{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreihiba47anypesw2xaj23rnn7pano6uh6yl4iokqxycdcd33imb2py",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mksp3t4b44k2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihkmhntsfuvmbdufrgipullxnrzijrycdhnhvhv2b45u7r25qnuea"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 111436
},
"path": "/node/185721",
"publishedAt": "2026-05-01T17:00:03.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"https://t.co/n5h6YVWJrh",
"pic.twitter.com/aB1Jp7wd7o",
"May 1, 2026",
"April 30, 2026",
"اقوام متحدہ",
"انتونیو گوتیریش",
"آبنائے ہرمز",
"ایران",
"اسرائیل",
"امریکہ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"news",
"لائیو اپ ڈیٹس",
"@IrnaEnglish",
"@antonioguterres"
],
"textContent": " * ایران نے نئی تجویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ بھجوا دی\n * وائٹ ہاؤس کی ایران کی نئی تجویز موصول ہونے کی تصدیق، تفصیل بتانے سے گریز\n * ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق ایران جنگ 60 دن کی ڈیڈ لائن سے پہلے ختم ہو چکی\n\n**لائیو اپ ڈیٹس**\n---\n\n* * *\n\n**ٹرمپ ایران کی نئی تجویز سے مطمئن نہیں: صدر ٹرمپ**\n\nامریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو میں ایک مرتبہ پھر پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ وہ ایران کی جانب سے تنازع کے حل کے لیے پیش کی گئی نئی تجویز سے ’مطمئن نہیں‘ ہیں۔\n\nصدر ٹرمپ کا یہ بیان وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران نے اپنی نئی تجویز پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو دی ہے۔\n\nصدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے لان میں صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے، لیکن میں اس (تجویز) سے مطمئن نہیں ہوں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے کیونکہ ان کے پاس کوئی فوج باقی نہیں بچی ہے۔‘\n\nامریکی صدر نے بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات فون پر بھی جاری ہیں، تاہم انہوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی۔\n\nامریکی صدر نے ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے پاکستان کی ایک بار پھر تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم پاکستان کی بہت عزت کرتے ہیں۔‘\n\nساتھ ہی انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بھی ایک بار پھر تعریف کی۔\n\nانہوں نے مزید کہا: ’ہمیں پاکستان، اسلام آباد کے لیے بہت احترام ہے اور وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی بھی بے حد عزت کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ کام کر رہے ہیں۔‘\n\n* * *\n\n**وائٹ ہاؤس کی ایران کی نئی تجویز موصول ہونے کی تصدیق، تفصیل بتانے سے گریز**\n\nوائٹ ہاؤس نے جمعے کو ایران کی جانب سے امریکہ کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیجی گئی نئی تجویز کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی تفصیل دینے سے انکار کر دیا ہے۔\n\nوائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکہ نجی سفارتی بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کرتا۔\n\nانہوں نے کہا: ’ہم نجی سفارتی گفتگو کی تفصیلات بیان نہیں کرتے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جا سکتے اور مذاکرات جاری ہیں تاکہ امریکہ کی مختصر اور طویل مدتی قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘\n\n* * *\n\n**ایران نے نئی تجویز پاکستانی ثالثوں کو پیش کر دی: ارنا**\n\nایران نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ اس نے امریکہ سے جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے تحت مذاکرات کے لیے اپنی تازہ ترین تجویز پاکستان کے حوالے کر دی ہے۔\n\nسرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران نے یہ دستاویز جمعرات کی شام پاکستان کو دی، جو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔\n\nادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ جنگ کا خاتمہ اور پائیدار امن کا قیام تہران کی امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں بنیادی ترجیحات ہیں۔\n\nسات اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 11 اپریل کو اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات ہوئے، تاہم یہ بات چیت کسی معاہدے کے بغیر ہی ختم ہو گئی تھی۔\n\n> Exclusive | Iran submits new proposal to Pakistani mediatorhttps://t.co/n5h6YVWJrh pic.twitter.com/aB1Jp7wd7o\n\n> — IRNA News Agency (@IrnaEnglish) May 1, 2026\n\nپاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ اسلام آباد امریکہ اور ایران میں کشیدگی کے مذاکرات کے ذریعے حل کے لیے پرامید ہے اور ’سفارت کاری کی گھڑی‘ رکی نہیں ہے۔