{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreif37llejkutsy7eqsvey4xoqqj4gjl2uyncdp2xeqatxs2x5oxpv4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3motplzardck2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreifxsbaufjtjawu4u46pqstn4mnmafpjirolco2cih4jabiuw5pyw4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 60713
  },
  "path": "/node/186432",
  "publishedAt": "2026-06-21T11:50:25.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "June 21, 2026",
    "ایران جنگ",
    "امریکہ",
    "اسلام آباد امن معاہدہ",
    "سوئٹزرلینڈ",
    "مذاکرات",
    "قطر",
    "سعودی عرب",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news",
    "@mb_ghalibaf"
  ],
  "textContent": "**امریکی اپنے بیانات میں احتیاط کریں، ہماری افواج جواب دینے کو تیار ہیں: باقر قالیباف**\n\nایران کے سپیکر پارلیمنٹ اور سوئٹزرلینڈ میں موجود مذاکراتی ٹیم کے سربراہ باقر قالیباف نے ایکس پر کہا کہ امریکیوں کو ’اپنے بیانات میں احتیاط کرنی چاہیے، ہماری مسلح افواج ہر طرح سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہم امریکیوں کی دھمکیوں کو کسی حیثیت میں شمار نہیں کرتے۔‘\n\n> با خودشان فکر نمی‌کنند که اگر تهدیدهایشان نتیجه‌ای داشت، به استیصال امروز نمی‌رسیدند؟ ما تهدیدهای آمریکایی‌ها را به جایی حساب نمی‌کنیم.\n>  بهتر است مراقب اظهارنظرهای خود باشند، نیروهای مسلح ما آماده‌اند تا به نحوی دیگر پاسخشان را بدهند. هر چه حرف بزنند، این ماییم که عمل می‌کنیم.\n>\n> — محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) June 21, 2026\n\nبعد ازاں ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے مذاکراتی ٹیم کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایرانی وفد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مذاکراتی مقام سے واک آؤٹ کر دیا۔\n\nتسنیم نے مزید رپورٹ کیا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے صدور کے درمیان دستخط شدہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے آرٹیکل 1 پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو ایران اور امریکہ کے درمیان دیگر تمام موضوعات پر ہونے والے مذاکرات روک دیے جائیں گے۔\n\n* * *\n\n**ایرانی وفد کا امریکی وفد کے ساتھ مشترکہ تصویر سے انکار: تسنیم نیوز ایجنسی**\n\nایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے آغاز سے قبل ایرانی وفد نے امریکی وفد کے ساتھ مشترکہ تصویر بنوانے سے انکار کر دیا۔\n\nایرانی خبر رساں ادارے تسنیم مذاکراتی ٹیم سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک سورس کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی وفد اور مذاکراتی اجلاس کے منتظمین نے کثیر فریقی اجلاس کے آغاز پر ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مصافحے اور مشترکہ گروپ فوٹو کا انتظام کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔\n\n’ایرانی مذاکراتی وفد کے سربراہ اور ٹیم کے دیگر ارکان نے ان پروٹوکول انتظامات پر اعتراض کیا اور واضح کر دیا کہ وہ امریکی وفد کے ساتھ تصویری تقریب میں شریک نہیں ہوں گے۔‘\n\n’ایرانی وفد کی عدم شرکت کے باعث براہِ راست نشریات اور تصویری تقریب ایرانی نمائندوں کے بغیر ہی منعقد کی گئی، جس کے بعد ایرانی وفد اجلاس کے مقام پر پہنچا۔‘\n\nذرائع کے مطابق بعد ازاں امریکی وفد نے ایرانی وفد سے درخواست کی کہ صحافیوں کو مذاکراتی مقام سے نکلنے کے لیے پانچ منٹ کا وقت دیا جائے۔\n\nیہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنیوا میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد اور دیگر اہم معاملات پر مذاکرات جاری ہیں۔\n\n* * *\n\n**آبنائے ہرمز بند رکھی تو اپنے ملک تک واپس بھی نہیں پہنچ سکو گے: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ نہ کھولا تو امریکہ اس اہم آبی گزرگاہ پر قبضہ بھی کر سکتا ہے۔\n\nفوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے رات کے وقت ایرانی حکام سے بات کی اور انہیں خبردار کیا کہ ’اگر تم آبنائے ہرمز بند کرو گے تو تمہارا ملک نہیں رہے گا۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ایرانی حکام کو بتایا گیا کہ ’تم اپنے ملک تک واپس بھی نہیں پہنچ سکو گے۔‘\n\nصدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کا ’نگہبان‘ بن سکتا ہے اور وہاں سے گزرنے والے تیل میں 20 فیصد حصہ بھی لے سکتا ہے۔\n\nان کے بقول ’اگر ضرورت پڑی تو ہم آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیں گے۔ اگر ایران معاہدے پر عمل نہیں کرتا تو ہم وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول بھی وصول کریں گے۔‘\n\n31 دسمبر، 2022 کو ایرانی بحریہ آبنائے ہرمز کے قریب مشقوں میں حصہ لے رہی ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nایران کے ساتھ طے پانے والے حالیہ مفاہمتی معاہدے کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس 60 روز کا اختیار موجود ہے اور اس مدت کے بعد وہ جو چاہیں فیصلہ کر سکتے ہیں۔\n\nانہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں گذشتہ روز خلیج فارس سے ایک کروڑ 90 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کیا گیا۔\n\nایرانی صدر مسعود پزشکیان کے اس بیان پر کہ ایران یورینیم افزودگی کا حق ترک نہیں کرے گا، ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’انہیں اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہیے۔ اگر انہوں نے رویہ نہ بدلا تو ہم باقی ملک پر بھی قبضہ کر لیں گے۔