پاکستان کے ذریعے امریکی جواب موصول، تجویز پر غور جاری: ایران
پاکستان کے ذریعے امریکی جواب موصول، تجویز پر غور جاری: ایران
ایران نے اتوار کو کہا ہے کہ اسے پاکستان کے ذریعے امریکہ کی جانب سے امن مذاکرات کے لیے اپنی تازہ پیشکش پر جواب موصول ہو گیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے ایران کی 14 نکاتی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کے ذریعے پہنچایا، جس کا تہران میں جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم اس پیش رفت کی فوری طور پر امریکہ یا پاکستان کی جانب سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس مرحلے پر جوہری مذاکرات زیر غور نہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے اور خلیجی بحری ناکہ بندی کے خاتمے تک جوہری پروگرام پر بات چیت مؤخر رکھنا چاہتا ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی تجویز کا جائزہ لیں گے تاہم ان کے بقول یہ قابل قبول نہیں ہو سکتی کیونکہ ایران نے ماضی کے اقدامات کی ’کافی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔‘
روئٹرز کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کردہ تجویز میں جنگ کے خاتمے، پابندیوں کے خاتمے، امریکی افواج کے انخلا، منجمد اثاثوں کی واپسی اور آبنائے کے لیے نئے کنٹرول نظام جیسے نکات شامل ہیں۔
امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے سے قبل اپنے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں قبول کرے اور افزودہ یورینیم کے بڑے ذخیرے سے دستبردار ہو جبکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن قرار دیتا ہے اور پابندیاں ختم کرنے کے بدلے محدود شرائط پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ (روئٹرز)
جنگ کے مستقل خاتمے کے امریکہ کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا: ایران
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اتوار کو کہا ہے کہ اگر امریکہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے صحیح معنوں میں معاملات کا حل چاہتا ہے تو اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا۔
رضا امیری مقدم نے ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران اپنے عوام اور خودمختاری کی حفاظت کے لیے پرعزم اور شفاف ہے اور جنگ بندی ہو یا مذاکرات ہوں، دشمنوں کو حالات کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ’ایران کی جانب سے پیش کردہ مذاکراتی منصوبے کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ مذکورہ منصوبہ ثالثی کرنے والے پاکستانی دوستوں کو دیا جا چکا ہے جسے وہ امریکہ کے حوالے کرچکے ہیں۔
ایران کے سفیر نے کہا کہ عالمی برادری مذاکرات اور سفارتی طریقہ کار کے نتیجے کا انتظار کر رہی ہے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایران اپنی قوم اور اقتدار اعلی کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اب معاملات امریکیوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ اگر امریکہ مذاکرات میں رکاوٹوں کے خاتمے کا خواہاں ہے تو اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔‘
آبنائے ہرمز کو امریکی ’قزاقوں‘ کے لیے قبرستان بنا دیں گے: ایران
ایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اتوار کو کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو امریکی افواج کے لیے ’قبرستان‘ بنا دیا جائے گا۔
محسن رضائی، جو سابق آئی آر جی سی کمانڈر اور تہران کی ایکسپیڈینسی کونسل کے سیکریٹری ہیں، نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں موجود امریکی افواج ’قزاق‘ یعنی سمندری ڈاکوؤں کی طرح ہیں۔
انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’دنیا میں صرف امریکہ ایسا قزاق ہے جس کے پاس طیارہ بردار جہاز ہیں۔ ہماری قزاقوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اتنی ہی ہے جتنی جنگی جہازوں کو ڈبونے کی صلاحیت ہے۔‘
محسن رضائی نے مزید کہا، ’تیار ہو جاؤ اپنے طیارہ بردار جہازوں اور افواج کے قبرستان کا سامنا کرنے کے لیے، جیسے تمہارے طیاروں کا ملبہ اصفہان میں چھوڑ دیا گیا تھا۔‘
انہوں نے اس بات کا حوالہ گزشتہ ماہ پیش آنے والے واقعے سے دیا، جب ایک امریکی F-15E طیارہ مار گرایا گیا تھا۔
اسرائیل کی مزید ایف 35 اور ایف 15 جنگی طیارے خریدنے کے پروگرام کی منظوری
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل نے اتوار کو لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ سے جدید F-35 اور F-15IA لڑاکا طیاروں کے دو نئے سکواڈرن خریدنے کے منصوبے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔
اس معاہدے کی مالیت دسیوں ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
یہ منظوری اسرائیل کی وزارتی کمیٹی برائے خریداری نے دی، جو دراصل 350 ارب شیکل (تقریباً 119 ارب ڈالر) کے ایک بڑے دفاعی منصوبے کا پہلا قدم ہے۔
وزارتِ دفاع کے مطابق یہ نئے سکواڈرن اسرائیلی فوج کی طویل المدتی طاقت کا بنیادی حصہ ہوں گے، جو خطے میں خطرات کا مقابلہ کرنے اور اسرائیل کی فضائی برتری کو برقرار رکھنے میں مدد دیں گے۔
وزارتِ دفاع کے ڈائریکٹر جنرل عامر بارام نے کہا کہ جنگی ضروریات کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آئندہ دس سال یا اس سے زیادہ کے لیے فوجی برتری کو یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ نے ثابت کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کا سٹریٹیجک تعلق کتنا اہم ہے اور جدید فضائی طاقت کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔
اس معاہدے کے تحت اسرائیل لاک ہیڈ مارٹن سے F-35 کا چوتھا سکواڈرن اور بوئنگ سے F-15IA کا دوسرا سکواڈرن خریدے گا۔
دسمبر میں بوئنگ کو 8.6 ارب ڈالر کا معاہدہ دیا گیا تھا، جس میں 25 نئے F-15IA طیارے شامل ہیں اور مزید 25 خریدنے کا آپشن بھی موجود ہے۔
