{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiceqindzkudhnet3ll2pd2wokk6fwvbhp2z6vn6qw4m5o5fhuw5ya",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpaayzvoidt2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreie3reyu3trq646is7azgj7mti3fvwueiyxv52fkcfqmrqhybyxaq4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 72577
  },
  "path": "/node/186510",
  "publishedAt": "2026-06-26T07:09:17.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "https://t.co/wnxfUNhlmw",
    "June 26, 2026",
    "آئی اے ای اے",
    "جوہری مواد",
    "ایران",
    "امریکہ",
    "اے ایف پی",
    "دنیا",
    "news",
    "@MIshaqDar50"
  ],
  "textContent": "**امریکہ، اسرائیل اور لبنان کے درمیان سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط**\n\nامریکہ، اسرائیل اور لبنان نے جمعے کو سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔\n\nامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ امریکہ میں ہونے والے مذاکرات کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک فریم ورک معاہدہ طے پا گیا ہے۔\n\nامریکہ، اسرائیل اور لبنان کے مذاکرات کاروں نے سفارتی مذاکرات کے پانچویں دور کے بعد سہ فریقی فریم ورک پر دستخط کیے ہیں۔\n\n* * *\n\n**ایران کا آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر ڈرون حملہ سیزفائر کی خلاف ورزی ہے: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کم از کم چار ڈرون داغے، جن میں سے ایک ڈرون ایک بڑے مال بردار جہاز کے بالائی حصے سے ٹکرا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج نے دیگر تین ڈرون مار گرائے۔\n\n\n\n\nٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’یہ حملہ ایران کی جانب سے سیزفائر معاہدے کی بے وقوفانہ خلاف ورزی ہے۔‘\n\n* * *\n\n**امریکی حکام کی تحویل سے رہائی پانے والے 22 ایرانی ملاح کراچی پہنچ گئے: اسحاق ڈار**\n\nپاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکی حکام کی جانب سے روکے گئے بحری جہاز ’لینور ڈیوینا‘ کے 22 ایرانی ملاح جمعرات کی دوپہر بحفاظت کراچی پہنچ گئے ہیں۔\n\nاسحاق ڈار نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان میں تعینات ایرانی سفارتی مشنز کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ان سیلرز کی جلد اور محفوظ وطن واپسی کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔\n\n> I am pleased to share that twenty two (22) Iranian crew members of the vessel Lenore/Davina, recently interdicted by US authorities, have safely arrived in Karachi this afternoon, AlhamdoLilah.\n>\n>  Arrangements are now being finalised in close collaboration with the Iranian… https://t.co/wnxfUNhlmw\n\n> — Ishaq Dar (@MIshaqDar50) June 26, 2026\n\nانہوں نے کہا کہ اس پورے عمل کے دوران پاکستان، امریکہ اور ایران کے متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں رہا۔\n\nپاکستان کے وزیرِ خارجہ کے مطابق گذشتہ دو ماہ کے دوران یہ ایرانی ملاحوں کا چوتھا گروپ ہے جس کی وطن واپسی میں پاکستان نے سہولت فراہم کی ہے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ آج کراچی پہنچنے والے 22 ملاحوں سمیت اب تک 70 سے زائد ایرانی شہریوں کی پاکستانی سرزمین کے ذریعے وطن واپسی میں مدد کی جا چکی ہے۔\n\nاسحاق ڈار نے ایرانی قیادت کی جانب سے پاکستان پر کیے گئے اعتماد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ اور دیگر پاکستانی اداروں کی پیشہ ورانہ خدمات کو بھی سراہا، جنہوں نے ایرانی شہریوں کی محفوظ اور ہموار وطن واپسی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کیا۔\n\n* * *\n\n**جنگ کے بعد ایران میں ایٹمی مواد کی ’بہت ٹھوس‘ تصدیق ضروری: آئی اے ای اے**\n\nاقوامِ متحدہ کے جوہری نگران ادارے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ نے جمعے کو کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد ایران میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ’بہت ٹھوس‘ تصدیق نظام کی ضرورت ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار نہ کرے۔\n\nآئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک وسیع تر معاہدے پر مذاکرات کر رہے ہیں، جس میں تہران کا جوہری پروگرام ایک اہم نکتہ تنازع ہے۔