{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiefluvx7zani4uktdb7aartkh2q2qdkc2ze4rua6bo4qq23sl2ug4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mkye6oarwec2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihkqjcakgghdwogj5chky5p6g4oufienrsfi7xygxlukonbzl55oi"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 81145
},
"path": "/node/185747",
"publishedAt": "2026-05-03T18:43:41.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"ایران",
"آبنائے ہرمز",
"اسرائیل",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"video"
],
"textContent": "**پاکستان کے ذریعے امریکی جواب موصول، تجویز پر غور جاری: ایران**\n\nایران نے اتوار کو کہا ہے کہ اسے پاکستان کے ذریعے امریکہ کی جانب سے امن مذاکرات کے لیے اپنی تازہ پیشکش پر جواب موصول ہو گیا ہے۔\n\nایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے ایران کی 14 نکاتی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کے ذریعے پہنچایا، جس کا تہران میں جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم اس پیش رفت کی فوری طور پر امریکہ یا پاکستان کی جانب سے تصدیق نہیں ہو سکی۔\n\nایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس مرحلے پر جوہری مذاکرات زیر غور نہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے اور خلیجی بحری ناکہ بندی کے خاتمے تک جوہری پروگرام پر بات چیت مؤخر رکھنا چاہتا ہے۔\n\nاس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایرانی تجویز کا جائزہ لیں گے تاہم ان کے بقول یہ قابل قبول نہیں ہو سکتی کیونکہ ایران نے ماضی کے اقدامات کی ’کافی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔‘\n\nروئٹرز کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کردہ تجویز میں جنگ کے خاتمے، پابندیوں کے خاتمے، امریکی افواج کے انخلا، منجمد اثاثوں کی واپسی اور آبنائے کے لیے نئے کنٹرول نظام جیسے نکات شامل ہیں۔\n\nامریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے سے قبل اپنے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں قبول کرے اور افزودہ یورینیم کے بڑے ذخیرے سے دستبردار ہو جبکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن قرار دیتا ہے اور پابندیاں ختم کرنے کے بدلے محدود شرائط پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ (روئٹرز)\n\n* * *\n\n**جنگ کے مستقل خاتمے کے امریکہ کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا: ایران**\n\nپاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اتوار کو کہا ہے کہ اگر امریکہ جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے صحیح معنوں میں معاملات کا حل چاہتا ہے تو اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا۔\n\nرضا امیری مقدم نے ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ارنا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران اپنے عوام اور خودمختاری کی حفاظت کے لیے پرعزم اور شفاف ہے اور جنگ بندی ہو یا مذاکرات ہوں، دشمنوں کو حالات کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘\n\nرضا امیری مقدم نے کہا کہ ’ایران کی جانب سے پیش کردہ مذاکراتی منصوبے کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ مذکورہ منصوبہ ثالثی کرنے والے پاکستانی دوستوں کو دیا جا چکا ہے جسے وہ امریکہ کے حوالے کرچکے ہیں۔\n\nایران کے سفیر نے کہا کہ عالمی برادری مذاکرات اور سفارتی طریقہ کار کے نتیجے کا انتظار کر رہی ہے۔\n\nرضا امیری مقدم نے کہا کہ ایران اپنی قوم اور اقتدار اعلی کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’اب معاملات امریکیوں کے ہاتھوں میں ہیں۔ اگر امریکہ مذاکرات میں رکاوٹوں کے خاتمے کا خواہاں ہے تو اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔‘\n\n* * *\n\n**آبنائے ہرمز کو امریکی ’قزاقوں‘ کے لیے قبرستان بنا دیں گے: ایران**\n\nایران کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اتوار کو کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو امریکی افواج کے لیے ’قبرستان‘ بنا دیا جائے گا۔\n\nمحسن رضائی، جو سابق آئی آر جی سی کمانڈر اور تہران کی ایکسپیڈینسی کونسل کے سیکریٹری ہیں، نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں موجود امریکی افواج ’قزاق‘ یعنی سمندری ڈاکوؤں کی طرح ہیں۔