External Publication
Visit Post

پاکستان کی ثالثی ناکام نہیں ہوئی بلکہ ’مشکلات‘ کا شکار ہے: عباس عراقچی

Independent Urdu [Unofficial] May 15, 2026
Source

پاکستان کی ثالثی ناکام نہیں ہوئی بلکہ ’مشکلات‘ کا شکار ہے: عباس عراقچی

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا کہ کہ تہران کو امریکہ پر ’اعتماد نہیں‘ اور وہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں صرف اسی صورت دلچسپی رکھتا ہے جب امریکہ سنجیدہ رویہ اختیار کرے۔

برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی میں موجود عراقچی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’متضاد پیغامات‘ کی وجہ سے ایران کو امریکہ کے اصل ارادوں پر شک ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی ثالثی ناکام نہیں ہوئی بلکہ ’مشکلات‘ کا شکار ہے۔

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ انہیں امریکہ کی جانب سے ’پیغامات موصول ہوئے ہیں‘ جن میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔

ان کے بقول: ’ہمیں امریکیوں کی جانب سے دوبارہ پیغامات موصول ہوئے ہیں کہ وہ مذاکرات اور رابطہ جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔‘

عراقچی نے بیجنگ کی جانب سے مذاکرات میں مدد کے حوالے سے کہا: ’ہم ہر اس ملک کی مدد کو سراہتے ہیں جو مدد کی صلاحیت رکھتا ہو، خصوصاً چین۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہمارے چین کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں، ہم ایک دوسرے کے سٹریٹجک شراکت دار ہیں، اور ہمیں معلوم ہے کہ چین کی نیت اچھی ہے، لہٰذا وہ سفارتکاری میں جو بھی مدد کرے گا، ایران اسے خوش آمدید کہے گا۔‘

چین نے کہا کہ وہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والے تنازع کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

چین کی وزارت خارجہ نے اے ایف پی کو بتایا: ’اس تنازع کو جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، جو ابتدا میں ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔ اس مسئلے کا جلد حل نکالنا نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ خطے کے ممالک اور پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے تمام بحری جہاز گزر سکتے ہیں، سوائے اُن جہازوں کے جو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہوں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو ’انتہائی پیچیدہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی بحریہ سے رابطہ اور ہم آہنگی قائم کرنا ہوگی۔

ایران نے فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اس اہم بحری راستے کو زیادہ تر بحری آمدورفت کے لیے مؤثر طور پر بند کر دیا تھا۔ اس راستے سے پہلے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی تھی۔

واشنگٹن اور تہران نے گذشتہ ماہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن مستقل امن معاہدے پر اتفاق کے لیے مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں۔ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں مگر گذشتہ ہفتے دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد یہ عمل معطل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ جنگ کے لیے بھی تیار ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں رکاوٹ بننے والے اہم مسائل میں ایران کا جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول شامل ہیں۔

عراقچی کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے حوالے سے ان کا صبر ختم ہو رہا ہے اور انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ گفتگو میں اس بات پر اتفاق کیا کہ تہران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنی چاہیے۔


ڈونلڈ ٹرمپ واپس امریکہ روانہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اہم سربراہی ملاقات کے بعد جمعے کو واپس روانہ ہو گئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ بیجنگ کیپیٹل انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے مقامی وقت کے مطابق دو بج کر چالیس منٹ پر خصوصی طیارے ایئر فورس ون کے ذریعے واشنگٹن کے لیے روانہ ہوئے۔


مشرق وسطیٰ میں دیرپا جنگ بندی ہونی چاہیے: چین

چین نے جمعے کو مشرق وسطیٰ میں دیرپا جنگ بندی اور جہاز رانی کے راستوں کو ’جلد از جلد‘ کھولنے پر زور دیا ہے۔

اے ایف پی کے مطابق یہ پوچھے جانے پر کہ کیا چینی اور امریکی صدور نے اس موضوع پر بات کی ہے، چین کی وزارت خارجہ نے جمعے کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام بحال کرنے کے لیے ’جلد از جلد‘ ایک دیرپا جنگ بندی ہو سکے گی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’عالمی برادری کے مطالبات کے جواب میں جہاز رانی کے راستوں کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جانا چاہیے۔

’اس تنازعے کو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں جسے سرے سے ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔‘

ایران کے ساتھ جنگ کے دوران سٹریٹیجک آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے اس اہم آبنائے کے ذریعے جہاز رانی کو بڑے پیمانے پر روک دیا ہے جب کہ واشنگٹن نے تہران کی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

اس آبی گزرگاہ پر ایران کی گرفت نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ میں چینی رہنما شی جن پنگ کے ساتھ ایک سربراہی اجلاس کے دوران ایران پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

