا کی طرح پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔‘
امریکی وزیر خارجہ نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے، جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے جمعرات کو خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے کسی بھی قسم کی آمد و رفت بغیر اجازت قابلِ قبول نہیں ہوگی اور ہدایات پر عمل نہ کرنے والے جہازوں کے ساتھ ’نمٹا جائے گا۔‘
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا: ’آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے صرف وہی راستہ مجاز ہے جس کا اعلان اسلامی جمہوریہ ایران نے کیا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ بغیر اجازت کسی بھی قسم کی آمد و رفت ’ناقابلِ قبول اور انتہائی خطرناک‘ ہے۔
گذشتہ ہفتے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں یہ شرط شامل تھی کہ آئندہ 60 دن تک تجارتی جہاز اس آبنائے سے بغیر کسی فیس کے گزر سکیں گے، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے تناظر میں یہ واضح نہیں کہ اس مدت کے بعد کیا انتظامات نافذ ہوں گے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اپنے پہلے علاقائی دورے پر موجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ امن معاہدہ تو چاہتا ہے، لیکن ’کسی بھی قیمت پر نہیں۔‘
انہوں نے کہا: ’اگرچہ ہم ایک معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن ہم کسی بھی قیمت پر معاہدہ نہیں چاہتے۔ ہم ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو اچھا ہو، حقیقی ہو، اس کی تصدیق کی جا سکے اور اس پر عمل بھی کیا جائے۔‘
امریکی وزیر خارجہ، جو اپنے دورے کے دوران شدید حملوں سے متاثرہ متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کر چکے ہیں، نے یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ خلیجی ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا: ’ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اس معاہدے کا کوئی بھی حصہ ایسا نہ ہو جو کسی بھی طرح خلیجی خطے میں ہمارے شراکت داروں کی سلامتی، استحکام یا خوشحالی کو نقصان پہنچائے۔‘
آبنائے ہرمز
مارکو روبیو
امریکہ
ایران
ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے براہ راست رابطے کا ایک ذریعہ قائم کرنا واشنگٹن کے اہم مقاصد میں شامل تھا۔
اے ایف پی
جمعرات, جون 25, 2026 - 22:45
Main image:
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس 8 اپریل 2026 کو بوداپیسٹ میں میتھیاس کوروینس کولیجیئم میں اپنے دورے کے دوسرے دن خطاب کر رہے ہیں (اٹیلا کسبینیڈیک / اے ایف پی)
دنیا
type:
news
related nodes:
کیا آبنائے ہرمز کھلتے ہی سب کچھ فوراً معمول پر آ جائے گا؟
آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس نافذ کیا تو ایران سے معاہدہ ممکن نہیں ہوگا: مارکو روبیو
ایران سے جنگ بندی ختم نہیں ہوئی، آبنائے ہرمز پر لڑائی نہیں چاہتے: پیٹ ہیگستھ
آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو ادائیگی پر امریکہ کی وارننگ
SEO Title:
کشیدگی کم کرنے کے لیے پاسداران انقلاب اور سینٹ کوم کا ایک ایک نمائندہ دوحہ میں موجود رہے گا: جے ڈی وینس
copyright:
show related homepage:
Show on Homepage
Discussion in the ATmosphere