{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigbhe5it5udq325goysav6hohtq4oqvcgqkzbxfgwnzrup7yxsibu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mo4t2cwxyks2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigklkcrmpmtqp44zkovpzjbsq3igiao3dwi35aoh632l5pzu6tykq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 144673
},
"path": "/node/186295",
"publishedAt": "2026-06-12T10:39:15.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"farrukh.abbas",
"پاکستان",
"بجٹ",
"وفاقی کابینہ",
"وزیراعظم ہاؤس",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"video"
],
"textContent": "**وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے جمعے کو بجٹ 2026-2027 قومی اسمبلی میں پیش کیا جس میں دفاع کے لیے 3000 ارب روپے جب کہ تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں کمی کی تجویز دی گئی۔**\n\nقومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران محمد اورنگزیب نے حکومتی اتحادی جماعتوں کی قیادت بالخصوص نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور خالد حسین مگسی کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔\n\nانہوں نے واضح کیا کہ یہ بجٹ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان عالمی سطح پر ایک مستحکم اور باوقار ملک کے طور پر ابھرا ہے۔\n\n**دفاعی اخراجات کے لیے تین ہزار ارب روپے مختص**\n\nوزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تجاویز میں بتایا کہ سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر حکومت نے مالیاتی سال 27-2026 کے بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے مجموعی طور پر 2,450 ارب روپے مختص کیے ہیں۔\n\nانہوں نے بجٹ تقریر کے بالکل آغاز (پہلے ہی حصے) میں بتایا کہ گذشتہ برس مئی میں جب ’انڈین جارحیت‘ کو پاکستان کی جانب سے منہ توڑ جواب ملا تو پاکستان نے اپنے دفاع کو مزید موثر بنانے کا فیصلہ کیا۔\n\nانہوں نے کہا انڈیا کے خلاف کامیاب دفاعی کارروائی کی بدولت ملکی دفاعی صنعت، بالخصوص پاکستان کے تیار کردہ فورتھ جنریشن فائٹر جیٹس کی دنیا بھر میں ساکھ مضبوط ہوئی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں ان کی مانگ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔\n\n**سفارتی کامیابیاں اور دفاعی خود مختاری**\n\nمحمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان نے عالمی سیاست میں ایک ایماندار ثالث کے طور پر اپنی شناخت قائم کی۔\n\nانہوں نے کہا پاکستان کی کاوشوں سے امریکہ اور ایران ’اسلام آباد امن مذاکرات‘ کے ذریعے ایک میز پر بیٹھے، جس کا مقصد خطے میں مستقل امن کا قیام اور آبنائے ہرمز سے تیل کی بلا تعطل سپلائی کو یقینی بنانا ہے۔\n\nانہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ایک باضابطہ سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ کو بھی سراہتے ہوئے پاکستان کے لیے بڑی ذمہ داری قرار دیا۔\n\nمحمد اورنگزیب کے مطابق چین کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کو نئی بلندیوں پر پہنچایا گیا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔\n\n\n\n\n**انکم ٹیکس ریلیف**\n\nبجٹ تقریر کے مطابق حکومت نے آمدنی کی چار سلیبز کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔\n\nجو تنخواہ دار 22 سے 32 لاکھ روپے کے درمیان سالانہ کماتے ہیں، ان کے ٹیکس کی شرح 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔\n\n32 سے 41 لاکھ روپے کے درمیان آمدن والے تنخواہ داروں کے لیے ٹیکس کی شرح 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔\n\n41 سے 56 لاکھ روپے آمدن والوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد کی تجویز ہے۔