دفاعی بجٹ 3000 ارب روپے، تنخواہ داروں کے ٹیکس میں کمی: وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعے کو بجٹ 2026-2027 قومی اسمبلی میں پیش کیا جس میں دفاع کے لیے 3000 ارب روپے جب کہ تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں کمی کی تجویز دی گئی۔
قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران محمد اورنگزیب نے حکومتی اتحادی جماعتوں کی قیادت بالخصوص نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور خالد حسین مگسی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان عالمی سطح پر ایک مستحکم اور باوقار ملک کے طور پر ابھرا ہے۔
دفاعی اخراجات کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تجاویز میں بتایا کہ سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر حکومت نے مالیاتی سال 27-2026 کے بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے مجموعی طور پر 2,450 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
انہوں نے بجٹ تقریر کے بالکل آغاز (پہلے ہی حصے) میں بتایا کہ گذشتہ برس مئی میں جب ’انڈین جارحیت‘ کو پاکستان کی جانب سے منہ توڑ جواب ملا تو پاکستان نے اپنے دفاع کو مزید موثر بنانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے کہا انڈیا کے خلاف کامیاب دفاعی کارروائی کی بدولت ملکی دفاعی صنعت، بالخصوص پاکستان کے تیار کردہ فورتھ جنریشن فائٹر جیٹس کی دنیا بھر میں ساکھ مضبوط ہوئی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سفارتی کامیابیاں اور دفاعی خود مختاری
محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان نے عالمی سیاست میں ایک ایماندار ثالث کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔
انہوں نے کہا پاکستان کی کاوشوں سے امریکہ اور ایران ’اسلام آباد امن مذاکرات‘ کے ذریعے ایک میز پر بیٹھے، جس کا مقصد خطے میں مستقل امن کا قیام اور آبنائے ہرمز سے تیل کی بلا تعطل سپلائی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ایک باضابطہ سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ کو بھی سراہتے ہوئے پاکستان کے لیے بڑی ذمہ داری قرار دیا۔
محمد اورنگزیب کے مطابق چین کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں پر پہنچایا گیا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔
انکم ٹیکس ریلیف
بجٹ تقریر کے مطابق حکومت نے آمدنی کی چار سلیبز کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جو تنخواہ دار 22 سے 32 لاکھ روپے کے درمیان سالانہ کماتے ہیں، ان کے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
32 سے 41 لاکھ روپے کے درمیان آمدن والے تنخواہ داروں کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
41 سے 56 لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کی تجویز ہے۔
اسی طرح 56 سے 70 لاکھ روپے تک تنخواہ حاصل کرنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’تنخواہ پر عائد ٹیکس کی شرحوں میں کمی کے علاوہ ہم نے ایک اور اہم ریلیف قدم اٹھاتے ہوئے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
سپر ٹیکس کی شرح میں کمی
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ان کی حکومت نے کاروبار سے 15 کروڑ روپے سے 50 کروڑ روپے تک کی آمدنی کی چھ سلیبز پر عائد سپر ٹیکس جو ایک فیصد سے لے کر ساڑھے سات فیصد کی سطح تک تھا، کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
’اسی طرح 50 کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے آٹھ فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
’اس اقدام کا مقصد چھوٹے کاروبار اور صنعتوں کو فروغ دینے کے علاوہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ تاہم بینکوں، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور فرٹیلائزر (کھاد) کمپنیوں پر موجودہ سرچارج برقرار رہے گا۔‘
کریڈٹ، ڈیبٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں بینکوں کے جاری کردہ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے بیرونِ ملک استعمال پر ہر ٹرانزیکشن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔
’اس ٹیکس کی وجہ سے رقم کی منتقلی کے لیے غیر روایتی ذرائع کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے جس کی حوصلہ شکنی کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی اس شرح کو 0.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے تاکہ اسے معمول کی فنانشل ٹرانزیکشن کی سطح پر لایا جا سکے اور معیشت کو دستاویزی بنانے کی حکومتی کوششوں کو تقویت مل سکے۔‘
وفاقی حکومت کے اخراجات
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11,751 ارب روپے ہو گی جبکہ کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ہے، جس میں سے 8,054 ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے۔