\n\nانہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’دنیا میں صرف امریکہ ایسا قزاق ہے جس کے پاس طیارہ بردار جہاز ہیں۔ ہماری قزاقوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اتنی ہی ہے جتنی جنگی جہازوں کو ڈبونے کی صلاحیت ہے۔‘\n\nمحسن رضائی نے مزید کہا، ’تیار ہو جاؤ اپنے طیارہ بردار جہازوں اور افواج کے قبرستان کا سامنا کرنے کے لیے، جیسے تمہارے طیاروں کا ملبہ اصفہان میں چھوڑ دیا گیا تھا۔‘\n\nانہوں نے اس بات کا حوالہ گزشتہ ماہ پیش آنے والے واقعے سے دیا، جب ایک امریکی F-15E طیارہ مار گرایا گیا تھا۔\n\n* * *\n\n**اسرائیل کی مزید ایف 35 اور ایف 15 جنگی طیارے خریدنے کے پروگرام کی منظوری**\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیل نے اتوار کو لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ سے جدید F-35 اور F-15IA لڑاکا طیاروں کے دو نئے سکواڈرن خریدنے کے منصوبے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔\n\nاس معاہدے کی مالیت دسیوں ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔\n\nیہ منظوری اسرائیل کی وزارتی کمیٹی برائے خریداری نے دی، جو دراصل 350 ارب شیکل (تقریباً 119 ارب ڈالر) کے ایک بڑے دفاعی منصوبے کا پہلا قدم ہے۔\n\nوزارتِ دفاع کے مطابق یہ نئے سکواڈرن اسرائیلی فوج کی طویل المدتی طاقت کا بنیادی حصہ ہوں گے، جو خطے میں خطرات کا مقابلہ کرنے اور اسرائیل کی فضائی برتری کو برقرار رکھنے میں مدد دیں گے۔\n\nوزارتِ دفاع کے ڈائریکٹر جنرل عامر بارام نے کہا کہ جنگی ضروریات کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آئندہ دس سال یا اس سے زیادہ کے لیے فوجی برتری کو یقینی بنایا جائے۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ نے ثابت کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کا سٹریٹیجک تعلق کتنا اہم ہے اور جدید فضائی طاقت کی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔\n\nاس معاہدے کے تحت اسرائیل لاک ہیڈ مارٹن سے F-35 کا چوتھا سکواڈرن اور بوئنگ سے F-15IA کا دوسرا سکواڈرن خریدے گا۔\n\nدسمبر میں بوئنگ کو 8.6 ارب ڈالر کا معاہدہ دیا گیا تھا، جس میں 25 نئے F-15IA طیارے شامل ہیں اور مزید 25 خریدنے کا آپشن بھی موجود ہے۔\n\nاب اگلا مرحلہ امریکہ کی حکومت اور فوجی حکام کے ساتھ ان معاہدوں کو حتمی شکل دینا ہے۔\n\nیہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر فضائی حملے کیے تھے، جبکہ آٹھ اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے، اور امریکی بحریہ اب بھی ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کیے ہوئے ہے۔\n\n* * *\n\n**ایران نے 14 نکاتی تجاویز امریکہ کو بھیج دیں: سرکاری میڈیا**\n\nایران نے پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنا مؤقف واشنگٹن کو پہنچا دیا ہے۔\n\nاس کی تصدیق خود صدر ٹرمپ نے بھی کی ہے مگر ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایران کی تجویز کا جائزہ تو لیں گے لیکن ضروری نہیں کہ انہیں قبول بھی کیا جائے۔\n\nایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق امریکہ کی نو نکات پر مشتمل تجاویز کے جواب میں ایران نے 14 نکاتی تجاویز بھیجی ہیں۔\n\nان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے اپنی تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا مگر ایران تمام معاملات 30 دن کے اندر حل کرنا چاہتا ہے۔\n\nتسنیم کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ توجہ جنگ بندی میں توسیع کے بجائے ’جنگ کے خاتمے‘ پر ہونی چاہیے۔\n\nایران کی جانب سے واشنگٹن پہنچائی جانے والی تجویز میں دوبارہ حملے سے دور رہنے کی ضمانت، ایران کے آس پاس سے امریکی فوجیوں کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے ہرجانے کی ادائیگی، ایران پر ہر قسم کی پابندیوں کا خاتمہ، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا اختتام اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے طریقۂ کار جیسے امور شامل ہیں۔\n\nتسنیم کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان تجاویز پر امریکہ کے باضابطہ جواب کا منتظر ہیں۔