\n\nاسی طرح 56 سے 70 لاکھ روپے تک تنخواہ حاصل کرنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’تنخواہ پر عائد ٹیکس کی شرحوں میں کمی کے علاوہ ہم نے ایک اور اہم ریلیف قدم اٹھاتے ہوئے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘\n\n**سپر ٹیکس کی شرح میں کمی**\n\nوزیر خزانہ نے بتایا کہ ان کی حکومت نے کاروبار سے 15 کروڑ روپے سے 50 کروڑ روپے تک کی آمدنی کی چھ سلیبز پر عائد سپر ٹیکس جو ایک فیصد سے لے کر ساڑھے سات فیصد کی سطح تک تھا، کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔\n\n’اسی طرح 50 کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے آٹھ فیصد کرنے کی تجویز ہے۔\n\n’اس اقدام کا مقصد چھوٹے کاروبار اور صنعتوں کو فروغ دینے کے علاوہ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ تاہم بینکوں، تیل اور گیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور فرٹیلائزر (کھاد) کمپنیوں پر موجودہ سرچارج برقرار رہے گا۔‘\n\n\n\n\n**کریڈٹ، ڈیبٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی**\n\nانہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک میں بینکوں کے جاری کردہ کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے بیرونِ ملک استعمال پر ہر ٹرانزیکشن پر پانچ فیصد ودہولڈنگ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔\n\n’اس ٹیکس کی وجہ سے رقم کی منتقلی کے لیے غیر روایتی ذرائع کے استعمال کا رجحان بڑھ رہا ہے جس کی حوصلہ شکنی کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کی اس شرح کو 0.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے تاکہ اسے معمول کی فنانشل ٹرانزیکشن کی سطح پر لایا جا سکے اور معیشت کو دستاویزی بنانے کی حکومتی کوششوں کو تقویت مل سکے۔‘\n\n**وفاقی حکومت کے اخراجات**\n\nمحمد اورنگزیب نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11,751 ارب روپے ہو گی جبکہ کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ہے، جس میں سے 8,054 ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے۔\n\nاسی طرح وفاق کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 1,000 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔\n\nوفاقی حکومت کے جاری اخراجات کا تخمینہ 17,495 ارب روپے ہے۔ ملکی دفاع حکومت کی اہم ترین ترجیح ہے۔ اس قومی فرض کے لیے 3,000 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔\n\nاسی طرح سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,071 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں اور پینشن کے اخراجات کے لیے 1,169 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\n**تنخواہیں اور پینشن**\n\nمحمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد جبکہ سابق ملازمین کی پینشن میں بھی اتنا ہی اضافہ تجویز کیا ہے۔\n\nمزدور کی کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔\n\n**صحت**\n\nبجٹ میں صحت کے منصوبوں کے لیے 25.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\nخواتین کی صحت کے لیے ضروری اشیا پر ٹیکس کا خاتمہ خواتین کی صحت کے لیے ضروری اشیا مثلاً سینیٹری پیڈز اور متعلقہ اشیا پر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز ہے۔\n\n**خاندانی منصوبہ بندی کے اقدامات**\n\nانہوں نے بتایا کہ حکومت نے مانع حمل وسائل پر عائد ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔\n\nEarning-Class-Slabs.png, by farrukh.abbas\n\n**کاروں پر ٹیکس**\n\nمحمد اورنگزیب نے اپنی بجٹ تقریر میں بتایا کہ وہ درآمد کی جانے والی کاروں اور 2000cc سے بڑی اور 3000cc تک کی ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر رہے ہیں۔