{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigusaxznvjjgzqydlqga7jrozuwfm4uecb2vezxwby3vrnqsbhs2e",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlwmhc7n2cf2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigmlsf7z5j5hqcafxg6mbqqk55p64imnwpichoctzsgcs5kuyk7ay"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 67136
  },
  "path": "/node/185914",
  "publishedAt": "2026-05-15T11:00:29.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "ایران",
    "امریکہ",
    "ایران چین تعلقات",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "video",
    "لائیو اپ ڈیٹس"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کی ثالثی ناکام نہیں ہوئی بلکہ ’مشکلات‘ کا شکار ہے: عباس عراقچی**\n\nایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا کہ کہ تہران کو امریکہ پر ’اعتماد نہیں‘ اور وہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں صرف اسی صورت دلچسپی رکھتا ہے جب امریکہ سنجیدہ رویہ اختیار کرے۔\n\nبرکس وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی میں موجود عراقچی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’متضاد پیغامات‘ کی وجہ سے ایران کو امریکہ کے اصل ارادوں پر شک ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی ثالثی ناکام نہیں ہوئی بلکہ ’مشکلات‘ کا شکار ہے۔\n\nعباس عراقچی نے مزید کہا کہ انہیں امریکہ کی جانب سے ’پیغامات موصول ہوئے ہیں‘ جن میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔\n\nان کے بقول: ’ہمیں امریکیوں کی جانب سے دوبارہ پیغامات موصول ہوئے ہیں کہ وہ مذاکرات اور رابطہ جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔‘\n\nعراقچی نے بیجنگ کی جانب سے مذاکرات میں مدد کے حوالے سے کہا: ’ہم ہر اس ملک کی مدد کو سراہتے ہیں جو مدد کی صلاحیت رکھتا ہو، خصوصاً چین۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’ہمارے چین کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں، ہم ایک دوسرے کے سٹریٹجک شراکت دار ہیں، اور ہمیں معلوم ہے کہ چین کی نیت اچھی ہے، لہٰذا وہ سفارتکاری میں جو بھی مدد کرے گا، ایران اسے خوش آمدید کہے گا۔‘\n\nچین نے کہا کہ وہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والے تنازع کو ختم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔\n\nچین کی وزارت خارجہ نے اے ایف پی کو بتایا: ’اس تنازع کو جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں، جو ابتدا میں ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔ اس مسئلے کا جلد حل نکالنا نہ صرف امریکہ اور ایران بلکہ خطے کے ممالک اور پوری دنیا کے مفاد میں ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے تمام بحری جہاز گزر سکتے ہیں، سوائے اُن جہازوں کے جو ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہوں۔\n\nایرانی وزیر خارجہ نے آبنائے ہرمز کی صورت حال کو ’انتہائی پیچیدہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی بحریہ سے رابطہ اور ہم آہنگی قائم کرنا ہوگی۔\n\nایران نے فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد اس اہم بحری راستے کو زیادہ تر بحری آمدورفت کے لیے مؤثر طور پر بند کر دیا تھا۔ اس راستے سے پہلے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی سپلائی گزرتی تھی۔\n\nواشنگٹن اور تہران نے گذشتہ ماہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا لیکن مستقل امن معاہدے پر اتفاق کے لیے مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں۔ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی میں ہو رہے ہیں مگر گذشتہ ہفتے دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد یہ عمل معطل ہے۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ایران سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ جنگ کے لیے بھی تیار ہے۔\n\nدونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں رکاوٹ بننے والے اہم مسائل میں ایران کا جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول شامل ہیں۔\n\nعراقچی کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے حوالے سے ان کا صبر ختم ہو رہا ہے اور انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ گفتگو میں اس بات پر اتفاق کیا کہ تہران کو آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنی چاہیے۔\n\n* * *\n\n**ڈونلڈ ٹرمپ واپس امریکہ روانہ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کے دارالحکومت بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اہم سربراہی ملاقات کے بعد جمعے کو واپس روانہ ہو گئے۔\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ بیجنگ کیپیٹل انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے مقامی وقت کے مطابق دو بج کر چالیس منٹ پر خصوصی طیارے ایئر فورس ون کے ذریعے واشنگٹن کے لیے روانہ ہوئے۔\n\n* * *\n\n**مشرق وسطیٰ میں دیرپا جنگ بندی ہونی چاہیے: چین**\n\nچین نے جمعے کو مشرق وسطیٰ میں دیرپا جنگ بندی اور جہاز رانی کے راستوں کو ’جلد از جلد‘ کھولنے پر زور دیا ہے۔\n\nاے ایف پی کے مطابق یہ پوچھے جانے پر کہ کیا چینی اور امریکی صدور نے اس موضوع پر بات کی ہے، چین کی وزارت خارجہ نے جمعے کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام بحال کرنے کے لیے ’جلد از جلد‘ ایک دیرپا جنگ بندی ہو سکے گی۔\n\nبیان میں مزید کہا گیا کہ ’عالمی برادری کے مطالبات کے جواب میں جہاز رانی کے راستوں کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جانا چاہیے۔