{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigoiwpk4iqgtlkvz4kjdonc6uwahq7yc5arogcz4ovduvvo7uewbq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmfemy4pkdu2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibmlbtgndgkci2z2vewhjqzuwgco3zw7gosacxaetio363ngrkthu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 87622
  },
  "path": "/node/185998",
  "publishedAt": "2026-05-21T13:05:03.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "خیبر پختونخوا",
    "صوابی",
    "تاجکستان",
    "اظہار اللہ",
    "تاریخ",
    "video"
  ],
  "textContent": "**تاجک حکومت نے 90 سال بعد ملک کے بانیوں میں شمار نثار محمد سمیت تین قومی ہیروز کی قبروں کی مٹی ماسکو سے حاصل کر کے تاجکستان میں ایک سرکاری تقریب کے دوران دفن کر دی۔**\n\nنثار محمد خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے گاؤں زیدہ میں 1897 میں پیدا ہوئے تھے اور اس کے بعد 1917 میں افغانستان چلے گئے تھے، جہاں انہوں نے امیر امان اللہ خان کی قیادت میں تیسری اینگلو افغان جنگ کے دوران انگریزوں کے خلاف لڑائی لڑی تھی۔\n\nافغان حکومت نے انہیں تمغۂ شجاعت سے بھی نوازا تھا اور تاجکستان میں بھی انہیں افغان ہیرو کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔\n\nتاہم جب اینگلو افغان جنگ کے بعد وہ واپس صوابی چلے گئے تو انگریزوں کے خلاف لڑنے کی پاداش میں انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی، لیکن وہ قید سے فرار ہوکر افغانستان کے راستے تاشقند چلے گئے اور تاجکستان کے شیرین شاہ جیسے اہم سیاسی رہنماؤں کے ساتھ مل کر جدوجہد شروع کی۔\n\nاس طرح ان کا شمار موجودہ جمہوری تاجکستان کے بانی رہنماؤں میں ہوا۔\n\nکمیونسٹ نظریات رکھنے والے نثار محمد نے تاجکستان کی سیاست میں قدم رکھا اور اس وقت کئی اہم عہدوں پر فائز رہے۔\n\nخیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے زیدہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے نثار محمد کو تاجکستان میں ہیرو مانا جاتا ہے (تاجک وزارت داخلہ)\n\n\n\n\nوہ 1924 سے 1930 تک تاجکستان کے وزیر تعلیم رہے اور تاجکستان کے تعلیم اور سائنس کے شعبے میں انقلاب لائے، جبکہ وہ تاشقند کی سنٹرل ایشیا سٹیٹ یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہے تھے۔\n\nنثار محمد کو تاجکستان کی آزادی کے ہیرو کے طور پر جانا جاتا ہے۔ 20 ویں صدی کے تاجک اخبارات اور رسالوں کے پیچھے نثار محمد یوسفزئی تھے، جو تاجکستان کی آزادی کے لیے کوششیں کر رہے تھے جبکہ تاجکستان میں پہلے پرنٹنگ پریس کی بنیاد بھی انہوں نے ہی رکھی تھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nتاجکستان میں پہلا تعلیمی مرکز ’انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن‘ 1924 میں کھولا گیا تھا، جس کے پہلے ڈائریکٹر بھی نثار محمد تھے، جبکہ تاجکستان کے پہلے سکول اور لائبریری کا قیام بھی انہوں نے ہی کیا تھا۔\n\nروس میں موجود نثار محمد کی پوتی انا مالوخینا نے ان کی زندگی پر مبنی ایک دستاویزی فلم میں انٹرویو کے دوران بتایا کہ نثار محمد کو 11 زبانوں پر عبور حاصل تھا اور وہ اس وقت یونیورسٹی میں طلبہ کو اردو اور پشتو کے کورسز پڑھایا کرتے تھے۔