\n\n* * *\n\n**ایران تجویز کا جائزہ لوں گا مگر ضروری نہیں قابل قبول ہوں: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی ایران کی جانب سے دی گئی تازہ ترین امن تجویز کا جائزہ لیں گے، تاہم انہوں نے اس کے قابل قبول ہونے پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔\n\nانہوں نے ٹرتھ سوشل پر لکھا ’میں جلد ہی اس منصوبے کا جائزہ لینے والا ہوں جو ایران نے ہمیں بھیجا ہے، لیکن میرا خیال نہیں کہ یہ قابل قبول ہو گا کیونکہ انہوں نے گذشتہ 47 برسوں میں انسانیت اور دنیا کے ساتھ جو کچھ کیا اس کی مناسب قیمت ابھی تک ادا نہیں کی۔‘ اے ایف پی\n\n* * *\n\n**جنگ یا امن کا فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں: ایران**\n\nایران نے کہا ہے کہ امریکہ فیصلہ کرے کہ آیا وہ مذاکرات کے ذریعے معاملہ آگے بڑھانا چاہتا ہے یا کھلی جنگ کی طرف واپس جانا چاہتا ہے اور یہ کہ تہران دونوں راستوں کے لیے تیار ہے۔\n\nسرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق تہران میں سفارت کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ’اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سفارت کاری کی راہ اختیار کرتا ہے یا تصادم کے انداز کو جاری رکھتا ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا ’ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے، دونوں راستوں کے لیے تیار ہے۔‘\n\n* * *\n\n**چین نے امریکی پابندیوں کو مسترد کر دیا**\n\nچین نے کہا ہے کہ وہ ان پانچ کمپنیوں پر امریکی بین کی پابندی نہیں کرے گا جنہیں ایرانی تیل خریدنے پر نشانہ بنایا گیا ہے۔\n\nایرانی تیل کے ایک بڑے خریدار چین نے کہا کہ امریکی پابندیاں ان کمپنیوں کے معمول کے کاروبار کو ’غلط طور پر روکنے یا محدود کرنے‘ کے مترادف ہیں۔ اے ایف پی\n\n* * *\n\n**امریکہ کے ساتھ دوبارہ تصادم کا امکان: ایرانی فوج**\n\nایران کے ایک سینیئر فوجی عہدے دار نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ نئی لڑائی ’ممکن‘ ہے کیونکہ امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تازہ تجویز پر تنقید کی ہے۔\n\nفارس نیوز ایجنسی کے مطابق مرکزی کمانڈ سینٹر خاتم الانبیا کے محمد جعفر اسدی نے کہا ’ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ تصادم کا امکان ہے اور شواہد بتاتے ہیں کہ امریکہ کسی وعدے یا معاہدے کا پابند نہیں۔‘\n\n* * *\n\n**امریکہ قطر کو چار ارب ڈالر کے پیٹریاٹ میزائل دے گا**\n\nامریکہ نے جمعے کو اعلان کیا کہ اس نے خلیجی اتحادی قطر کو چار ارب ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ میزائلوں کی فروخت کی منظوری دے دی ہے جبکہ اسرائیل کو تقریباً ایک ارب ڈالر کے درست ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیار فراہم کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔\n\nامریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس کو بھیجی گئی اطلاعات میں کہا کہ دونوں سودے امریکہ کی ’خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی‘ کے مقاصد کے مطابق ہیں۔\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nایران\n\nآبنائے ہرمز\n\nاسرائیل\n\nایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق واشنگٹن نے ایران کی 14 نکاتی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کے ذریعے پہنچایا، جس کا تہران میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, مئی 3, 2026 - 23:45\n\nMain image:\n\n> <p>ایک پاکستانی رینجر 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں امریکہ-ایران امن مذاکرات کے لیے ایک بل بورڈ کے پاس سے گزر رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\ntZKbyccz\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nآبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران کو ادائیگی پر امریکہ کی شپنگ کمپنیوں کو وارننگ\n\nصدر ٹرمپ کی پاکستان کی پھر تعریف، ایران کی نئی تجویز سے ’مطمئن نہیں‘\n\nٹرمپ کے فتح کے اعلان پر ایرانی ردعمل کیا ہوگا؟ خفیہ اداروں کا جائزہ\n\nایران مذاکرات چاہتا ہے تو ہمارے پاس آئے یا کال کر لے: صدر ٹرمپ\n\nSEO Title:\n\nپاکستان کے ذریعے امریکی جواب موصول، تجویز پر غور جاری: ایران\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "پاکستان کے ذریعے امریکی جواب موصول، تجویز پر غور جاری: ایران"
}