اسی طرح وفاق کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 1,000 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کے جاری اخراجات کا تخمینہ 17,495 ارب روپے ہے۔ ملکی دفاع حکومت کی اہم ترین ترجیح ہے۔ اس قومی فرض کے لیے 3,000 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔
اسی طرح سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,071 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں اور پینشن کے اخراجات کے لیے 1,169 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
تنخواہیں اور پینشن
محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد جبکہ سابق ملازمین کی پینشن میں بھی اتنا ہی اضافہ تجویز کیا ہے۔
مزدور کی کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
صحت
بجٹ میں صحت کے منصوبوں کے لیے 25.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
خواتین کی صحت کے لیے ضروری اشیا پر ٹیکس کا خاتمہ خواتین کی صحت کے لیے ضروری اشیا مثلاً سینیٹری پیڈز اور متعلقہ اشیا پر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز ہے۔
خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مانع حمل وسائل پر عائد ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
Earning-Class-Slabs.png, by farrukh.abbas
کاروں پر ٹیکس
محمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ وہ درآمد کی جانے والی کاروں اور 2000cc سے بڑی اور 3000cc تک کی ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر رہے ہیں۔
’3000cc سے بڑی گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی بڑھا رہے ہیں۔ اس ٹیکس کا اطلاق دو کروڑ سے مہنگی لگژری ای وی پر بھی ہوگا۔‘
غیر ملکی سفر پر ڈیوٹی ختم
انہوں نے بتایا کہ بزنس کلاس میں غیر ملکی سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو ختم کرنے کی تجویز ہے۔
صحت کی سہولیات
انہوں نے بتایا کہ حکومت نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت ایک نپی تلی اور مؤثر علاج کی سہولت متعارف کرا رہی ہے، جس کے ذریعےکینسر اور دیگر بیماریوں کی ادویات کی مقامی تیاری میں استعمال ہونے والے ایک سو سے زائد اقسام کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔
تیل کی عالمی قیمتیں اور پٹرولیم سبسڈی
انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کی کشیدگی کے باعث بین الاقوامی منڈی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے سے عوام کو بچانے کے لیے حکومت نے 128 ارب روپے کی عمومی پٹرولیم سبسڈی فراہم کی۔ جبکہ صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے غریب اور مستحق طبقات کے لیے ٹارگٹڈ پٹرولیم سبسڈی کا ایک مربوط اور شفاف نظام کامیابی سے نافذ کیا گیا۔
ملکی معیشت کا جائزہ
بجٹ تقریر میں ملکی معیشت کی بحالی کے حوالے سے درج ذیل اہم ترین اعداد و شمار پیش کیے گئے جو درج ذیل ہیں۔
اقتصادی شرح نمو: سیلاب کی تباہ کاریوں اور عالمی بحرانوں کے باوجود ملکی معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
بڑی صنعتوں کی پیداوار: لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 6.1 فیصد کی نمایاں ترقی ہوئی جو گذشتہ چار بلند ترین سطح ہے۔
اسی طرح خدمات کے شعبے نے 4.1 فیصد کی شرح سے ترقی کی جبکہ معیشت کا کل حجم 452 ارب ڈالر کی تاریخی سطح تک پہنچ گیا۔
محمد اورنگزیب کے مطابق فی کس آمدنی گذشتہ سال کے 1,751 ڈالر سے بڑھ کر 1,901 ڈالر ہو گئی۔
وزیر خزانہ کے مطابق سٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 22 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر اب 11.5 فیصد پر آ گیا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر تین سال قبل جو ذخائر چار ارب ڈالر سے بھی کم تھے، وہ اب بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جو تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
ترسیلات زر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال کی مجموعی ترسیلات زر (38 ارب ڈالر) کے مقابلے میں، رواں سال کے صرف پہلے 11 مہینوں میں ہی 38 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں اور مالی سال کے اختتام تک یہ ملکی تاریخ کے سب سے بلند ترین حجم یعنی 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
مالیاتی نظم و ضبط اور ٹیکس اصلاحات
