صوابی کے ’تاجک ہیرو‘ کی قبر کی مٹی 90 سال بعد ماسکو سے تاجکستان واپس
تاجک حکومت نے 90 سال بعد ملک کے بانیوں میں شمار نثار محمد سمیت تین قومی ہیروز کی قبروں کی مٹی ماسکو سے حاصل کر کے تاجکستان میں ایک سرکاری تقریب کے دوران دفن کر دی۔
نثار محمد خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے گاؤں زیدہ میں 1897 میں پیدا ہوئے تھے اور اس کے بعد 1917 میں افغانستان چلے گئے تھے، جہاں انہوں نے امیر امان اللہ خان کی قیادت میں تیسری اینگلو افغان جنگ کے دوران انگریزوں کے خلاف لڑائی لڑی تھی۔
افغان حکومت نے انہیں تمغۂ شجاعت سے بھی نوازا تھا اور تاجکستان میں بھی انہیں افغان ہیرو کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
تاہم جب اینگلو افغان جنگ کے بعد وہ واپس صوابی چلے گئے تو انگریزوں کے خلاف لڑنے کی پاداش میں انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی، لیکن وہ قید سے فرار ہوکر افغانستان کے راستے تاشقند چلے گئے اور تاجکستان کے شیرین شاہ جیسے اہم سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مل کر جدوجہد شروع کی۔
اس طرح ان کا شمار موجودہ جمہوری تاجکستان کے بانی رہنماؤں میں ہوا۔
کمیونسٹ نظریات رکھنے والے نثار محمد نے تاجکستان کی سیاست میں قدم رکھا اور اس وقت کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔
خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے زیدہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے نثار محمد کو تاجکستان میں ہیرو مانا جاتا ہے (تاجک وزارت داخلہ)
وہ 1924 سے 1930 تک تاجکستان کے وزیر تعلیم رہے اور تاجکستان کے تعلیم اور سائنس کے شعبے میں انقلاب لائے، جبکہ وہ تاشقند کی سنٹرل ایشیا سٹیٹ یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہے تھے۔
نثار محمد کو تاجکستان کی آزادی کے ہیرو کے طور پر جانا جاتا ہے۔ 20 ویں صدی کے تاجک اخبارات اور رسالوں کے پیچھے نثار محمد یوسفزئی تھے، جو تاجکستان کی آزادی کے لیے کوششیں کر رہے تھے جبکہ تاجکستان میں پہلے پرنٹنگ پریس کی بنیاد بھی انہوں نے ہی رکھی تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاجکستان میں پہلا تعلیمی مرکز ’انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن‘ 1924 میں کھولا گیا تھا، جس کے پہلے ڈائریکٹر بھی نثار محمد تھے، جبکہ تاجکستان کے پہلے سکول اور لائبریری کا قیام بھی انہوں نے ہی کیا تھا۔
روس میں موجود نثار محمد کی پوتی انا مالوخینا نے ان کی زندگی پر مبنی ایک دستاویزی فلم میں انٹرویو کے دوران بتایا کہ نثار محمد کو 11 زبانوں پر عبور حاصل تھا اور وہ اس وقت یونیورسٹی میں طلبہ کو اردو اور پشتو کے کورسز پڑھایا کرتے تھے۔
نثار محمد کو 1937 میں سٹالن کے دور میں سوویت یونین کے خلاف بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور مختلف تحقیقی مقالوں کے مطابق دورانِ تفتیش تفتیشی افسر نے انہیں گولی مار کر قتل کر دیا تھا، جنہیں ماسکو میں ایک اجتماعی قبرستان میں دفن کیا گیا۔
ان کی پوتی نے نثار محمد کی گرفتاری کا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی دادی کہا کرتی تھیں کہ لوگ آگئے تھے لیکن نثار محمد گھر پر موجود نہیں تھے لیکن شام کو واپس آکر ان کو گرفتار کیا گیا۔
انا نے انٹرویو میں بتایا کہ ’جب ان کو گرفتار کر کے لے جا رہے تھے تو وہ جن آنکھوں سے دیکھ رہے تھے تو بظاہر یہ لگ رہا تھا کہ وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔‘
خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے زیدہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے نثار محمد کو تاجکستان میں ہیرو مانا جاتا ہے (تاجک وزارت داخلہ)
تاجکستان میں اب بھی وزارت تعلیم کے سامنے گزرتی ہوئی شاہراہ ان ہی کے نام سے منسوب ہے اور تاجکستان میں انہیں آزادی کا ہیرو سمجھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ان کی قبر کی مٹی واپس تاجکستان لائی گئی۔
’افغان جرمن آن لائن‘ جریدے میں شائع شدہ انڈیا کی نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالخالق رشید نے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ ’نثار محمد 1917 کی دہائی میں اپنی جوان بیوی اور شیر خوار بچے کو چھوڑ کر انگریزوں کے خلاف لڑنے کے لیے افغانستان چلے گئے کیونکہ وہ افغانستان کے اس وقت کے بادشاہ غازی امان اللہ کے افکار سے متاثر تھے۔‘
مقالے کے مطابق: ’نثار محمد کے شیر خوار بچے کی کفالت ان کے نانا نے کی جبکہ بیوی جوانی میں انتقال کر گئیں۔‘
اس کے بعد مقالے کے مطابق وہ افغانستان سے تاشقند چلے گئے جہاں پر انہوں نے شادی کی اور ان کے بچے، پوتے اور نواسے اب بھی ماسکو میں موجود ہیں۔
اسی دوران مقالے کے مطابق انہوں نے ایران کے انقلابی رہنما مرزا خان کوچک کے ساتھ مل کر ایران میں انگریزوں کے خلاف ’جنگل تحریک‘ بھی شروع کی تھی اور وہاں گیلان میں ایک مختصر دورانیے کے لیے حکومت بھی قائم کی تھی لیکن بعد میں انہیں شکست ہوئی اور وہ واپس تاشقند متنقل ہوگئے تھے۔
پاکستان
خیبر پختونخوا
صوابی
تاجکستان
نثار محمد خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے زیدہ گاؤں میں 1897 میں پیدا ہوئے تھے اور اس کے بعد 1917 میں افغانستان چلے گئے تھے۔
اظہار اللہ
جمعرات, مئی 21, 2026 - 18:00
Main image:
خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے زیدہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے نثار محمد کو تاجکستان میں ہیرو مانا جاتا ہے (تاجک وزارت داخلہ)
تاریخ
jw id:
rkz8J7vF
type:
video
related nodes:
امریکہ: قبرستان سے چوری 100 انسانی باقیات ایک گھر سے برآمد
غزہ کا المیہ، جہاں قبر روٹی سے سستی ہے
چھ دہائی پرانے 100 روپے کے نوٹ کی بنگلہ دیش سے پاکستان واپسی
کیا پاکستان اور انڈیا کی آزادی کا اصل ہیرو امریکہ ہے؟
SEO Title:
صوابی کے ’تاجک ہیرو‘ کی قبر کی مٹی 90 سال بعد ماسکو سے تاجکستان واپس
copyright:
show related homepage:
Hide from Homepage
Discussion in the ATmosphere