{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiatit62mrwrpw4hvf3xvz3cilkyykyuoivze54647yd5finrrqpcu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mp5jt3ljaqq2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiavit4j6dvwaaqcp2alyzkeegabsoc2axlmqsics4itrn65lukddi"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 73489
},
"path": "/node/186498",
"publishedAt": "2026-06-25T09:53:11.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"@araghchi",
"pic.twitter.com/9LC5ad7r9C",
"June 25, 2026",
"المنامة",
"فيصل_بن_فرحان",
"@FaisalbinFarhan",
"pic.twitter.com/pbTLN1yo3K",
"آبنائے ہرمز",
"مارکو روبیو",
"امریکہ",
"ایران",
"اے ایف پی",
"دنیا",
"news",
"@Antonio_Tajani",
"@Gharibabadi",
"@KSAMOFA"
],
"textContent": "**کشیدگی کم کرنے کے لیے پاسداران انقلاب اور سینٹ کوم کا ایک ایک نمائندہ دوحہ میں موجود رہے گا: جے ڈی وینس**\n\nامریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو برطانوی ویب سائٹ unherd کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے براہِ راست رابطے کا ایک ذریعہ قائم کرنا واشنگٹن کے اہم مقاصد میں شامل تھا۔\n\nویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا: ’جن چیزوں کا ہم حصول چاہتے تھے، ان میں سے ایک ایرانی فریق کے ساتھ ایسا رابطہ قائم کرنا تھا جس کے ذریعے تنازعات اور کشیدگی کو کم کیا جا سکے، اور ہم اس میں کامیاب رہے۔‘\n\nجے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام نے تجویز دی کہ پاسدارانِ انقلاب کا ایک نمائندہ دوحہ میں موجود رہے اور امریکی مرکزی کمان کے ایک نمائندے کے ساتھ رابطے میں رہے تاکہ مختلف تنازعات اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔\n\nانہوں نے کہا کہ اس انتظام کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی بہت سی کشیدگیوں اور غلط فہمیوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔\n\n* * *\n\n**ایران کے خلاف کارروائی میں حصہ لیا، نہ امریکہ کو اپنے اڈے دیے: اطالوی وزیر خارجہ**\n\nاطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے جمعرات کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فونک گفتگو میں واضح کیا کہ اٹلی نے ایران کے خلاف کسی بھی فوجی اقدام میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے لیے اپنے اڈوں کے استعمال کی اجازت دی۔\n\nایکس پر جاری بیان میں انتونیو تاجانی نے کہا کہ اٹلی کا یہ مؤقف امریکہ کے ساتھ معاہدوں کے مکمل احترام کے تحت اپنایا گیا ہے۔\n\nتاجانی نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ وہاں پھنسے تمام اطالوی تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال ہو سکے۔\n\n> Ho parlato con il Ministro degli Esteri iraniano @araghchi. L’Italia non ha mai preso parte ad alcuna iniziativa militare e non ha mai autorizzato l’utilizzo delle basi per azioni di guerra contro l’Iran, nel rispetto più rigoroso dei trattati con gli Stati Uniti. Ho chiesto che… pic.twitter.com/9LC5ad7r9C\n\n> — Antonio Tajani (@Antonio_Tajani) June 25, 2026\n\nانہوں نے کہا کہ تہران میں اطالوی سفارت خانے کا دوبارہ کھلنا مکالمے کا ایک مضبوط اشارہ ہے، جو اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کی بحالی کی جانب بھی اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔\n\nاطالوی وزیر خارجہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریبآبادی نے جمعرات کو ہی کہا تھا کہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل کے وہ بیانات، جن میں ایران پر حملے کے لیے امریکہ کی جانب سے اٹلی اور رومانیہ کے اڈوں کے استعمال کا ذکر کیا گیا، ان ممالک کی بین الاقوامی ذمہ داری کو جنم دیتے ہیں۔