بجٹ تقریر کے مطابق حکومت کی ٹیکس اصلاحات کی بدولت ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب 8.5 فیصد سے بڑھ کر اب 10.3 فیصد ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی طرح مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 7.8 فیصد تھا، جسے موجودہ مالی سال کے اختتام تک کم کر کے چار فیصد پر لایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح مالی سال 23-2022 کے 8.5 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہو گئی، جبکہ مالیاتی خسارہ جون 2023 کے 7.8 فیصد سے کم ہو کر موجودہ مالی سال کے اختتام تک 4 فیصد تک لایا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق ایف بی آر اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس وصولی 7,200 ارب روپے سے بڑھ کر 13,000 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ پروڈکشن مانیٹرنگ نظام 27 سیمنٹ فیکٹریوں اور 75 شوگر ملوں پر نافذ کیا گیا جس سے 61 ارب روپے اضافی ٹیکس متوقع ہے، جبکہ 840 ہائی رسک کیسز سے 34 ارب روپے کے محصولات کی نشاندہی ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مالی شمولیت کے لیے پانچ سکیمیں متعارف کروائیں جن میں 750,000 کسانوں کو 300 ارب روپے کے بلا ضمانت قرضے، کم لاگت ہاؤسنگ سکیم، ای بائیکس و رکشہ فنانسنگ، توانائی بچت پروگرام اور 7.1 ارب روپے کی ایگری سٹوریج سکیم شامل ہیں۔
ان کے مطابق پرائمری بیلنس 0.7 فیصد خسارے سے بڑھ کر 1.6 فیصد سرپلس ہو گیا، یعنی 2.3 فیصد بہتری آئی۔ افراطِ زر 23.4 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد رہی، جبکہ رواں سال اوسط مہنگائی تقریباً 7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ مالی سال میں افراط زر جو 23.4 فیصد پر تھی، وہ کم ہو کر 4.5 فیصد پر آگئی۔
ان کے مطابق رواں برس جنگی صورت حال کے باوجود افراط زر کی اوسط شرح سات فیصد رہنے کی توقع ہے جو اصل بجٹ تخمینے (7.5 فیصد) سے بھی کم ہے۔
تعمیراتی شعبہ
وزیر خزانہ نے بتایا کہ جائیداد کی منتقلی پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کو معقول بناتے ہوئے فائلرز کے لیے خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
کارپوریٹ سیکٹر، انٹرنیشنل بانڈز اور سرمایہ کاری
انہوں نے کہا کہ پاکستان 2022 کے بعد دوبارہ عالمی مالیاتی مارکیٹ میں داخل ہوا اور 750 ملین ڈالر کا یورو بانڈ کامیابی سے جاری کیا۔
اس کے ساتھ ساتھ پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ پر ملکی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ محض 2.5 فیصد مارک اپ پر جاری کیا گیا، جس کی طلب مارکیٹ میں پیشکش سے پانچ گنا زیادہ دیکھی گئی۔
کارپوریٹ سیکٹر کے منافعے میں جنوری تا مارچ 2026 کے دوران پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 22 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ سٹاک ایکسچینج میں پچھلے ایک سال میں ایک لاکھ 73 ہزار (173,000) نئے سرمایہ کار شامل ہوئے۔
ایس ای سی پی میں 39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں اور اس سال 11 کمپنیوں کے آئی پی اوز (IPOs) مارکیٹ میں آئے۔
بجٹ تقریر کے مطابق حکومت کی جانب سے قائم کردہ خصوصی ٹیکنالوجی زونز میں 250 سے زائد نئی کمپنیوں نے کام شروع کیا، جس سے 25 ہزار سے زائد آئی ٹی پروفیشنلز کو روزگار کے مواقع ملے۔
نجکاری پروگرام کی کامیابیاں
محمد اورنگزیب نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ نجکاری کے شعبے میں حکومت نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دہائیوں پرانے ایجنڈے کو پورا کیا۔
ان کے مطابق ’23 دسمبر 2025 کو مکمل شفافیت کے ساتھ براہ راست ٹی وی نشریات کے ذریعے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجی شعبے کو منتقلی 185 ارب روپے کے عوض مکمل کی گئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فرسٹ وومن بینک اور پی آئی اے کے بعد اگلے پانچ سالوں میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)، بجلی پیدا کرنے والے اداروں (جینکوز)، بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کی نجکاری کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے کے تحت تین ڈسکوز کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی کے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔
ان کے مطابق سٹاک ایکسچینج میں 173,000 نئے سرمایہ کار شامل ہوئے اور 11 آئی پی اوز جاری کیے گئے۔ ایس ای سی پی میں 39 ہزار نئی کمپنیوں کا اندراج ہوا اور ٹیکنالوجی زونز میں 250 سے زائد کمپنیوں نے سرمایہ کاری کی جس سے 25 ہزار ملازمتیں پیدا ہوئیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے مالی شمولیت کے لیے پانچ سکیمیں متعارف کروائیں جن میں 750,000 کسانوں کو 300 ارب روپے کے بلا ضمانت قرضے، کم لاگت ہاؤسنگ سکیم، ای بائیکس و رکشہ فنانسنگ، توانائی بچت پروگرام اور 7.1 ارب روپے کی ایگری سٹوریج سکیم شامل ہیں۔
ان کے مطابق ڈیجیٹل معیشت میں پیش رفت کے تحت 1.67 ملین تاجر ڈیجیٹل پیمنٹ سے منسلک ہوئے، ڈیجیٹل صارفین 95 ملین سے بڑھ کر 133 ملین ہو گئے اور سالانہ ٹرانزیکشنز 6.9 ارب سے بڑھ کر 10.1 ارب ہو گئیں، جبکہ 92 فیصد ترسیلات بینکنگ چینلز سے آئیں۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ نوجوانوں کے لیے 515,000 افراد کو فنی تربیت دی گئی جن میں سے 53 فیصد کو روزگار ملا، جبکہ یوتھ لون سکیم کے تحت 258 ارب روپے تقسیم کیے گئے جس سے 534,000 نوجوان مستفید ہوئے۔