\n\n’3000cc سے بڑی گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی بڑھا رہے ہیں۔ اس ٹیکس کا اطلاق دو کروڑ سے مہنگی لگژری ای وی پر بھی ہوگا۔‘\n\n**غیر ملکی سفر پر ڈیوٹی ختم**\n\nانہوں نے بتایا کہ بزنس کلاس میں غیر ملکی سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کو ختم کرنے کی تجویز ہے۔\n\n**صحت کی سہولیات**\n\nانہوں نے بتایا کہ حکومت نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت ایک نپی تلی اور مؤثر علاج کی سہولت متعارف کرا رہی ہے، جس کے ذریعےکینسر اور دیگر بیماریوں کی ادویات کی مقامی تیاری میں استعمال ہونے والے ایک سو سے زائد اقسام کے خام مال پر کسٹمز ڈیوٹی مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔\n\n**تیل کی عالمی قیمتیں اور پٹرولیم سبسڈی**\n\nانہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کی کشیدگی کے باعث بین الاقوامی منڈی میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے سے عوام کو بچانے کے لیے حکومت نے 128 ارب روپے کی عمومی پٹرولیم سبسڈی فراہم کی۔ جبکہ صوبائی حکومتوں کے اشتراک سے غریب اور مستحق طبقات کے لیے ٹارگٹڈ پٹرولیم سبسڈی کا ایک مربوط اور شفاف نظام کامیابی سے نافذ کیا گیا۔\n\n\n\n\n**ملکی معیشت کا جائزہ**\n\nبجٹ تقریر میں ملکی معیشت کی بحالی کے حوالے سے درج ذیل اہم ترین اعداد و شمار پیش کیے گئے جو درج ذیل ہیں۔\n\nاقتصادی شرح نمو: سیلاب کی تباہ کاریوں اور عالمی بحرانوں کے باوجود ملکی معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔\n\nبڑی صنعتوں کی پیداوار: لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں 6.1 فیصد کی نمایاں ترقی ہوئی جو گذشتہ چار بلند ترین سطح ہے۔\n\nاسی طرح خدمات کے شعبے نے 4.1 فیصد کی شرح سے ترقی کی جبکہ معیشت کا کل حجم 452 ارب ڈالر کی تاریخی سطح تک پہنچ گیا۔\n\nمحمد اورنگزیب کے مطابق فی کس آمدنی گذشتہ سال کے 1,751 ڈالر سے بڑھ کر 1,901 ڈالر ہو گئی۔\n\nوزیر خزانہ کے مطابق سٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 22 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم ہو کر اب 11.5 فیصد پر آ گیا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔\n\nانہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر تین سال قبل جو ذخائر چار ارب ڈالر سے بھی کم تھے، وہ اب بڑھ کر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جو تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔\n\nترسیلات زر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال کی مجموعی ترسیلات زر (38 ارب ڈالر) کے مقابلے میں، رواں سال کے صرف پہلے 11 مہینوں میں ہی 38 ارب ڈالر موصول ہو چکے ہیں اور مالی سال کے اختتام تک یہ ملکی تاریخ کے سب سے بلند ترین حجم یعنی 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔\n\n\n\n\n**مالیاتی نظم و ضبط اور ٹیکس اصلاحات**\n\nبجٹ تقریر کے مطابق حکومت کی ٹیکس اصلاحات کی بدولت ٹیکس اور جی ڈی پی کا تناسب 8.5 فیصد سے بڑھ کر اب 10.3 فیصد ہو گیا ہے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ اسی طرح مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 7.8 فیصد تھا، جسے موجودہ مالی سال کے اختتام تک کم کر کے چار فیصد پر لایا جا رہا ہے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح مالی سال 23-2022 کے 8.5 فیصد سے بڑھ کر 10.3 فیصد ہو گئی، جبکہ مالیاتی خسارہ جون 2023 کے 7.8 فیصد سے کم ہو کر موجودہ مالی سال کے اختتام تک 4 فیصد تک لایا جا رہا ہے۔