‘\n\nلبنان کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس بات پر مایوس ہیں کہ اسرائیل حزب اللہ کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکا۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’اسرائیل عمارتیں گرائے بغیر کچھ نہیں کر سکتا۔ میں اس معاملے کو شام کے حوالے کرنے کے قریب ہوں کیونکہ وہ زیادہ درست انداز میں کارروائی کرے گا۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ توجہ کا مرکز ایران ہونا چاہیے اور جب ایران کا معاملہ حل ہو جائے گا تو خطے کے کئی دیگر مسائل بھی خود بخود حل ہونے لگیں گے۔\n\n* * *\n\n**ایران نے لبنان میں پراکسی گروپس کو نہ روکا تو مزید سخت کارروائی کریں گے: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا ہے کہ ایران کو فوری طور پر لبنان میں اپنے ’پراکسی گروپس‘ کو مشکلات پیدا کرنے سے روکنا چاہیے۔\n\n\n\n\nانہوں نےکہا کہ اگر ایران نے ایسا نہ کیا تو امریکہ ایران کو دوبارہ سخت نشانہ بنائے گا اور یہ کارروائی گزشتہ ہفتے کی نسبت بھی زیادہ سخت ہوگی۔\n\nامریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں اور مفاہمتی اقدامات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی توقعات ظاہر کی جا رہی ہیں۔\n\n* * *\n\n**امریکہ اور ایران امن و خوشحالی کے فروغ کے لیے مل کر کام کریں گے: جے ڈی وینس**\n\nامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اتوار کو سوئٹزرلینڈ میں کہا ہے کہ امریکہ اور ایران مستقبل میں مل کر امن اور خوشحالی کے فروغ کے لیے کام کریں گے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کیا جا رہا ہے۔\n\nمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران خطے میں عدم استحکام کا ایک اہم سبب رہا ہے، تاہم گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران ہونے والی پیش رفت انتہائی اہم اور حوصلہ افزا رہی ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ اب دونوں ممالک ایک ایسے مستقبل کو دیکھ رہے ہیں جہاں سب مل کر امن اور خوشحالی کے فروغ کے لیے کام کر سکیں گے۔\n\nامریکی نائب صدر کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہدایت کی ہے کہ ایران کے عوام کے ساتھ تعلقات کو نئی بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے ایک نیا باب شروع کیا جائے۔\n\nجے ڈی وینس نے کہا کہ امریکہ ایران کے عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو تبدیل کرنے اور باہمی تعاون کے نئے امکانات پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔\n\n* * *\n\n**سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی ثالثی میں امریکہ ایران مذاکرات کا آغاز ہو گیا: وزارت خارجہ قطر**\n\nقطر کی وزارت خارجہ نے اتوار کی سہ پہر کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں لیک لوسیرن سربراہی اجلاس کی سرگرمیوں اور اعلیٰ سطحی کمیٹی کے پہلے اجلاس کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں امریکہ، ایران، پاکستان اور قطر سمیت اہم فریقین کے نمائندے شریک ہیں۔\n\nقطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب، ترکی، مصر، متحدہ عرب امارات اور دیگر برادر و دوست ممالک کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کوششوں سے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سازگار ماحول میسر آیا نیز ’یہ مذاکرات اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں شامل تمام امور کا احاطہ کرنے والے ایک جامع اور مستقل معاہدے تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔‘\n\nقطری وزیراعظم کے مشیر اور وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد بن محمد الانصاری کے مطابق حتمی معاہدے کی شقوں پر بات چیت کے لیے خصوصی فنی اور تکنیکی گروپس تشکیل دے دیے گئے ہیں جبکہ عملدرآمد کی نگرانی اور پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے فالو اپ گروپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے کہا کہ یہ اقدامات تمام فریقین کے اس عزم کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک جامع اور پائیدار معاہدے تک پہنچنا چاہتے ہیں۔\n\nڈاکٹر ماجد بن محمد الانصاری کا کہنا تھا کہ قطر، پاکستان اور دیگر متعلقہ ممالک کے ساتھ مل کر مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھے گا، کیونکہ تنازعات کے حل کے لیے مکالمہ اور سفارت کاری کو ہی مؤثر راستہ سمجھا جاتا ہے۔\n\nانہوں نے اس عمل میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے ایک اہم شراکت دار اور ثالث قرار دیا جبکہ امریکہ اور ایران کے سفارتی حل کے عزم کا بھی خیرمقدم کیا۔\n\nایران جنگ\n\nامریکہ\n\nاسلام آباد امن معاہدہ\n\nسوئٹزرلینڈ\n\nمذاکرات\n\nقطر\n\nسعودی عرب\n\nباقر قالیباف نے اتوار کو ایکس پر کہا ہے کہ امریکیوں کو ’اپنے بیانات میں احتیاط کرنی چاہیے، ہماری مسلح افواج ہر طرح سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔‘\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, جون 21, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p>ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف 21  جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے آ رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ سے آج مذاکرات میں لبنان بنیادی موضوع ہو گا: ایران\n\nوزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے\n\nآبنائے ہرمز پھر بند، امریکہ - ایران مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں\n\nامریکہ-ایران معاہدہ اور پاکستان کا اصل کردار\n\nSEO Title:\n\nامریکی اپنے بیانات میں احتیاط کریں، ہماری افواج جواب دینے کو تیار ہیں: باقر قالیباف\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "امریکی اپنے بیانات میں احتیاط کریں، ہماری افواج جواب دینے کو تیار ہیں: باقر قالیباف"
}