ان کے مطابق برآمدات کے فروغ کے لیے 0.25 فیصد سرچارج ختم، ایکسپورٹ فنانس مارک اپ 19 فیصد سے کم کر کے 4.5 فیصد کیا گیا اور سہولت کی مدت 9 ماہ سے بڑھا کر 18 ماہ کر دی گئی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا، ٹیکس نظام کو شفاف بنانا، سرمایہ کاری بڑھانا اور نوجوانوں کو معاشی عمل میں شامل کرنا ہے۔
شاہراہوں، ریل اور بندرگاہیں
انہوں نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام 27-2026 میں نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے سب سے زیادہ 365 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
’اس میں کراچی کو چمن سے جوڑنے والی بلوچستان کی اہم ترین شاہراہ N-25 پاکستان ایکسپریس وے کو دو رویہ کرنے کے لیے 100 ارب روپے کی رقم سرفہرست ہے۔
’اسی طرح شمال۔جنوب موٹروے نیٹ ورک کی تکمیل کے لیے ایم سکس (سکھر۔حیدرآباد موٹروے) پر 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی جبکہ اے ڈی بی کی نئی فنانسنگ سے ML-1 کے کراچی۔روہڑی سیکشن پر کام آئندہ مالی سال سے شروع ہوگا، جس کے لی 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
’تھرکول کنیکٹیویٹی پوجیکٹ کے لیے دو ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یہ وہ منصوبہ ہے جو ہمارے مقامی توانائی کے ذخائر کو قومی نقل و حمل کے نظام سے جوڑے گا۔
’اس کے علاوہ گوادر بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے اور چاروں صوبوں میں ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کے لیے 93 ارب سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے تاکہ پورے ملک میں تیز تر نقل و حمل کے ذرائع دستیاب ہو سکیں۔‘
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام
بجٹ تقریر کے مطابق ’حکومت بی آئی ایس پی کے فلیگ شپ انیشیٹیوز کی کوریج بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
’اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے کفالت پروگرام کو ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچایا جائے گا۔
تعلیمی وظائف پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ تقریباً 90 لاکھ 20ہزار بچوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔
اگلے مالی سال میں بی آئی ایس پی کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔
بجلی سبسڈی
بجلی اور دیگر شعبوں کے لیے سبسڈی کے طور پر 1,091 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔
گرانٹس
گرانٹس کی مد میں 2,680 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں جو بی آئی ایس پی، پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع وغیرہ کے لیے ہیں۔
اپنا گھر سکیم
وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے لیے 71 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔
پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام
وزیر خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ 10 جون، 2026 کو منعقدہ نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں مالی سال 27-2026 کے لیے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی گئی، جس کا حجم 3,675 ارب روپے ہے۔
اس میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1,000 ارب روپے، جملہ صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے 2,224 ارب روپے اور ریاستی ملکیتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے شامل ہیں۔
’یہ تقسیم اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد کے فرائض کی نئی تقسیم کی عکاس ہے جس کے تحت سماجی شعبے کی ذمہ داری بڑی حد تک صوبوں کو منتقل ہو چکی ہے جبکہ وفاق خاص طور پر قومی اہمیت کے سٹریٹجک منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔‘
آبی وسائل
محمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ پاکستان کو پانی کے کئی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جیسے سٹوریج کی کم ہوتی صلاحیت اور موسمیاتی تبدیلی سے آنے والے سیلاب۔
’گذشتہ سال دریاؤں میں آنے والے سیلاب نے ہماری معیشت کو 822 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ یہ نقصان ہمیں اس شعبے میں منظم سرمایہ کاری کی فوری ضرورت کی نشاندہی کرتا ہے۔
’اسی لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ 27-2026 میں 43 آبی منصوبوں کے لیے 103.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
’سب سے اہم منصوبوں میں دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے 14 ارب روپے، مہمند ڈیم کے لیے 22 ارب روپے، داسو ہائیڈرو پاور کے لیے 15 ارب روپے اور کراچی کے بلک واٹر سپلائی منصوبے کے فور کے لیے 10 ارب روپے شامل ہیں۔‘
ہاؤسنگ
وزیر خزانہ نے بتایا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ 27-2026 میں پائیدار شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے شعبے کے لیے 54.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
