{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreifka5detdwdkdhcdns4246dtl6xwhathdsrjmjhhuwoh7sibfqnja",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmi3tchw2be2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreie767a7mbyy22rtnasbs66eskfqmxp26pq47qfkqi6uz747ra6zui"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 195105
  },
  "path": "/node/186008",
  "publishedAt": "2026-05-22T08:31:29.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "کان کن",
    "کان کنی",
    "بلوچستان",
    "حادثہ",
    "محمد عیسیٰ",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**بلوچستان کے ضلع دُکی کے علاقے پتھر ٹاپ میں واقع ایک کوئلہ کان میں پیش آنے والے حادثے کے بعد آج پھنسے ہوئے مزید دو کان کنوں کو زندہ سلامت نکال لیا گیا ہے۔**\n\nمائنز انسپیکٹر یار جان بلوچ نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے تصدیق کی کہ کان میں حادثے کے باعث مجموعی طور پر 6 کانکن پھنس گئے تھے، جنہیں نکالنے کے لیے صبح سے ہی بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا تھا۔ اب تک کی کوششوں کے نتیجے میں مزید دو کان کنوں کو زندہ حالت میں نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔\n\nانسپیکٹر مائنز کے مطابق، کان سے نکالے جانے والے کان کنوں کو فوری طور پر طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کان کے اندر اب بھی کچھ کان کنوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، جنہیں بحفاظت باہر نکالنے کے لیے امدادی سرگرمیاں اور کوششیں تیزی سے جاری ہیں۔\n\nایس ایچ او دکی کاشف رفیق نے انڈپینڈنٹ اردو کو فون پر بتایا کہ کان کن تین ہزار فٹ گہری کان میں کام کررہے تھے کہ اس دوران مٹی کا تودہ گرنے سے کان سے باہر نکلنے کا راستہ بند ہوگیا۔ کان کنوں کو باہر نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔\n\nفیلڈ انسپیکٹر مائنز دکی یار جان بلوچ نے بتایا کہ کان میں پھنسے محنت کش ابھی تک زندہ ہیں اور ایک کان کن کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’راستہ دشوار گزار ہونے کی باعث مشینری پہنچانے میں دیر ہوئی۔\n\n’جائے وقوعہ پر ریسکیو ٹیم آپریشن میں مصروف ہے مزید امدادی ٹیمیں بھی طلب کر لی گئی ہے۔ کوشش ہے کہ ان چھ افراد کو زندہ نکال لیں۔‘\n\n**بلوچستان کے کان کنوں کی حالت زار**\n\nانٹرنیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی صدر لالہ سلطان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بدقسمتی سے پاکستان بھر اور باالخصوص بلوچستان میں کان کنوں کی حالت تشویشناک ہے۔ کان کنی کے قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ کان کنی سے حکومت بلوچستان کو بہت بڑی آمدن ہو رہی ہے لیکن لیبر ڈیپارٹمنٹ اور خاص کر فیلڈ آفسر غفلت کا مظاہرہ کر ہے ہیں۔\n\nلالہ سلطان کے مطابق: ’بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں ہر روز حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ اکثر واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ ہر سال سینکڑوں مزدور زیر زمین کام کے دوران جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nلالہ سلطان نے مزید کہا کہ بلوچستان میں کوئلہ اور دیگر معدنیات کے نکالنے کے لیے پرانے طریقے استعمال کیے جارہے ہیں۔\n\n’مثال کے طور پر کسی بھی کان سے کوئلہ نکالنے کے لیے سیفٹی کے طور پر ایک اضافی راستہ بھی بنایا جاتا ہے جو کان کنوں کو تازہ ہوا ملنے اور ہنگامی صورت حال میں باہر نکلنے کے لیے ہوتا ہے لیکن بلوچستان کے کان کنوں کے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ دوسری اہم بات یہ کہ کان کی کھدائی کے دوران پانی کو دور رکھا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں کان اس جگہ کھودی جاتی ہے جہاں سے پانی گزرتا ہے جس کی وجہ سے ہروقت بڑے حادثات پیش آرہے ہیں۔\n\nلالہ سلطان کے مطابق سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ مرنے اور زخمی ہونے والے کارکنوں کان مالکوں اور حکومت کی جانب کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔\n\nکان کن\n\nکان کنی\n\nبلوچستان\n\nحادثہ\n\nبلوچستان کے ضلع دکی کی پولیس کا کہنا ہے کہ کوئلے کی کان میں پھنسے دیگر پانچ کان کنوں کو نکالنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔\n\nمحمد عیسیٰ\n\nجمعہ, مئی 22, 2026 - 11:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">صوبہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے خوست میں مارچ 2024 میں کوئلے کی کان میں گیس بھر جانے سے دھماکے کے نتیجے میں 12 مزدور دب گئے تھے  (فائل فوٹو/ انسپیکٹوریٹ آف مائنز بلوچستان فیس بک پیج)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپنجاب کے جنگلات میں کان کنی کی اجازت دینے پر ماہرین کو تشویش\n\nتھر میں کان کنی کو ڈیزل سے بجلی پر منتقل کیا جا رہا ہے: پاور ڈویژن\n\nبلوچستان: ہرنائی میں بم دھماکہ، 11 کان کن جان سے گئے\n\nبلوچستان: کوئلے کی کان میں گیس دھماکے سے 12 کان کن پھنس گئے، حکام\n\nSEO Title:\n\nبلوچستان: کان میں پھنسے چھ مزدوروں میں سے دو زندہ حالت میں نکال لیے گئے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "بلوچستان: کان میں پھنسے چھ مزدوروں میں سے دو زندہ حالت میں نکال لیے گئے"
}