\n\nنثار محمد کو 1937 میں سٹالن کے دور میں سوویت یونین کے خلاف بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور مختلف تحقیقی مقالوں کے مطابق دورانِ تفتیش تفتیشی افسر نے انہیں گولی مار کر قتل کر دیا تھا، جنہیں ماسکو میں ایک اجتماعی قبرستان میں دفن کیا گیا۔\n\nان کی پوتی نے نثار محمد کی گرفتاری کا قصہ بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی دادی کہا کرتی تھیں کہ لوگ آگئے تھے لیکن نثار محمد گھر پر موجود نہیں تھے لیکن شام کو واپس آکر ان کو گرفتار کیا گیا۔\n\nانا نے انٹرویو میں بتایا کہ ’جب ان کو گرفتار کر کے لے جا رہے تھے تو وہ جن آنکھوں سے دیکھ رہے تھے تو بظاہر یہ لگ رہا تھا کہ وہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔‘\n\nخیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے زیدہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے نثار محمد کو تاجکستان میں ہیرو مانا جاتا ہے (تاجک وزارت داخلہ)\n\n\n\n\nتاجکستان میں اب بھی وزارت تعلیم کے سامنے گزرتی ہوئی شاہراہ ان ہی کے نام سے منسوب ہے اور تاجکستان میں انہیں آزادی کا ہیرو سمجھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ان کی قبر کی مٹی واپس تاجکستان لائی گئی۔\n\n’افغان جرمن آن لائن‘ جریدے میں شائع شدہ انڈیا کی نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر عبدالخالق رشید نے ایک مقالے میں لکھا ہے کہ ’نثار محمد 1917 کی دہائی میں اپنی جوان بیوی اور شیر خوار بچے کو چھوڑ کر انگریزوں کے خلاف لڑنے کے لیے افغانستان چلے گئے کیونکہ وہ افغانستان کے اس وقت کے بادشاہ غازی امان اللہ کے افکار سے متاثر تھے۔‘\n\nمقالے کے مطابق: ’نثار محمد کے شیر خوار بچے کی کفالت ان کے نانا نے کی جبکہ بیوی جوانی میں انتقال کر گئیں۔‘\n\nاس کے بعد مقالے کے مطابق وہ افغانستان سے تاشقند چلے گئے جہاں پر انہوں نے شادی کی اور ان کے بچے، پوتے اور نواسے اب بھی ماسکو میں موجود ہیں۔\n\nاسی دوران مقالے کے مطابق انہوں نے ایران کے انقلابی رہنما مرزا خان کوچک کے ساتھ مل کر ایران میں انگریزوں کے خلاف ’جنگل تحریک‘ بھی شروع کی تھی اور وہاں گیلان میں ایک مختصر دورانیے کے لیے حکومت بھی قائم کی تھی لیکن بعد میں انہیں شکست ہوئی اور وہ واپس تاشقند متنقل ہوگئے تھے۔\n\nپاکستان\n\nخیبر پختونخوا\n\nصوابی\n\nتاجکستان\n\nنثار محمد خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کے زیدہ گاؤں میں 1897 میں پیدا ہوئے تھے اور اس کے بعد 1917 میں افغانستان چلے گئے تھے۔\n\nاظہار اللہ\n\nجمعرات, مئی 21, 2026 - 18:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے زیدہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے نثار محمد کو تاجکستان میں ہیرو مانا جاتا ہے (تاجک وزارت داخلہ)</p>\n\nتاریخ\n\njw id:\n\nrkz8J7vF\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ: قبرستان سے چوری 100 انسانی باقیات ایک گھر سے برآمد\n\nغزہ کا المیہ، جہاں قبر روٹی سے سستی ہے\n\nچھ دہائی پرانے 100 روپے کے نوٹ کی بنگلہ دیش سے پاکستان واپسی\n\nکیا پاکستان اور انڈیا کی آزادی کا اصل ہیرو امریکہ ہے؟\n\nSEO Title:\n\nصوابی کے ’تاجک ہیرو‘ کی قبر کی مٹی 90 سال بعد ماسکو سے تاجکستان واپس\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "صوابی کے ’تاجک ہیرو‘ کی قبر کی مٹی 90 سال بعد ماسکو سے تاجکستان واپس"
}