\n\nان کے مطابق ایف بی آر اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس وصولی 7,200 ارب روپے سے بڑھ کر 13,000 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ پروڈکشن مانیٹرنگ نظام 27 سیمنٹ فیکٹریوں اور 75 شوگر ملوں پر نافذ کیا گیا جس سے 61 ارب روپے اضافی ٹیکس متوقع ہے، جبکہ 840 ہائی رسک کیسز سے 34 ارب روپے کے محصولات کی نشاندہی ہوئی۔\n\nانہوں نے بتایا کہ حکومت نے مالی شمولیت کے لیے پانچ سکیمیں متعارف کروائیں جن میں 750,000 کسانوں کو 300 ارب روپے کے بلا ضمانت قرضے، کم لاگت ہاؤسنگ سکیم، ای بائیکس و رکشہ فنانسنگ، توانائی بچت پروگرام اور 7.1 ارب روپے کی ایگری سٹوریج سکیم شامل ہیں۔\n\nان کے مطابق پرائمری بیلنس 0.7 فیصد خسارے سے بڑھ کر 1.6 فیصد سرپلس ہو گیا، یعنی 2.3 فیصد بہتری آئی۔ افراطِ زر 23.4 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد رہی، جبکہ رواں سال اوسط مہنگائی تقریباً 7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ گذشتہ مالی سال میں افراط زر جو 23.4 فیصد پر تھی، وہ کم ہو کر 4.5 فیصد پر آگئی۔\n\nان کے مطابق رواں برس جنگی صورت حال کے باوجود افراط زر کی اوسط شرح سات فیصد رہنے کی توقع ہے جو اصل بجٹ تخمینے (7.5 فیصد) سے بھی کم ہے۔\n\n**تعمیراتی شعبہ**\n\nوزیر خزانہ نے بتایا کہ جائیداد کی منتقلی پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کو معقول بناتے ہوئے فائلرز کے لیے خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد اور فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔\n\n**کارپوریٹ سیکٹر، انٹرنیشنل بانڈز اور سرمایہ کاری**\n\nانہوں نے کہا کہ پاکستان 2022 کے بعد دوبارہ عالمی مالیاتی مارکیٹ میں داخل ہوا اور 750 ملین ڈالر کا یورو بانڈ کامیابی سے جاری کیا۔\n\nاس کے ساتھ ساتھ پاک چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ پر ملکی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ محض 2.5 فیصد مارک اپ پر جاری کیا گیا، جس کی طلب مارکیٹ میں پیشکش سے پانچ گنا زیادہ دیکھی گئی۔\n\nکارپوریٹ سیکٹر کے منافعے میں جنوری تا مارچ 2026 کے دوران پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 22 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ سٹاک ایکسچینج میں پچھلے ایک سال میں ایک لاکھ 73 ہزار (173,000) نئے سرمایہ کار شامل ہوئے۔\n\nایس ای سی پی میں 39 ہزار نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں اور اس سال 11 کمپنیوں کے آئی پی اوز (IPOs) مارکیٹ میں آئے۔\n\nبجٹ تقریر کے مطابق حکومت کی جانب سے قائم کردہ خصوصی ٹیکنالوجی زونز میں 250 سے زائد نئی کمپنیوں نے کام شروع کیا، جس سے 25 ہزار سے زائد آئی ٹی پروفیشنلز کو روزگار کے مواقع ملے۔\n\n**نجکاری پروگرام کی کامیابیاں**\n\nمحمد اورنگزیب نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ نجکاری کے شعبے میں حکومت نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے دہائیوں پرانے ایجنڈے کو پورا کیا۔\n\nان کے مطابق ’23 دسمبر 2025 کو مکمل شفافیت کے ساتھ براہ راست ٹی وی نشریات کے ذریعے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجی شعبے کو منتقلی 185 ارب روپے کے عوض مکمل کی گئی۔\n\nان کا مزید کہنا تھا کہ فرسٹ وومن بینک اور پی آئی اے کے بعد اگلے پانچ سالوں میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)، بجلی پیدا کرنے والے اداروں (جینکوز)، بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کی نجکاری کی جائے گی۔\n\nانہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے کے تحت تین ڈسکوز کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی کے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں۔\n\nان کے مطابق سٹاک ایکسچینج میں 173,000 نئے سرمایہ کار شامل ہوئے اور 11 آئی پی اوز جاری کیے گئے۔ ایس ای سی پی میں 39 ہزار نئی کمپنیوں کا اندراج ہوا اور ٹیکنالوجی زونز میں 250 سے زائد کمپنیوں نے سرمایہ کاری کی جس سے 25 ہزار ملازمتیں پیدا ہوئیں۔\n\nانہوں نے بتایا کہ حکومت نے مالی شمولیت کے لیے پانچ سکیمیں متعارف کروائیں جن میں 750,000 کسانوں کو 300 ارب روپے کے بلا ضمانت قرضے، کم لاگت ہاؤسنگ سکیم، ای بائیکس و رکشہ فنانسنگ، توانائی بچت پروگرام اور 7.1 ارب روپے کی ایگری سٹوریج سکیم شامل ہیں۔\n\nان کے مطابق ڈیجیٹل معیشت میں پیش رفت کے تحت 1.67 ملین تاجر ڈیجیٹل پیمنٹ سے منسلک ہوئے، ڈیجیٹل صارفین 95 ملین سے بڑھ کر 133 ملین ہو گئے اور سالانہ ٹرانزیکشنز 6.9 ارب سے بڑھ کر 10.1 ارب ہو گئیں، جبکہ 92 فیصد ترسیلات بینکنگ چینلز سے آئیں۔\n\nوزیر خزانہ نے بتایا کہ نوجوانوں کے لیے 515,000 افراد کو فنی تربیت دی گئی جن میں سے 53 فیصد کو روزگار ملا، جبکہ یوتھ لون سکیم کے تحت 258 ارب روپے تقسیم کیے گئے جس سے 534,000 نوجوان مستفید ہوئے۔\n\nان کے مطابق برآمدات کے فروغ کے لیے 0.25 فیصد سرچارج ختم، ایکسپورٹ فنانس مارک اپ 19 فیصد سے کم کر کے 4.5 فیصد کیا گیا اور سہولت کی مدت 9 ماہ سے بڑھا کر 18 ماہ کر دی گئی۔\n\nوزیر خزانہ نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنا، ٹیکس نظام کو شفاف بنانا، سرمایہ کاری بڑھانا اور نوجوانوں کو معاشی عمل میں شامل کرنا ہے۔\n\n**شاہراہوں، ریل اور بندرگاہیں**\n\nانہوں نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام 27-2026 میں نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے سب سے زیادہ 365 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\n’اس میں کراچی کو چمن سے جوڑنے والی بلوچستان کی اہم ترین شاہراہ N-25 پاکستان ایکسپریس وے کو دو رویہ کرنے کے لیے 100 ارب روپے کی رقم سرفہرست ہے۔\n\n’اسی طرح شمال۔جنوب موٹروے نیٹ ورک کی تکمیل کے لیے ایم سکس (سکھر۔حیدرآباد موٹروے) پر 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی جبکہ اے ڈی بی کی نئی فنانسنگ سے ML-1 کے کراچی۔روہڑی سیکشن پر کام آئندہ مالی سال سے شروع ہوگا، جس کے لی 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\n’تھرکول کنیکٹیویٹی پوجیکٹ کے لیے دو ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یہ وہ منصوبہ ہے جو ہمارے مقامی توانائی کے ذخائر کو قومی نقل و حمل کے نظام سے جوڑے گا۔\n\n’اس کے علاوہ گوادر بندرگاہ کے بنیادی ڈھانچے اور چاروں صوبوں میں ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کے لیے 93 ارب سے زیادہ کی رقم مختص کی گئی ہے تاکہ پورے ملک میں تیز تر نقل و حمل کے ذرائع دستیاب ہو سکیں۔‘\n\n**بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام**\n\nبجٹ تقریر کے مطابق ’حکومت بی آئی ایس پی کے فلیگ شپ انیشیٹیوز کی کوریج بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔\n\n’اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے کفالت پروگرام کو ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچایا جائے گا۔\n\nتعلیمی وظائف پروگرام کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ تقریباً 90 لاکھ 20ہزار بچوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔\n\nاگلے مالی سال میں بی آئی ایس پی کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔\n\n**بجلی سبسڈی**\n\nبجلی اور دیگر شعبوں کے لیے سبسڈی کے طور پر 1,091 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔\n\n**گرانٹس**\n\nگرانٹس کی مد میں 2,680 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں جو بی آئی ایس پی، پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع وغیرہ کے لیے ہیں۔