\n\n> اظهارات دبیرکل ناتو درباره استفاده آمریکا از پایگاه های ایتالیا و رومانی در حمله به ایران، موجب مسئولیت بینالمللی این کشورهاست. طبق قطعنامه ۳۳۱۴ مجمع عمومی، در اختیارگذاشتن سرزمین توسط یک دولت در جهت استفاده دولت ثالث برای انجام تجاوز علیه کشور دیگر، اقدام تجاوز محسوب می شود.\n\n> — Gharibabadi (@Gharibabadi) June 25, 2026\n\nایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 3314 کے مطابق اگر کوئی ریاست اپنی سرزمین کسی تیسرے ملک کو کسی دوسرے ملک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے تو اسے بھی جارحیت ہی تصور کیا جاتا ہے۔\n\n**سعودی وزیر خارجہ کی مارکو روبیو سے ملاقات**\n\nسعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے بحرین میں خلیجی تعاون کونسل اور امریکہ کے درمیان وزارتی اجلاس کے موقع پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی۔\n\n\n> #المنامة | سمو وزير الخارجية الأمير #فيصل_بن_فرحان @FaisalbinFarhan يلتقي معالي وزير خارجية الولايات المتحدة الأمريكية ماركو روبيو، وذلك على هامش الاجتماع الوزاري بين دول مجلس التعاون الخليجي والولايات المتحدة الأمريكية. pic.twitter.com/pbTLN1yo3K\n\n> — وزارة الخارجية (@KSAMOFA) June 25, 2026\n\n**ایران ہرمز پر ٹول عائد کرتا ہے تو ’مکمل افراتفری‘ کا خطرہ ہو گا**\n\nامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرتا ہے تو یہ طرزِ عمل دیگر آبی گزرگاہوں تک بھی پھیل سکتا ہے، جس سے ’مکمل افراتفری‘ کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آبنائے ہرمز کا مستقبل، جو توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے اور جسے جنگ کے دوران ایران نے بند کر دیا تھا، تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم اختلافی نکتہ بن چکا ہے۔\n\nمارکو روبیو نے مزید کہا: ’ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ مذاکراتی عمل کے دوران کیے جانے والے ہر فیصلے میں خطے میں موجود اپنے شراکت داروں اور اتحادیوں کے مفادات کو ہمیشہ مدنظر رکھا جائے۔‘\n\nان کے بقول: ’اس معاہدے کا کوئی بھی حصہ ایسا نہ ہو جو خلیجی خطے میں ہمارے کسی بھی شراکت دار کی سلامتی استحکام یا خوشحالی کو کسی بھی طرح نقصان پہنچائے۔ ہم معاہدہ تو چاہتے ہیں لیکن کسی اور کی قیمت پر نہیں۔‘\n\n’ہم ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو اچھا ہو حقیقی ہو، جس کی تصدیق کی جا سکے اور جس پر عمل بھی کیا جائے۔ یہ نہایت اہم ہے کہ مذاکرات کے دوران طے پانے والے اور اس کے بعد ہونے والے تمام معاہدوں کی پاسداری کی جائے اور ان پر مکمل عمل درآمد ہو۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nتہران کا کہنا ہے کہ وہ ٹول ٹیکس کے بجائے ’بحری خدمات کی فیس‘ عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے، اس لیے اس کے استعمال پر کوئی فیس نہیں لی جانی چاہیے۔\n\nبحرین میں خلیجی تعاون کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا: ’بین الاقوامی آبی گزرگاہیں کسی ایک ریاست کی ملکیت نہیں ہوتیں۔ آج کی دنیا میں یہ ایک بنیادی اصول ہے، جس کے بغیر دنیا مکمل افراتفری کا شکار ہو جائے گی۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’اگر ہم یہ تسلیم کر لیں کہ کوئی ملک صرف اس لیے کسی بین الاقوامی آبی گزرگاہ کے استعمال پر فیس وصول کر سکتا ہے کہ وہ اس کی علاقائی حدود کے قریب واقع ہے، تو پھر یہ طرزِ عمل ایک وبا کی طرح پوری دنیا میں پھیل جائے گا۔‘\n\nامریکی وزیر خارجہ نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے، جب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے جمعرات کو خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز سے کسی بھی قسم کی آمد و رفت بغیر اجازت قابلِ قبول نہیں ہوگی اور ہدایات پر عمل نہ کرنے والے جہازوں کے ساتھ ’نمٹا جائے گا۔‘\n\nپاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا: ’آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے صرف وہی راستہ مجاز ہے جس کا اعلان اسلامی جمہوریہ ایران نے کیا ہے۔‘\n\nبیان میں مزید کہا گیا کہ بغیر اجازت کسی بھی قسم کی آمد و رفت ’ناقابلِ قبول اور انتہائی خطرناک‘ ہے۔\n\nگذشتہ ہفتے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمتی یادداشت میں یہ شرط شامل تھی کہ آئندہ 60 دن تک تجارتی جہاز اس آبنائے سے بغیر کسی فیس کے گزر سکیں گے، تاہم ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے تناظر میں یہ واضح نہیں کہ اس مدت کے بعد کیا انتظامات نافذ ہوں گے۔\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اپنے پہلے علاقائی دورے پر موجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ امن معاہدہ تو چاہتا ہے، لیکن ’کسی بھی قیمت پر نہیں۔‘\n\nانہوں نے کہا: ’اگرچہ ہم ایک معاہدہ چاہتے ہیں، لیکن ہم کسی بھی قیمت پر معاہدہ نہیں چاہتے۔ ہم ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو اچھا ہو، حقیقی ہو، اس کی تصدیق کی جا سکے اور اس پر عمل بھی کیا جائے۔‘\n\nامریکی وزیر خارجہ، جو اپنے دورے کے دوران شدید حملوں سے متاثرہ متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کر چکے ہیں، نے یہ یقین دہانی بھی کروائی کہ خلیجی ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے گا۔\n\nانہوں نے کہا: ’ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اس معاہدے کا کوئی بھی حصہ ایسا نہ ہو جو کسی بھی طرح خلیجی خطے میں ہمارے شراکت داروں کی سلامتی، استحکام یا خوشحالی کو نقصان پہنچائے۔‘\n\nآبنائے ہرمز\n\nمارکو روبیو\n\nامریکہ\n\nایران\n\nایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کے لیے براہ راست رابطے کا ایک ذریعہ قائم کرنا واشنگٹن کے اہم مقاصد میں شامل تھا۔\n\nاے ایف پی\n\nجمعرات, جون 25, 2026 - 22:45\n\nMain image:\n\n> <p>امریکی نائب صدر جے ڈی وینس 8 اپریل 2026 کو بوداپیسٹ میں میتھیاس کوروینس کولیجیئم میں اپنے دورے کے دوسرے دن خطاب کر رہے ہیں (اٹیلا کسبینیڈیک / اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکیا آبنائے ہرمز کھلتے ہی سب کچھ فوراً معمول پر آ جائے گا؟\n\nآبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس نافذ کیا تو ایران سے معاہدہ ممکن نہیں ہوگا: مارکو روبیو\n\nایران سے جنگ بندی ختم نہیں ہوئی، آبنائے ہرمز پر لڑائی نہیں چاہتے: پیٹ ہیگستھ\n\nآبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو ادائیگی پر امریکہ کی وارننگ\n\nSEO Title:\n\nکشیدگی کم کرنے کے لیے پاسداران انقلاب اور سینٹ کوم کا ایک ایک نمائندہ دوحہ میں موجود رہے گا: جے ڈی وینس\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "کشیدگی کم کرنے کے لیے پاسداران انقلاب اور سینٹ کوم کا ایک ایک نمائندہ دوحہ میں موجود رہے گا: جے ڈی وینس"
}