External Publication
Visit Post

صدر ٹرمپ کی پاکستان کی پھر تعریف، ایران کی نئی تجویز سے ’مطمئن نہیں‘

Independent Urdu [Unofficial] May 1, 2026
Source
  • ایران نے نئی تجویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ بھجوا دی
  • وائٹ ہاؤس کی ایران کی نئی تجویز موصول ہونے کی تصدیق، تفصیل بتانے سے گریز
  • ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق ایران جنگ 60 دن کی ڈیڈ لائن سے پہلے ختم ہو چکی

لائیو اپ ڈیٹس


ٹرمپ ایران کی نئی تجویز سے مطمئن نہیں: صدر ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ وہ ایران کی جانب سے تنازع کے حل کے لیے پیش کی گئی نئی تجویز سے ’مطمئن نہیں‘ ہیں۔

صدر ٹرمپ کا یہ بیان وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے اپنی نئی تجویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے لان میں صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے، لیکن میں اس (تجویز) سے مطمئن نہیں ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی فوج باقی نہیں بچی ہے۔‘

امریکی صدر نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات فون پر بھی جاری ہیں، تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔

امریکی صدر نے ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے پاکستان کی ایک بار پھر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم پاکستان کی بہت عزت کرتے ہیں۔‘

ساتھ ہی انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی ایک بار پھر تعریف کی۔

انہوں نے مزید کہا: ’ہمیں پاکستان، اسلام آباد کے لیے بہت احترام ہے اور وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی بھی بے حد عزت کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘


وائٹ ہاؤس کی ایران کی نئی تجویز موصول ہونے کی تصدیق، تفصیل بتانے سے گریز

وائٹ ہاؤس نے جمعے کو ایران کی جانب سے امریکہ کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیجی گئی نئی تجویز کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی تفصیل دینے سے انکار کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکہ نجی سفارتی بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا: ’ہم نجی سفارتی گفتگو کی تفصیلات بیان نہیں کرتے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جا سکتے اور مذاکرات جاری ہیں تاکہ امریکہ کی مختصر اور طویل مدتی قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘


ایران نے نئی تجویز پاکستانی ثالثوں کو پیش کر دی: ارنا

ایران نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ اس نے امریکہ سے جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے تحت مذاکرات کے لیے اپنی تازہ ترین تجویز پاکستان کے حوالے کر دی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران نے یہ دستاویز جمعرات کی شام پاکستان کو دی، جو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ جنگ کا خاتمہ اور پائیدار امن کا قیام تہران کی امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں بنیادی ترجیحات ہیں۔

سات اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 11 اپریل کو اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات ہوئے، تاہم یہ بات چیت کسی معاہدے کے بغیر ہی ختم ہو گئی تھی۔

Exclusive | Iran submits new proposal to Pakistani mediatorhttps://t.co/n5h6YVWJrh pic.twitter.com/aB1Jp7wd7o

— IRNA News Agency (@IrnaEnglish) May 1, 2026

پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اسلام آباد امریکہ اور ایران میں کشیدگی کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے پرامید ہے اور ’سفارت کاری کی گھڑی‘ رکی نہیں ہے۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ اگرچہ پاکستان کی ثالثی سے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی ہوئی، لیکن اس دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری رہا۔

پاکستان بطور ثالث اب بھی کشیدگی میں کمی کی کوشش کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے پیغامات کا تبادلہ جاری رہنے کی خبر بھی سامنے آئی ہے۔

اسی حوالے سے جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا: ’ہم خطے اور اس سے باہر امن اور خوشحالی کے لیے اپنی مخلص کوششیں جاری رکھیں گے۔‘

بریفنگ کے بعد صحافیوں کی جانب سے کیے گئے مذاکرات کے حوالے سے سوالات پر طاہر اندرابی نے کہا کہ ’ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ بھی اسی تناظر میں تھا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے اہم ملاقاتیں کیں۔ صورت حال یہ ہے سفارت کاری کی گھڑی رکی نہیں ہے۔‘