\n\n**اپنا گھر سکیم**\n\nوزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیراعظم اپنا گھر سکیم کے لیے 71 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔\n\n**پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام**\n\nوزیر خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ 10 جون، 2026 کو منعقدہ نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں مالی سال 27-2026 کے لیے قومی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دی گئی، جس کا حجم 3,675 ارب روپے ہے۔\n\nاس میں وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے 1,000 ارب روپے، جملہ صوبائی ترقیاتی پروگراموں کے لیے 2,224 ارب روپے اور ریاستی ملکیتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے شامل ہیں۔\n\n’یہ تقسیم اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد کے فرائض کی نئی تقسیم کی عکاس ہے جس کے تحت سماجی شعبے کی ذمہ داری بڑی حد تک صوبوں کو منتقل ہو چکی ہے جبکہ وفاق خاص طور پر قومی اہمیت کے سٹریٹجک منصوبوں پر توجہ مرکوز رکھتا ہے۔‘\n\n**آبی وسائل**\n\nمحمد اورنگزیب نے مزید بتایا کہ پاکستان کو پانی کے کئی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے جیسے سٹوریج کی کم ہوتی صلاحیت اور موسمیاتی تبدیلی سے آنے والے سیلاب۔\n\n’گذشتہ سال دریاؤں میں آنے والے سیلاب نے ہماری معیشت کو 822 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔ یہ نقصان ہمیں اس شعبے میں منظم سرمایہ کاری کی فوری ضرورت کی نشاندہی کرتا ہے۔\n\n’اسی لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ 27-2026 میں 43 آبی منصوبوں کے لیے 103.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\n’سب سے اہم منصوبوں میں دیامیر بھاشا ڈیم کے لیے 14 ارب روپے، مہمند ڈیم کے لیے 22 ارب روپے، داسو ہائیڈرو پاور کے لیے 15 ارب روپے اور کراچی کے بلک واٹر سپلائی منصوبے کے فور کے لیے 10 ارب روپے شامل ہیں۔‘\n\n**ہاؤسنگ**\n\nوزیر خزانہ نے بتایا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ 27-2026 میں پائیدار شہری ترقی اور ہاؤسنگ کے شعبے کے لیے 54.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\n’اس مختص رقم کے ذریعے وفاقی اور صوبائی سطح پر 150,000 سستے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والے رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے، 10 بڑے شہروں کے لیے ڈیجیٹل ماسٹر پلانز تیار کیے جائیں گے اور شہری پانی اور صفائی کی فراہمی میں واضح بہتری لائی جائے گی۔\n\n**اعلیٰ تعلیم اور سائنس و ٹیکنالوجی**\n\nسینیٹر محمد اورنگزیب کے مطابق بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو گذشتہ سال کے 34.9 ارب روپے کے مقابلے میں ایک قابلِ ذکر اضافہ ہے۔\n\n’اس میں مستحق طلبہ و طالبات کے لیے وظائف کی فراہمی، یونیورسٹیوں کی تحقیقی صلاحیت میں اضافہ، پاکستان ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نیٹ ورک (Pakistan Education and Research Network) کی اپ گریڈیشن کے ذریعے ڈیجیٹل لرننگ (Digital learning) کا فروغ اور اے آئی (AI) پر مبنی تعلیمی نظام کا فروغ شامل ہیں۔\n\n’سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے علیحدہ 3.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن سے ٹیکنالوجی کی منتقلی، ایس ایم ایز (SMEs)، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرانکس، زراعت اور صحت وغیرہ کی ٹیکنالوجی کو فروغ ملے گا۔‘\n\n**بنیادی تعلیم، کالج تعلیم، اور ہنر**\n\nانہوں نے اپنی تقریر میں بتایا کہ روشن مثال دانش سکولز کے لیے تقریباً 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\nمجموعی طور پر سکول اور کالج کی تعلیم کے لیے 26.