\n\nجاپان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے رافیل گروسی نے کہا: ’میرا خیال ہے کہ اس (حالیہ امریکہ۔ایران ابتدائی) معاہدے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کرے۔ ایرانی حکومت واضح طور پر کہہ چکی ہے کہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’لیکن صرف ارادے کافی نہیں ہوتے۔ ہمیں جلد از جلد ایک بہت ٹھوس تصدیقی اور نگرانی کا نظام قائم کرنا ہوگا۔‘\n\nآئی اے ای اے کے سربراہ نے بتایا کہ ادارے نے امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے بعد ایران سے اس کے یورینیم کے ذخیرے کے مستقبل کے بارے میں بھی ’بمشکل ابتدائی‘ بات چیت شروع کی ہے۔\n\nرافیل گروسی نے کہا: ’ابتدائی گفتگو ہو چکی ہے اور ہمیں توقع ہے کہ یہ عمل جلد تیز ہو جائے گا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nجنگ سے پہلے آئی اے ای اے نے اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ کیا گیا 440 کلوگرام (970 پاؤنڈ) یورینیم موجود تھا۔\n\nیہ مقدار جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد افزودگی کے کافی قریب ہے اور 2015 کے اب غیر مؤثر ہو چکے معاہدے میں مقرر کردہ 3.67 فیصد حد سے کہیں زیادہ ہے۔\n\nجون 2025 میں اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے حملوں کے بعد ایران نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون معطل کر دیا تھا اور اس کے بعد سے ادارے کے معائنہ کاروں نے اس مواد کا مشاہدہ نہیں کیا۔\n\nتہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والی ابتدائی مفاہمتی یادداشت کے تحت اس ذخیرے کو آئی اے ای اے کی نگرانی میں کم افزودہ (ڈاؤن بلینڈ) کیا جانا ہے۔\n\nرافیل گروسی نے کہا کہ عمومی تاثر یہی ہے کہ یہ ذخیرہ اب بھی وہیں موجود ہے، جہاں جون 2025 سے پہلے ایران کی اصفہان تنصیب کے قریب رکھا گیا تھا۔\n\nتاہم اصفہان کی یہ تنصیب بمباری کا نشانہ بن چکی ہے اور ایران نے کہا ہے کہ وہ آئی اے ای اے کو حملوں کا نشانہ بننے والی تنصیبات کا معائنہ کرانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔\n\nرافیل گروسی نے جمعے کو یہ بھی کہا کہ یورینیم کو کم افزودہ کرنے کے بجائے اسے ایران سے باہر منتقل کرنا بھی ایک متبادل ہو سکتا ہے۔\n\nانہوں نے کہا: ’جیسا کہ آپ نے دیکھا ہوگا، مفاہمتی یادداشت میں ایک متبادل کے طور پر کم افزودگی کا امکان شامل ہے۔‘\n\nجوہری ایجنسی کے سربراہ کے مطابق: ’اس مواد کو براہِ راست بیرونِ ملک بھی بھیجا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ زیادہ پیچیدہ عمل ہو سکتا ہے، لیکن اس مواد سے نمٹنے کے لیے چند تکنیکی متبادل موجود ہیں۔‘\n\nایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے، تاہم وہ پُرامن مقاصد کے لیے مکمل سول جوہری پروگرام چلانے کے اپنے حق پر بھی اصرار کرتا ہے۔\n\n2025 کی 12 روزہ جنگ سے قبل، جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کنندہ ہونے کے ناطے ایران ویانا میں قائم آئی اے ای اے کے ساتھ اپنے حفاظتی معاہدے کے تحت جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دیتا تھا۔\n\nایران نے 2015 میں چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ ایک تاریخی جوہری معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت پابندیوں میں نرمی کے بدلے اس کے جوہری پروگرام پر پابندیاں عائد کی گئی تھیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔\n\nآئی اے ای اے\n\nجوہری مواد\n\nایران\n\nامریکہ\n\nامریکہ، اسرائیل اور لبنان نے جمعے کو سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔\n\nاے ایف پی\n\nجمعہ, جون 26, 2026 - 12:00\n\nMain image:\n\n> <p>امریکہ، اسرائیل اور لبنان کے درمیان سہ فریقی فریم ورک معاہدہ طے (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ/یوٹیوب)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کر لیا ہے: صدر ٹرمپ\n\n’جوہری، میزائل صلاحیت‘ کو اثاثے کی طرح محفوظ رکھیں گے: ایران\n\nجوہری تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا: ایرانی میڈیا\n\nنطنز پر حملے کے بعد ایران کا اسرائیلی جوہری پروگرام والے شہر دیمونا پر میزائل حملہ\n\nSEO Title:\n\nامریکہ، اسرائیل اور لبنان کے درمیان سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "امریکہ، اسرائیل اور لبنان کے درمیان سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر دستخط"
}