External Publication
Visit Post

کابل اپنی سرزمین سے پاکستان پر حملے نہ ہونے کی ضمانت دینے کو تیار نہیں: خواجہ آصف

Independent Urdu [Unofficial] May 13, 2026
Source

وزیر دفاع خواجہ آصف نے بدھ کو کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں قائم طالبان حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے مسئلے پر قطر، ترکی اور سعودی عرب کے ذریعے طویل مذاکرات کیے، تاہم کابل حکومت اسلام آباد کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے کی تحریری ضمانت دینے پر آمادہ نہیں ہوئی۔

اسلام آباد میں قومی اسمبلی سے خطاب میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ’جب ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی تب بھی پاکستان مذاکرات کر رہا تھا اور اس عمل میں قطر، ترکی اور سعودی عرب نے کردار ادا کیا، لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں کابل حکومت اس بات کی ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں کہ ان کی سرزمین سے پاکستان پر حملے نہیں ہوں گے۔‘

وزیر دفاع نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی ’دہشت گردی، شہادتوں اور خونریزی کا براہ راست تعلق افغانستان سے ہے۔‘

انہوں نے بنوں حملے اور حالیہ عسکریت پسندی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان فوج اور سکیورٹی ادارے روزانہ قربانیاں دے رہے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے دیانتداری کے ساتھ بارہا مذاکرات کیے اور بعض اوقات 12، 13 اور 19 گھنٹے تک مسلسل بات چیت ہوئی، لیکن افغان حکام زبانی یقین دہانی تو کرواتے ہیں مگر تحریری معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ کابل حکومت اس وقت انڈیا کی ’پراکسی‘ بنی ہوئی ہے اور انڈیا اپنی جنگ افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف لڑ رہا ہے۔

اسلام آباد الزام عائد کرتا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ارکان افغانستان میں موجود ہیں اور وہاں سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جنہیں افغان حکومت کی سرپرستی اور انڈیا کی معاونت حاصل ہے، تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

بقول خواجہ آصف: ’انڈیا گذشتہ سال کی شکست کے بعد براہ راست پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کی جرات نہیں کرے گا، اس لیے اب جنگ کابل کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اب خیبر پختونخوا حکومت بھی دہشت گردی کے خلاف وفاق اور پاکستان فوج کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے، ’ہم سب ایک صفحے پر ہیں کہ دہشت گردی ختم ہونی چاہیے۔‘

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے ترکی، قطر اور سعودی عرب کے ذریعے افغان طالبان سے درخواست کی کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی اور ان کے کیمپ ختم کیے جائیں، مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر افغانستان دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی اختیار نہیں کرتا تو ’پھر ایک ہی راستہ بچتا ہے، اور وہ جنگ ہے۔‘

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ’اگر کابل حکومت تیار نہیں ہوتی تو پھر جو دلی کے ساتھ کیا ہے، وہی کابل کے ساتھ کریں گے، انشاءاللہ۔‘

خواجہ آصف

وزارت دفاع

افغانستان

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے دیانتداری کے ساتھ بارہا مذاکرات کیے اور بعض اوقات 12، 13 اور 19 گھنٹے تک مسلسل بات چیت ہوئی، لیکن افغان حکام زبانی یقین دہانی تو کرواتے ہیں مگر تحریری معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

انڈپینڈنٹ اردو

بدھ, مئی 13, 2026 - 16:45

Main image:

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف 13 مئی 2026 کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں (سکرین گریب، نیشنل اسمبلی ٹی وی)

پاکستان

jw id:

yE9T3RBJ

type:

video

related nodes:

مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو افغانستان سے کھلی جنگ: خواجہ آصف

پاکستانی طیارے گرانے کا انڈین دعویٰ مضحکہ خیز: خواجہ آصف

دنیا کو اسرائیلی جوہری صلاحیت کی فکر کرنی چاہیے: خواجہ آصف

انڈیا پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے: خواجہ آصف

SEO Title:

کابل اپنی سرزمین سے پاکستان پر حملے نہ ہونے کی ضمانت دینے کو تیار نہیں: خواجہ آصف

copyright:

show related homepage:

Show on Homepage

Discussion in the ATmosphere

Loading comments...