امن کے دور میں، آبنائے ہرمز سے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کے ساتھ ساتھ دیگر اہم اشیا کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔

ایران کے پاسداران انقلاب نے جمعرات کو کہا کہ بحری افواج نے گذشتہ رات سے کئی چینی بحری جہازوں کو سٹریٹیجک آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی۔


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے معاملے میں اب مزید زیادہ صبر نہیں کریں گے اور انہوں نے تہران پر زور دیا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کر لے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے جمعرات کی رات فوکس نیوز کے پروگرام ’ہینٹی‘ میں نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا کہ ’میں اب مزید زیادہ صبر نہیں کرنے والا۔ انہیں معاہدہ کر لینا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم جن ایرانی رہنماؤں سے معاملات کر رہے ہیں وہ معقول ہیں۔ ایران کی افزودہ یورینیم کو دفن کیا جا سکتا ہے لیکن میں اسے حاصل کرنا زیادہ پسند کروں گا۔

’ایران کی افزودہ یورینیم حاصل کرنا کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ عوامی تعلقات کے لیے ہے۔ شی شاید ایران پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین امریکہ سے تیل خریدنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی بحری جہازوں کو ٹیکساس، لوزیانا، الاسکا بھیجنا شروع کرنے والے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے چین کی مدد کی پیشکش کی ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں ایران کی مدد کے لیے فوجی سازوسامان نہ بھیجنے کا عہد کیا ہے۔

'انہوں (چینی صدر) نے کہا کہ وہ فوجی سازوسامان نہیں دینے والے۔ انہوں نے یہ بات سختی سے کہی۔

’وہ آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہیں گے، اور کہا کہ ’اگر میں کسی بھی طرح کی کوئی مدد کر سکتا ہوں، تو میں مدد کرنا چاہوں گا۔‘

اس سے قبل جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کو ’انتہائی مثبت‘ قرار دیا۔

صدر ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار دورۂ چین کے دوران بیجنگ میں چینی صدر کی جانب سے ضیافت سے خطاب میں کیا۔

اس ضیافت میں دونوں ممالک کے سرکردہ رہنما، اور ایلون مسک اور ٹِم کُک جیسی امریکی کاروباری شخصیات بھی شریک تھیں۔

امریکی صدر دو روزہ سربراہ ملاقات کے لیے بدھ کی رات گئے ایئر فورس ون پر چین پہنچے۔ ان کے ہمراہ اعلیٰ شخصیات بھی تھیں جن میں این ویڈیا کے جینسن ہوانگ اور ٹیسلا کے ایلون مسک شامل ہیں جو ان تجارتی معاہدوں کی علامت ہیں جنہیں طے کرنے کی ٹرمپ امید رکھتے ہیں۔

ان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا، سفید لباس میں ملبوس 300 چینی نوجوانوں نے ایک ساتھ ’خوش آمدید‘ کہا اور چھوٹے چینی اور امریکی پرچم لہرائے جبکہ صدر ہوا میں مکہ لہراتے ہوئے صدارتی طیارے کی سیڑھیوں سے نیچے اترے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دو روزہ دورے کے بعد امریکی صدر واپس واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے۔ ٹرمپ کا یہ دورہ چین تقریباً ایک دہائی میں کسی امریکی صدر کا پہلا دورہ ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے 2017 میں دورہ کیا تھا اور اس بار کے برعکس تب ان کی اہلیہ میلانیا بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن روانہ ہونے سے قبل جمعے کو چینی رہنما شی جن پنگ کی سرکاری رہائش گاہ پر ایک نجی ملاقات کے ساتھ اپنا دورہ بیجنگ مکمل کریں گے۔

جمعرات کو ملاقاتوں اور تقریبات کے ایک سلسلے کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران جنگ، تجارت، ٹیکنالوجی اور تائیوان جیسے اختلافی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ایران

امریکہ

ایران چین تعلقات

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق انہیں امریکہ کی جانب سے مذاکرات جاری رکھنے کے ’پیغامات موصول ہوئے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو

جمعہ, مئی 15, 2026 - 16:00

Main image:

دنیا

jw id:

Ready

type:

video

label:

لائیو اپ ڈیٹس

related nodes:

چین بوئنگ سے 200 طیارے خریدے گا: صدر ٹرمپ

ٹرمپ چین میں موجود: ایران جنگ، تجارت اور تائیوان پر بات چیت متوقع

ایران کے ساتھ سیزفائر ’لائف سپورٹ‘ پر ہے: صدر ٹرمپ

چین ٹرمپ کے دورے سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟

SEO Title:

پاکستان کی ثالثی ناکام نہیں ہوئی بلکہ ’مشکلات‘ کا شکار ہے: عباس عراقچی

copyright:

show related homepage:

Show on Homepage

Discussion in the ATmosphere

Loading comments...