External Publication
Visit Post

امریکہ، اسرائیل اور لبنان کے درمیان سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط

Independent Urdu [Unofficial] June 26, 2026
Source

امریکہ، اسرائیل اور لبنان کے درمیان سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط

امریکہ، اسرائیل اور لبنان نے جمعے کو سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ امریکہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک فریم ورک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

امریکہ، اسرائیل اور لبنان کے مذاکرات کاروں نے سفارتی مذاکرات کے پانچویں دور کے بعد سہ فریقی فریم ورک پر دستخط کیے ہیں۔


ایران کا آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر ڈرون حملہ سیزفائر کی خلاف ورزی ہے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کم از کم چار ڈرون داغے، جن میں سے ایک ڈرون ایک بڑے مال بردار جہاز کے بالائی حصے سے ٹکرا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج نے دیگر تین ڈرون مار گرائے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’یہ حملہ ایران کی جانب سے سیزفائر معاہدے کی بے وقوفانہ خلاف ورزی ہے۔‘


امریکی حکام کی تحویل سے رہائی پانے والے 22 ایرانی ملاح کراچی پہنچ گئے: اسحاق ڈار

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے روکے گئے بحری جہاز ’لینور ڈیوینا‘ کے 22 ایرانی ملاح جمعرات کی دوپہر بحفاظت کراچی پہنچ گئے ہیں۔

اسحاق ڈار نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان میں تعینات ایرانی سفارتی مشنز کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ان سیلرز کی جلد اور محفوظ وطن واپسی کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

I am pleased to share that twenty two (22) Iranian crew members of the vessel Lenore/Davina, recently interdicted by US authorities, have safely arrived in Karachi this afternoon, AlhamdoLilah.

Arrangements are now being finalised in close collaboration with the Iranian… https://t.co/wnxfUNhlmw

— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) June 26, 2026

انہوں نے کہا کہ اس پورے عمل کے دوران پاکستان، امریکہ اور ایران کے متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں رہا۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ کے مطابق گذشتہ دو ماہ کے دوران یہ ایرانی ملاحوں کا چوتھا گروپ ہے جس کی وطن واپسی میں پاکستان نے سہولت فراہم کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آج کراچی پہنچنے والے 22 ملاحوں سمیت اب تک 70 سے زائد ایرانی شہریوں کی پاکستانی سرزمین کے ذریعے وطن واپسی میں مدد کی جا چکی ہے۔

اسحاق ڈار نے ایرانی قیادت کی جانب سے پاکستان پر کیے گئے اعتماد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ اور دیگر پاکستانی اداروں کی پیشہ ورانہ خدمات کو بھی سراہا، جنہوں نے ایرانی شہریوں کی محفوظ اور ہموار وطن واپسی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کیا۔


جنگ کے بعد ایران میں ایٹمی مواد کی ’بہت ٹھوس‘ تصدیق ضروری: آئی اے ای اے

اقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے جمعے کو کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد ایران میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ’بہت ٹھوس‘ تصدیق نظام کی ضرورت ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہ کرے۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک وسیع تر معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں، جس میں تہران کا جوہری پروگرام ایک اہم نکتہ تنازع ہے۔

جاپان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رافیل گروسی نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ اس (حالیہ امریکہ۔ایران ابتدائی) معاہدے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کرے۔ ایرانی حکومت واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’لیکن صرف ارادے کافی نہیں ہوتے۔ ہمیں جلد از جلد ایک بہت ٹھوس تصدیقی اور نگرانی کا نظام قائم کرنا ہوگا۔‘

آئی اے ای اے کے سربراہ نے بتایا کہ ادارے نے امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے بعد ایران سے اس کے یورینیم کے ذخیرے کے مستقبل کے بارے میں بھی ’بمشکل ابتدائی‘ بات چیت شروع کی ہے۔

رافیل گروسی نے کہا: ’ابتدائی گفتگو ہو چکی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ یہ عمل جلد تیز ہو جائے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جنگ سے پہلے آئی اے ای اے نے اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا 440 کلوگرام (970 پاؤنڈ) یورینیم موجود تھا۔

یہ مقدار جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد افزودگی کے کافی قریب ہے اور 2015 کے اب غیر مؤثر ہو چکے معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد حد سے کہیں زیادہ ہے۔

جون 2025 میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے حملوں کے بعد ایران نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کر دیا تھا اور اس کے بعد سے ادارے کے معائنہ کاروں نے اس مواد کا مشاہدہ نہیں کیا۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی ابتدائی مفاہمتی یادداشت کے تحت اس ذخیرے کو آئی اے ای اے کی نگرانی میں کم افزودہ (ڈاؤن بلینڈ) کیا جانا ہے۔

رافیل گروسی نے کہا کہ عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ ذخیرہ اب بھی وہیں موجود ہے، جہاں جون 2025 سے پہلے ایران کی اصفہان تنصیب کے قریب رکھا گیا تھا۔

تاہم اصفہان کی یہ تنصیب بمباری کا نشانہ بن چکی ہے اور ایران نے کہا ہے کہ وہ آئی اے ای اے کو حملوں کا نشانہ بننے والی تنصیبات کا معائنہ کرانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

رافیل گروسی نے جمعے کو یہ بھی کہا کہ یورینیم کو کم افزودہ کرنے کے بجائے اسے ایران سے باہر منتقل کرنا بھی ایک متبادل ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’جیسا کہ آپ نے دیکھا ہوگا، مفاہمتی یادداشت میں ایک متبادل کے طور پر کم افزودگی کا امکان شامل ہے۔‘

جوہری ایجنسی کے سربراہ کے مطابق: ’اس مواد کو براہِ راست بیرونِ ملک بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ زیادہ پیچیدہ عمل ہو سکتا ہے، لیکن اس مواد سے نمٹنے کے لیے چند تکنیکی متبادل موجود ہیں۔‘

ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے، تاہم وہ پُرامن مقاصد کے لیے مکمل سول جوہری پروگرام چلانے کے اپنے حق پر بھی اصرار کرتا ہے۔

2025 کی 12 روزہ جنگ سے قبل، جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کنندہ ہونے کے ناطے ایران ویانا میں قائم آئی اے ای اے کے ساتھ اپنے حفاظتی معاہدے کے تحت جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دیتا تھا۔

ایران نے 2015 میں چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک تاریخی جوہری معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت پابندیوں میں نرمی کے بدلے اس کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔

آئی اے ای اے

جوہری مواد

ایران

امریکہ

امریکہ، اسرائیل اور لبنان نے جمعے کو سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔

اے ایف پی

جمعہ, جون 26, 2026 - 12:00

Main image:

امریکہ، اسرائیل اور لبنان کے درمیان سہ فریقی فریم ورک معاہدہ طے (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ/یوٹیوب)

دنیا

type:

news

related nodes:

ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کر لیا ہے: صدر ٹرمپ

’جوہری، میزائل صلاحیت‘ کو اثاثے کی طرح محفوظ رکھیں گے: ایران

جوہری تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا: ایرانی میڈیا

نطنز پر حملے کے بعد ایران کا اسرائیلی جوہری پروگرام والے شہر دیمونا پر میزائل حملہ

SEO Title:

امریکہ، اسرائیل اور لبنان کے درمیان سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط

copyright:

show related homepage:

Show on Homepage

Discussion in the ATmosphere

Loading comments...