بلوچستان: کان میں پھنسے چھ مزدوروں میں سے دو زندہ حالت میں نکال لیے گئے
بلوچستان کے ضلع دُکی کے علاقے پتھر ٹاپ میں واقع ایک کوئلہ کان میں پیش آنے والے حادثے کے بعد آج پھنسے ہوئے مزید دو کان کنوں کو زندہ سلامت نکال لیا گیا ہے۔
مائنز انسپیکٹر یار جان بلوچ نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے تصدیق کی کہ کان میں حادثے کے باعث مجموعی طور پر 6 کانکن پھنس گئے تھے، جنہیں نکالنے کے لیے صبح سے ہی بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا تھا۔ اب تک کی کوششوں کے نتیجے میں مزید دو کان کنوں کو زندہ حالت میں نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
انسپیکٹر مائنز کے مطابق، کان سے نکالے جانے والے کان کنوں کو فوری طور پر طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کان کے اندر اب بھی کچھ کان کنوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، جنہیں بحفاظت باہر نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں اور کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔
ایس ایچ او دکی کاشف رفیق نے انڈپینڈنٹ اردو کو فون پر بتایا کہ کان کن تین ہزار فٹ گہری کان میں کام کررہے تھے کہ اس دوران مٹی کا تودہ گرنے سے کان سے باہر نکلنے کا راستہ بند ہوگیا۔ کان کنوں کو باہر نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
فیلڈ انسپیکٹر مائنز دکی یار جان بلوچ نے بتایا کہ کان میں پھنسے محنت کش ابھی تک زندہ ہیں اور ایک کان کن کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’راستہ دشوار گزار ہونے کی باعث مشینری پہنچانے میں دیر ہوئی۔
’جائے وقوعہ پر ریسکیو ٹیم آپریشن میں مصروف ہے مزید امدادی ٹیمیں بھی طلب کر لی گئی ہے۔ کوشش ہے کہ ان چھ افراد کو زندہ نکال لیں۔‘
بلوچستان کے کان کنوں کی حالت زار
انٹرنیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر لالہ سلطان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بدقسمتی سے پاکستان بھر اور باالخصوص بلوچستان میں کان کنوں کی حالت تشویشناک ہے۔ کان کنی کے قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کان کنی سے حکومت بلوچستان کو بہت بڑی آمدن ہو رہی ہے لیکن لیبر ڈیپارٹمنٹ اور خاص کر فیلڈ آفسر غفلت کا مظاہرہ کر ہے ہیں۔
لالہ سلطان کے مطابق: ’بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں ہر روز حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ اکثر واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ ہر سال سینکڑوں مزدور زیر زمین کام کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لالہ سلطان نے مزید کہا کہ بلوچستان میں کوئلہ اور دیگر معدنیات کے نکالنے کے لیے پرانے طریقے استعمال کیے جارہے ہیں۔
’مثال کے طور پر کسی بھی کان سے کوئلہ نکالنے کے لیے سیفٹی کے طور پر ایک اضافی راستہ بھی بنایا جاتا ہے جو کان کنوں کو تازہ ہوا ملنے اور ہنگامی صورت حال میں باہر نکلنے کے لیے ہوتا ہے لیکن بلوچستان کے کان کنوں کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ دوسری اہم بات یہ کہ کان کی کھدائی کے دوران پانی کو دور رکھا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں کان اس جگہ کھودی جاتی ہے جہاں سے پانی گزرتا ہے جس کی وجہ سے ہروقت بڑے حادثات پیش آرہے ہیں۔
لالہ سلطان کے مطابق سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ مرنے اور زخمی ہونے والے کارکنوں کان مالکوں اور حکومت کی جانب کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔
کان کن
کان کنی
بلوچستان
حادثہ
بلوچستان کے ضلع دکی کی پولیس کا کہنا ہے کہ کوئلے کی کان میں پھنسے دیگر پانچ کان کنوں کو نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
محمد عیسیٰ
جمعہ, مئی 22, 2026 - 11:15
Main image:
صوبہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے خوست میں مارچ 2024 میں کوئلے کی کان میں گیس بھر جانے سے دھماکے کے نتیجے میں 12 مزدور دب گئے تھے (فائل فوٹو/ انسپیکٹوریٹ آف مائنز بلوچستان فیس بک پیج)
پاکستان
type:
news
related nodes:
پنجاب کے جنگلات میں کان کنی کی اجازت دینے پر ماہرین کو تشویش
تھر میں کان کنی کو ڈیزل سے بجلی پر منتقل کیا جا رہا ہے: پاور ڈویژن
بلوچستان: ہرنائی میں بم دھماکہ، 11 کان کن جان سے گئے
بلوچستان: کوئلے کی کان میں گیس دھماکے سے 12 کان کن پھنس گئے، حکام
SEO Title:
بلوچستان: کان میں پھنسے چھ مزدوروں میں سے دو زندہ حالت میں نکال لیے گئے
copyright:
show related homepage:
Hide from Homepage
Discussion in the ATmosphere