ایران جنگ 60 دن کی ڈیڈ لائن سے پہلے ختم ہو چکی: ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ

ٹرمپ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران میں جنگ اپریل کے اوائل میں شروع ہونے والی جنگ بندی کے باعث پہلے ہی ختم ہو چکی ہے، جس سے وائٹ ہاؤس کو کانگریس سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو سینیٹ میں اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی نے عملی طور پر جنگ کو روک دیا ہے۔ اس تشریح کے تحت انتظامیہ پر 1973 کے قانون کے مطابق 60 دن سے زائد جاری رہنے والی فوجی کارروائی کے لیے کانگریس سے باضابطہ منظوری لینے کی شرط ابھی لاگو نہیں ہوتی۔

اگرچہ جنگ بندی میں توسیع کی جا چکی ہے، تاہم ایران اب بھی آبنائے ہرمز پر اپنا دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ امریکی بحریہ ایرانی تیل بردار جہازوں کو سمندر میں جانے سے روکنے کے لیے ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔


آبنائے ہرمز پر ایران پر اعتماد نہیں: یو اے ای

متحدہ عرب امارات کے ایک سینیئر عہدیدار نے جمعے کو کہا ہے کہ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی یکطرفہ انتظام پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

خطے میں تنازع کو دو ماہ گزر چکے ہیں اور یہ اہم بحری گزرگاہ اب بھی بڑی حد تک بند ہے، کیونکہ ایران کی ناکہ بندی برقرار ہے جبکہ امریکی بحریہ ایرانی خام تیل کی برآمدات کو روک رہی ہے۔

روئٹرز کے مطابق ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کو نئے فوجی حملوں کے منصوبوں پر بریفنگ دی جائے گی۔

ادھر دو سینیئر ایرانی عہدیداروں نے بتایا کہ ایران نے اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو فعال کر دیا ہے اور کسی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق ایران کو اندازہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایک مختصر مگر شدید حملہ ہو سکتا ہے، جس کے بعد ممکنہ طور پر اسرائیل بھی کارروائی کرے۔


یو اے ای نے اپنے شہریوں کو ایران، لبنان اور عراق کا سفر سے روک دیا

متحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں کو ایران، لبنان اور عراق کے سفر سے روک دیا ہے اور ان ممالک میں موجود اماراتی شہریوں کو فوری طور پر وطن واپس آنے کی ہدایت کی ہے۔

یو اے ای وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام خطے کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔


ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں تعطل، تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ

جمعے کو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے کیوں کہ ایران جنگ کے خاتمے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں جب کہ تہران نے آبنائے ہرمز اور امریکی بحریہ نے ایرانی خام تیل کی برآمدات کو بند کر رکھا ہے۔

روئٹرز کے مطابق گرینچ معیاری وقت کے مطابق یکم مئی کو صبح چار بج کر 21 منٹ پر جولائی کے لیے برینٹ کروڈ کی قیمت 1.04 ڈالر یعنی 0.94 فیصد اضافے کے ساتھ 111.44 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکسس انٹرمیڈیٹ 41 سینٹ یعنی 0.39 فیصد بڑھ کر 105.48 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔

دونوں بینچ مارکس میں مسلسل چار ماہ تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ برینٹ کا جون کا معاہدہ، جس کی مدت جمعرات کو ختم ہو گئی، 126.41 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیوں کہ نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہو گئی اور دنیا کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی فراہمی کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل معطل ہو گئی تھی۔

صرف مارچ میں برینٹ کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔

آٹھ اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے، تاہم ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعرات کی شام کہا کہ امریکی مذاکرات سے فوری نتائج کی توقع رکھنا مناسب نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میری رائے میں، اس بات سے قطع نظر کہ ثالث کون ہے، کم وقت میں کسی نتیجے پر پہنچنے کی توقع کرنا زیادہ حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔‘

دن کے آغاز میں، ایران کے پاسداران انقلاب کے ایک اعلیٰ اہلکار نے دھمکی دی کہ اگر واشنگٹن نے ایران پر دوبارہ حملے کیے تو امریکی ٹھکانوں پر ’طویل اور تکلیف دہ حملے‘ کیے جائیں گے، جس کے بعد تیل کی قیمتیں گرنے سے پہلے دن کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔


آبنائے ہرمز کی بندش کی قیمت پوری انسانیت ادا کر رہی ہے: انتونیو گوتریش

اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریش نے آبنائے ہرمز کے علاقے میں جہاز رانی کے حقوق اور بحری نقل و حرکت کی آزادیوں کو محدود کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی قیمت پوری انسانیت ادا کر رہی ہے اور عالمی معشیت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔

انہوں نے جمعے کو اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ ’مجھے آبنائے ہرمز کے علاقے میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کو محدود کیے جانے پر سخت تشویش ہے جس سے توانائی، ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ اور خوراک کی منڈیاں درہم برہم ہو رہی ہیں اور عالمی معیشت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔‘

I’m deeply concerned about the curtailment of navigational rights & freedoms in the area of the Strait of Hormuz disrupting energy, transport, manufacturing & food markets & strangling the global economy.

All of humanity is paying the price.

Consider these three scenarios:

1:…

— António Guterres (@antonioguterres) April 30, 2026

انہوں نے آبنائے ہرمز کی بندش کے پیش نظر تین طرح کی صورت حال کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہی پابندی ہٹانے کی صورت میں فراہمی کا سلسلہ بحال ہونے میں مہینوں لگیں گے جس سے معاشی پیداوار میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ طویل ہو جائے گا۔

عالمی معاشی شرح نمو 3.4 فیصد سے کم ہو کر 3.1 فیصد رہ جائے گی۔ عالمی مہنگائی، جس میں کمی آ رہی تھی 3.8 فیصد سے بڑھ کر 4.4 فیصد ہو جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انتونیو گوتریش کے مطابق اگر تعطل سال کے وسط تک جاری رہے رہا تو شرح نمو کم ہو کر 2.5 فیصد رہ جائے گی۔ مہنگائی 5.4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تین کروڑ 20 لاکھ افراد غربت میں دھکیل دیے جائیں گے۔ کھاد کی قلت پیدا ہو جائے گی، اور فصلوں کی پیداوار کم ہو جائے گی۔ مزید 4 کروڑ 50 لاکھ افراد کو شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے مزید لکھا ہے کہ سخت رکاوٹیں رواں سال کے آخر تک جاری رہنے کی صورت میں مہنگائی تیزی سے بڑھ کر چھ فیصد سے تجاوز کر جائے گی۔ شرح نمو گر کر دو فیصد رہ جائے گی۔ خاص طور پر دنیا کی کمزور ترین آبادیوں کو بے پناہ مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں عالمی کساد بازاری کے خطرے کا سامنا ہے، جس کے لوگوں، معیشت اور سیاسی و سماجی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔‘

اقوام متحدہ

انتونیو گوتیریش

آبنائے ہرمز

ایران

اسرائیل

امریکہ

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے لان میں صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے، لیکن میں اس (تجویز) سے مطمئن نہیں ہوں۔‘

 انڈپینڈنٹ اردو

جمعہ, مئی 1, 2026 - 22:00

Main image:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یکم مئی 2026 کو واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے لان میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں (روئٹرز)

دنیا

type:

news

label:

لائیو اپ ڈیٹس

related nodes:

جی سی سی کی ایرانی حملوں کی مذمت، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ

آبنائے ہرمز کی صورت حال پاکستان پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے: عاصم افتخار

ایران ’تباہی کی حالت‘ میں ہے، آبنائے ہرمز جلد از جلد کھلوانا چاہتا ہے: صدر ٹرمپ

آبنائے ہرمز ایران کے معاہدہ نہ کرنے تک بند رہے گی: ٹرمپ

SEO Title:

صدر ٹرمپ کی پاکستان کی پھر تعریف، ایران کی نئی تجویز سے ’مطمئن نہیں‘

copyright:

show related homepage:

Show on Homepage

Discussion in the ATmosphere

Loading comments...