’اس مختص رقم کے ذریعے وفاقی اور صوبائی سطح پر 150,000 سستے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والے رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے، 10 بڑے شہروں کے لیے ڈیجیٹل ماسٹر پلانز تیار کیے جائیں گے اور شہری پانی اور صفائی کی فراہمی میں واضح بہتری لائی جائے گی۔
اعلیٰ تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی
سینیٹر محمد اورنگزیب کے مطابق بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گذشتہ سال کے 34.9 ارب روپے کے مقابلے میں ایک قابلِ ذکر اضافہ ہے۔
’اس میں مستحق طلبہ و طالبات کے لیے وظائف کی فراہمی، یونیورسٹیوں کی تحقیقی صلاحیت میں اضافہ، پاکستان ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نیٹ ورک (Pakistan Education and Research Network) کی اپ گریڈیشن کے ذریعے ڈیجیٹل لرننگ (Digital learning) کا فروغ اور اے آئی (AI) پر مبنی تعلیمی نظام کا فروغ شامل ہیں۔
’سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے علیحدہ 3.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن سے ٹیکنالوجی کی منتقلی، ایس ایم ایز (SMEs)، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرانکس، زراعت اور صحت وغیرہ کی ٹیکنالوجی کو فروغ ملے گا۔‘
بنیادی تعلیم، کالج تعلیم، اور ہنر
انہوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ روشن مثال دانش سکولز کے لیے تقریباً 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مجموعی طور پر سکول اور کالج کی تعلیم کے لیے 26.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں اساتذہ کی تربیت، اسکولوں میں داخلوں کی تعداد بڑھانے، ارلی چائلڈ ہُڈ ایجوکیشن کی توسیع اور ڈیجیٹل لرننگ کا فروغ شامل ہے۔
اسی طرح نوجوانوں کی ہنرمندی اور روزگار کے لیے نیوٹک کے ذریعے وزیر اعظم یوتھ سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 7.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ ہر پاکستانی نوجوان کے ہاتھ میں وہ ہنر ہو جو اسے اکیسویں صدی کی معیشت میں قدم رکھنے کے قابل بنا سکے۔
گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات
وزیر خزانہ کے مطابق بجٹ میں گورننس کے شعبے کے لیے 13 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے مجموعی طور پر 144.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بجٹ پیش کیے جانے سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ ’الحمدللہ اس بجٹ کو بہت محنت اور خلوص سے تیار کیا گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی عظیم قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔‘
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق بجٹ کی تیاری ملکی اور بین الاقوامی سطح پر درپیش معاشی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے اور عوامی ریلیف، زرعی شعبے کی جدید خطوط پر ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کو بجٹ کی اہم ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔
مزید برآں بجٹ میں مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافہ، معاشی استحکام اور ترقی کے لیے اقدامات، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے سماجی و معاشی خوشحالی کے اہداف کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے۔
مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے اعلان کی تیاری مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کی گئی۔ بجٹ کی تیاری میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور مشاورت جاری رہا، جن میں پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرنے اور اقتصادی سروے کے اجرا سے متعلق امور بھی شامل رہے۔
حکومت نے جمعرات کو اقتصادی سروے برائے مالی سال 26-2025 جاری کیا تھا، جس میں رواں مالی سال کے دوران قومی معیشت کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا گیا۔
اقتصادی سروے ملک کی معاشی صورت حال کی حقیقی تصویر پیش کرنے کے ساتھ آئندہ منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔
پاکستان
بجٹ
وفاقی کابینہ
وزیراعظم ہاؤس
وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 7 فیصد اضافہ تجویز کیا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو
جمعہ, جون 12, 2026 - 21:00
Main image:
12 جون، 2026 کی اس تصویر میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب بجٹ 2026-2027 قومی اسمبلی میں پیش کر رہے ہیں(تصویر: اے ایف پی)
پاکستان
jw id:
8NiEwOCz
type:
video
related nodes:
پاکستان کا بجٹ اور آئی ایم ایف: فیصلے کے اثرات کس پر پڑتے ہیں؟
بجٹ بہت خلوص سے تیار کیا گیا، عوام کی فلاح اولین ترجیح: وزیراعظم
خیبر پختونخوا کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر تحفظات
بجٹ میں ٹیکس بڑھنے کی خبریں، سولر پینلز مہنگے ہو گئے
SEO Title:
دفاعی بجٹ 3000 ارب روپے، تنخواہ داروں کے ٹیکس میں کمی: وزیر خزانہ
copyright:
show related homepage:
Show on Homepage
Discussion in the ATmosphere