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں اساتذہ کی تربیت، اسکولوں میں داخلوں کی تعداد بڑھانے، ارلی چائلڈ ہُڈ ایجوکیشن کی توسیع اور ڈیجیٹل لرننگ کا فروغ شامل ہے۔\n\nاسی طرح نوجوانوں کی ہنرمندی اور روزگار کے لیے نیوٹک کے ذریعے وزیر اعظم یوتھ سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 7.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ ہر پاکستانی نوجوان کے ہاتھ میں وہ ہنر ہو جو اسے اکیسویں صدی کی معیشت میں قدم رکھنے کے قابل بنا سکے۔\n\n**گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات**\n\nوزیر خزانہ کے مطابق بجٹ میں گورننس کے شعبے کے لیے 13 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے مجموعی طور پر 144.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبجٹ پیش کیے جانے سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا کہ ’الحمدللہ اس بجٹ کو بہت محنت اور خلوص سے تیار کیا گیا ہے۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی عظیم قوم کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔‘\n\nسرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق بجٹ کی تیاری ملکی اور بین الاقوامی سطح پر درپیش معاشی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے اور عوامی ریلیف، زرعی شعبے کی جدید خطوط پر ترقی، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کو بجٹ کی اہم ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔\n\nمزید برآں بجٹ میں مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافہ، معاشی استحکام اور ترقی کے لیے اقدامات، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور عوام دوست پالیسیوں کے ذریعے سماجی و معاشی خوشحالی کے اہداف کو بھی نمایاں جگہ دی گئی ہے۔\n\nمالی سال 2026-27 کے بجٹ کے اعلان کی تیاری مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کی گئی۔ بجٹ کی تیاری میں متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے درمیان قریبی رابطہ اور مشاورت جاری رہا، جن میں پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کرنے اور اقتصادی سروے کے اجرا سے متعلق امور بھی شامل رہے۔\n\nحکومت نے جمعرات کو اقتصادی سروے برائے مالی سال 26-2025 جاری کیا تھا، جس میں رواں مالی سال کے دوران قومی معیشت کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا گیا۔\n\nاقتصادی سروے ملک کی معاشی صورت حال کی حقیقی تصویر پیش کرنے کے ساتھ آئندہ منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کے لیے بنیاد فراہم کرتا ہے۔\n\nپاکستان\n\nبجٹ\n\nوفاقی کابینہ\n\nوزیراعظم ہاؤس\n\nوزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں 7 فیصد اضافہ تجویز کیا ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, جون 12, 2026 - 21:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">12 جون، 2026 کی اس تصویر میں وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب بجٹ 2026-2027 قومی اسمبلی میں پیش کر رہے ہیں(تصویر: اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\n8NiEwOCz\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان کا بجٹ اور آئی ایم ایف: فیصلے کے اثرات کس پر پڑتے ہیں؟\n\nبجٹ بہت خلوص سے تیار کیا گیا، عوام کی فلاح اولین ترجیح: وزیراعظم\n\nخیبر پختونخوا کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی پر تحفظات\n\nبجٹ میں ٹیکس بڑھنے کی خبریں، سولر پینلز مہنگے ہو گئے\n\nSEO Title:\n\nدفاعی بجٹ 3000 ارب روپے، تنخواہ داروں کے ٹیکس میں کمی: وزیر خزانہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "دفاعی بجٹ 3000 ارب روپے، تنخواہ داروں کے ٹیکس میں کمی: وزیر خزانہ"
}