{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreibelqbf7sh6zs4oeyq7ocbgcne7x3fbzpgeb4fkkrkkn6olrky75i",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mlqdawr2rve2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiccazalywmq4itr7nl7mdl2mu56pt5arkwkwdyu2n7i6nghuk5jd4"
},
"mimeType": "image/png",
"size": 627011
},
"path": "/node/185896",
"publishedAt": "2026-05-13T11:49:47.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"خواجہ آصف",
"وزارت دفاع",
"افغانستان",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"پاکستان",
"video"
],
"textContent": "**وزیر دفاع خواجہ آصف نے بدھ کو کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں قائم طالبان حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے مسئلے پر قطر، ترکی اور سعودی عرب کے ذریعے طویل مذاکرات کیے، تاہم کابل حکومت اسلام آباد کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے کی تحریری ضمانت دینے پر آمادہ نہیں ہوئی۔**\n\nاسلام آباد میں قومی اسمبلی سے خطاب میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ’جب ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی تب بھی پاکستان مذاکرات کر رہا تھا اور اس عمل میں قطر، ترکی اور سعودی عرب نے کردار ادا کیا، لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’ہمیں کابل حکومت اس بات کی ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں کہ ان کی سرزمین سے پاکستان پر حملے نہیں ہوں گے۔‘\n\nوزیر دفاع نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والی ’دہشت گردی، شہادتوں اور خونریزی کا براہ راست تعلق افغانستان سے ہے۔‘\n\nانہوں نے بنوں حملے اور حالیہ عسکریت پسندی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان فوج اور سکیورٹی ادارے روزانہ قربانیاں دے رہے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nخواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے دیانتداری کے ساتھ بارہا مذاکرات کیے اور بعض اوقات 12، 13 اور 19 گھنٹے تک مسلسل بات چیت ہوئی، لیکن افغان حکام زبانی یقین دہانی تو کرواتے ہیں مگر تحریری معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔\n\nانہوں نے الزام عائد کیا کہ کابل حکومت اس وقت انڈیا کی ’پراکسی‘ بنی ہوئی ہے اور انڈیا اپنی جنگ افغانستان کے ذریعے پاکستان کے خلاف لڑ رہا ہے۔\n\nاسلام آباد الزام عائد کرتا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ارکان افغانستان میں موجود ہیں اور وہاں سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جنہیں افغان حکومت کی سرپرستی اور انڈیا کی معاونت حاصل ہے، تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔\n\nبقول خواجہ آصف: ’انڈیا گذشتہ سال کی شکست کے بعد براہ راست پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کی جرات نہیں کرے گا، اس لیے اب جنگ کابل کے ذریعے لڑی جا رہی ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ اب خیبر پختونخوا حکومت بھی دہشت گردی کے خلاف وفاق اور پاکستان فوج کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے، ’ہم سب ایک صفحے پر ہیں کہ دہشت گردی ختم ہونی چاہیے۔‘\n\nخواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے ترکی، قطر اور سعودی عرب کے ذریعے افغان طالبان سے درخواست کی کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی اور ان کے کیمپ ختم کیے جائیں، مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔\n\nانہوں نے خبردار کیا کہ اگر افغانستان دہشت گرد گروہوں سے لاتعلقی اختیار نہیں کرتا تو ’پھر ایک ہی راستہ بچتا ہے، اور وہ جنگ ہے۔‘\n\nوزیر دفاع نے مزید کہا کہ ’اگر کابل حکومت تیار نہیں ہوتی تو پھر جو دلی کے ساتھ کیا ہے، وہی کابل کے ساتھ کریں گے، انشاءاللہ۔‘\n\nخواجہ آصف\n\nوزارت دفاع\n\nافغانستان\n\nخواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے دیانتداری کے ساتھ بارہا مذاکرات کیے اور بعض اوقات 12، 13 اور 19 گھنٹے تک مسلسل بات چیت ہوئی، لیکن افغان حکام زبانی یقین دہانی تو کرواتے ہیں مگر تحریری معاہدے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, مئی 13, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف 13 مئی 2026 کو اسلام آباد میں قومی اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں (سکرین گریب، نیشنل اسمبلی ٹی وی)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nyE9T3RBJ\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nمذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو افغانستان سے کھلی جنگ: خواجہ آصف\n\nپاکستانی طیارے گرانے کا انڈین دعویٰ مضحکہ خیز: خواجہ آصف\n\nدنیا کو اسرائیلی جوہری صلاحیت کی فکر کرنی چاہیے: خواجہ آصف\n\nانڈیا پاکستانی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے: خواجہ آصف\n\nSEO Title:\n\nکابل اپنی سرزمین سے پاکستان پر حملے نہ ہونے کی ضمانت دینے کو تیار نہیں: خواجہ آصف\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "کابل اپنی سرزمین سے پاکستان پر حملے نہ ہونے کی ضمانت دینے کو تیار نہیں: خواجہ آصف"
}