\n\n’اس تنازعے کو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں جسے سرے سے ہونا ہی نہیں چاہیے تھا۔‘\n\nایران کے ساتھ جنگ کے دوران سٹریٹیجک آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے اس اہم آبنائے کے ذریعے جہاز رانی کو بڑے پیمانے پر روک دیا ہے جب کہ واشنگٹن نے تہران کی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے۔\n\nاس آبی گزرگاہ پر ایران کی گرفت نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیجنگ میں چینی رہنما شی جن پنگ کے ساتھ ایک سربراہی اجلاس کے دوران ایران پر تبادلہ خیال کیا ہے۔\n\nامن کے دور میں، آبنائے ہرمز سے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کے ساتھ ساتھ دیگر اہم اشیا کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔\n\nایران کے پاسداران انقلاب نے جمعرات کو کہا کہ بحری افواج نے گذشتہ رات سے کئی چینی بحری جہازوں کو سٹریٹیجک آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی۔\n\n* * *\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے معاملے میں اب مزید زیادہ صبر نہیں کریں گے اور انہوں نے تہران پر زور دیا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کر لے۔\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹرمپ نے جمعرات کی رات فوکس نیوز کے پروگرام ’ہینٹی‘ میں نشر ہونے والے انٹرویو میں کہا کہ ’میں اب مزید زیادہ صبر نہیں کرنے والا۔ انہیں معاہدہ کر لینا چاہیے۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ ’ہم جن ایرانی رہنماؤں سے معاملات کر رہے ہیں وہ معقول ہیں۔ ایران کی افزودہ یورینیم کو دفن کیا جا سکتا ہے لیکن میں اسے حاصل کرنا زیادہ پسند کروں گا۔\n\n’ایران کی افزودہ یورینیم حاصل کرنا کسی بھی دوسری چیز سے زیادہ عوامی تعلقات کے لیے ہے۔ شی شاید ایران پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘\n\nڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین امریکہ سے تیل خریدنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی بحری جہازوں کو ٹیکساس، لوزیانا، الاسکا بھیجنا شروع کرنے والے ہیں۔\n\nاے ایف پی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز کو انٹرویو میں مزید کہا کہ صدر شی جن پنگ نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے چین کی مدد کی پیشکش کی ہے اور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جنگ میں ایران کی مدد کے لیے فوجی سازوسامان نہ بھیجنے کا عہد کیا ہے۔\n\n'انہوں (چینی صدر) نے کہا کہ وہ فوجی سازوسامان نہیں دینے والے۔ انہوں نے یہ بات سختی سے کہی۔\n\n’وہ آبنائے ہرمز کو کھلا دیکھنا چاہیں گے، اور کہا کہ ’اگر میں کسی بھی طرح کی کوئی مدد کر سکتا ہوں، تو میں مدد کرنا چاہوں گا۔‘\n\nاس سے قبل جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی ہم منصب شی جن پنگ کے ساتھ بات چیت کو ’انتہائی مثبت‘ قرار دیا۔\n\nصدر ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار دورۂ چین کے دوران بیجنگ میں چینی صدر کی جانب سے ضیافت سے خطاب میں کیا۔\n\nاس ضیافت میں دونوں ممالک کے سرکردہ رہنما، اور ایلون مسک اور ٹِم کُک جیسی امریکی کاروباری شخصیات بھی شریک تھیں۔\n\nامریکی صدر دو روزہ سربراہ ملاقات کے لیے بدھ کی رات گئے ایئر فورس ون پر چین پہنچے۔ ان کے ہمراہ اعلیٰ شخصیات بھی تھیں جن میں این ویڈیا کے جینسن ہوانگ اور ٹیسلا کے ایلون مسک شامل ہیں جو ان تجارتی معاہدوں کی علامت ہیں جنہیں طے کرنے کی ٹرمپ امید رکھتے ہیں۔\n\nان کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا، سفید لباس میں ملبوس 300 چینی نوجوانوں نے ایک ساتھ ’خوش آمدید‘ کہا اور چھوٹے چینی اور امریکی پرچم لہرائے جبکہ صدر ہوا میں مکہ لہراتے ہوئے صدارتی طیارے کی سیڑھیوں سے نیچے اترے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدو روزہ دورے کے بعد امریکی صدر واپس واشنگٹن روانہ ہو جائیں گے۔ ٹرمپ کا یہ دورہ چین تقریباً ایک دہائی میں کسی امریکی صدر کا پہلا دورہ ہے۔\n\nاس سے قبل ٹرمپ نے 2017 میں دورہ کیا تھا اور اس بار کے برعکس تب ان کی اہلیہ میلانیا بھی ان کے ہمراہ تھیں۔\n\nایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واشنگٹن روانہ ہونے سے قبل جمعے کو چینی رہنما شی جن پنگ کی سرکاری رہائش گاہ پر ایک نجی ملاقات کے ساتھ اپنا دورہ بیجنگ مکمل کریں گے۔\n\nجمعرات کو ملاقاتوں اور تقریبات کے ایک سلسلے کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایران جنگ، تجارت، ٹیکنالوجی اور تائیوان جیسے اختلافی امور پر تبادلہ خیال کیا۔\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nایران\n\nامریکہ\n\nایران چین تعلقات\n\nایرانی وزیر خارجہ کے مطابق انہیں امریکہ کی جانب سے مذاکرات جاری رکھنے کے ’پیغامات موصول ہوئے ہیں۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, مئی 15, 2026 - 16:00\n\nMain image:\n\nدنیا\n\njw id:\n\nReady\n\ntype:\n\nvideo\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nچین بوئنگ سے 200 طیارے خریدے گا: صدر ٹرمپ\n\nٹرمپ چین میں موجود: ایران جنگ، تجارت اور تائیوان پر بات چیت متوقع\n\nایران کے ساتھ سیزفائر ’لائف سپورٹ‘ پر ہے: صدر ٹرمپ\n\nچین ٹرمپ کے دورے سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟\n\nSEO Title:\n\nپاکستان کی ثالثی ناکام نہیں ہوئی بلکہ ’مشکلات‘ کا شکار ہے: عباس عراقچی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "پاکستان کی ثالثی ناکام نہیں ہوئی بلکہ ’مشکلات‘ کا شکار ہے: عباس عراقچی"
}