اب اگلا مرحلہ امریکہ کی حکومت اور فوجی حکام کے ساتھ ان معاہدوں کو حتمی شکل دینا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے تھے، جبکہ آٹھ اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے، اور امریکی بحریہ اب بھی ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کیے ہوئے ہے۔
ایران نے 14 نکاتی تجاویز امریکہ کو بھیج دیں: سرکاری میڈیا
ایران نے پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنا مؤقف واشنگٹن کو پہنچا دیا ہے۔
اس کی تصدیق خود صدر ٹرمپ نے بھی کی ہے مگر ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایران کی تجویز کا جائزہ تو لیں گے لیکن ضروری نہیں کہ انہیں قبول بھی کیا جائے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکہ کی نو نکات پر مشتمل تجاویز کے جواب میں ایران نے 14 نکاتی تجاویز بھیجی ہیں۔
ان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اپنی تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا مگر ایران تمام معاملات 30 دن کے اندر حل کرنا چاہتا ہے۔
تسنیم کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ توجہ جنگ بندی میں توسیع کے بجائے ’جنگ کے خاتمے‘ پر ہونی چاہیے۔
ایران کی جانب سے واشنگٹن پہنچائی جانے والی تجویز میں دوبارہ حملے سے دور رہنے کی ضمانت، ایران کے آس پاس سے امریکی فوجیوں کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے ہرجانے کی ادائیگی، ایران پر ہر قسم کی پابندیوں کا خاتمہ، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا اختتام اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے طریقۂ کار جیسے امور شامل ہیں۔
تسنیم کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان تجاویز پر امریکہ کے باضابطہ جواب کا منتظر ہیں۔
ایران تجویز کا جائزہ لوں گا مگر ضروری نہیں قابل قبول ہوں: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی ایران کی جانب سے دی گئی تازہ ترین امن تجویز کا جائزہ لیں گے، تاہم انہوں نے اس کے قابل قبول ہونے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے ٹرتھ سوشل پر لکھا ’میں جلد ہی اس منصوبے کا جائزہ لینے والا ہوں جو ایران نے ہمیں بھیجا ہے، لیکن میرا خیال نہیں کہ یہ قابل قبول ہو گا کیونکہ انہوں نے گذشتہ 47 برسوں میں انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ کیا اس کی مناسب قیمت ابھی تک ادا نہیں کی۔‘ اے ایف پی
جنگ یا امن کا فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں: ایران
ایران نے کہا ہے کہ امریکہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ مذاکرات کے ذریعے معاملہ آگے بڑھانا چاہتا ہے یا کھلی جنگ کی طرف واپس جانا چاہتا ہے اور یہ کہ تہران دونوں راستوں کے لیے تیار ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق تہران میں سفارت کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ’اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کی راہ اختیار کرتا ہے یا تصادم کے انداز کو جاری رکھتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا ’ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے، دونوں راستوں کے لیے تیار ہے۔‘
چین نے امریکی پابندیوں کو مسترد کر دیا
چین نے کہا ہے کہ وہ ان پانچ کمپنیوں پر امریکی بین کی پابندی نہیں کرے گا جنہیں ایرانی تیل خریدنے پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی تیل کے ایک بڑے خریدار چین نے کہا کہ امریکی پابندیاں ان کمپنیوں کے معمول کے کاروبار کو ’غلط طور پر روکنے یا محدود کرنے‘ کے مترادف ہیں۔ اے ایف پی
امریکہ کے ساتھ دوبارہ تصادم کا امکان: ایرانی فوج
ایران کے ایک سینیئر فوجی عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ نئی لڑائی ’ممکن‘ ہے کیونکہ امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تازہ تجویز پر تنقید کی ہے۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق مرکزی کمانڈ سینٹر خاتم الانبیا کے محمد جعفر اسدی نے کہا ’ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ تصادم کا امکان ہے اور شواہد بتاتے ہیں کہ امریکہ کسی وعدے یا معاہدے کا پابند نہیں۔‘
امریکہ قطر کو چار ارب ڈالر کے پیٹریاٹ میزائل دے گا
امریکہ نے جمعے کو اعلان کیا کہ اس نے خلیجی اتحادی قطر کو چار ارب ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے جبکہ اسرائیل کو تقریباً ایک ارب ڈالر کے درست ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیار فراہم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس کو بھیجی گئی اطلاعات میں کہا کہ دونوں سودے امریکہ کی ’خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی‘ کے مقاصد کے مطابق ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ
ایران
آبنائے ہرمز
اسرائیل
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے ایران کی 14 نکاتی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کے ذریعے پہنچایا، جس کا تہران میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو
اتوار, مئی 3, 2026 - 23:45
Main image:
ایک پاکستانی رینجر 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں امریکہ-ایران امن مذاکرات کے لیے ایک بل بورڈ کے پاس سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)
دنیا
jw id:
tZKbyccz
type:
video
related nodes:
آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو ادائیگی پر امریکہ کی شپنگ کمپنیوں کو وارننگ
صدر ٹرمپ کی پاکستان کی پھر تعریف، ایران کی نئی تجویز سے ’مطمئن نہیں‘
ٹرمپ کے فتح کے اعلان پر ایرانی ردعمل کیا ہوگا؟ خفیہ اداروں کا جائزہ
ایران مذاکرات چاہتا ہے تو ہمارے پاس آئے یا کال کر لے: صدر ٹرمپ
SEO Title:
پاکستان کے ذریعے امریکی جواب موصول، تجویز پر غور جاری: ایران
copyright:
show related homepage:
Show on Homepage
Discussion in the ATmosphere