\n\n28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر مشترکہ حملے اور تہران کی جوابی کارروائیوں کے بعد خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔ اگرچہ پاکستان کی ثالثی سے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی ہوئی، لیکن اس دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری رہا۔\n\nپاکستان بطور ثالث اب بھی کشیدگی میں کمی کی کوشش کر رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے لیے پیغامات کا تبادلہ جاری رہنے کی خبر بھی سامنے آئی ہے۔\n\nاسی حوالے سے جمعرات کو ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا: ’ہم خطے اور اس سے باہر امن اور خوشحالی کے لیے اپنی مخلص کوششیں جاری رکھیں گے۔‘\n\nبریفنگ کے بعد صحافیوں کی جانب سے کیے گئے مذاکرات کے حوالے سے سوالات پر طاہر اندرابی نے کہا کہ ’ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ بھی اسی تناظر میں تھا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے اہم ملاقاتیں کیں۔ صورت حال یہ ہے سفارت کاری کی گھڑی رکی نہیں ہے۔‘\n\n* * *\n\n**ایران جنگ 60 دن کی ڈیڈ لائن سے پہلے ختم ہو چکی: ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ**\n\nٹرمپ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران میں جنگ اپریل کے اوائل میں شروع ہونے والی جنگ بندی کے باعث پہلے ہی ختم ہو چکی ہے، جس سے وائٹ ہاؤس کو کانگریس سے منظوری لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔\n\nوزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو سینیٹ میں اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی نے عملی طور پر جنگ کو روک دیا ہے۔ اس تشریح کے تحت انتظامیہ پر 1973 کے قانون کے مطابق 60 دن سے زائد جاری رہنے والی فوجی کارروائی کے لیے کانگریس سے باضابطہ منظوری لینے کی شرط ابھی لاگو نہیں ہوتی۔\n\nاگرچہ جنگ بندی میں توسیع کی جا چکی ہے، تاہم ایران اب بھی آبنائے ہرمز پر اپنا دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ امریکی بحریہ ایرانی تیل بردار جہازوں کو سمندر میں جانے سے روکنے کے لیے ناکہ بندی جاری رکھے ہوئے ہے۔\n\n* * *\n\n**آبنائے ہرمز پر ایران پر اعتماد نہیں: یو اے ای**\n\nمتحدہ عرب امارات کے ایک سینیئر عہدیدار نے جمعے کو کہا ہے کہ تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی یکطرفہ انتظام پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔\n\nخطے میں تنازع کو دو ماہ گزر چکے ہیں اور یہ اہم بحری گزرگاہ اب بھی بڑی حد تک بند ہے، کیونکہ ایران کی ناکہ بندی برقرار ہے جبکہ امریکی بحریہ ایرانی خام تیل کی برآمدات کو روک رہی ہے۔\n\nروئٹرز کے مطابق ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے صدر ٹرمپ کو نئے فوجی حملوں کے منصوبوں پر بریفنگ دی جائے گی۔\n\nادھر دو سینیئر ایرانی عہدیداروں نے بتایا کہ ایران نے اپنی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو فعال کر دیا ہے اور کسی حملے کی صورت میں بھرپور جواب دینے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔\n\nان کے مطابق ایران کو اندازہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایک مختصر مگر شدید حملہ ہو سکتا ہے، جس کے بعد ممکنہ طور پر اسرائیل بھی کارروائی کرے۔\n\n* * *\n\n**یو اے ای نے اپنے شہریوں کو ایران، لبنان اور عراق کا سفر سے روک دیا**\n\nمتحدہ عرب امارات نے اپنے شہریوں کو ایران، لبنان اور عراق کے سفر سے روک دیا ہے اور ان ممالک میں موجود اماراتی شہریوں کو فوری طور پر وطن واپس آنے کی ہدایت کی ہے۔\n\nیو اے ای وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدام خطے کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔\n\n* * *\n\n**ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں تعطل، تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ**\n\nجمعے کو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے کیوں کہ ایران جنگ کے خاتمے کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں جب کہ تہران نے آبنائے ہرمز اور امریکی بحریہ نے ایرانی خام تیل کی برآمدات کو بند کر رکھا ہے۔\n\nروئٹرز کے مطابق گرینچ معیاری وقت کے مطابق یکم مئی کو صبح چار بج کر 21 منٹ پر جولائی کے لیے برینٹ کروڈ کی قیمت 1.04 ڈالر یعنی 0.94 فیصد اضافے کے ساتھ 111.44 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکسس انٹرمیڈیٹ 41 سینٹ یعنی 0.39 فیصد بڑھ کر 105.48 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔\n\nدونوں بینچ مارکس میں مسلسل چار ماہ تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا جب کہ برینٹ کا جون کا معاہدہ، جس کی مدت جمعرات کو ختم ہو گئی، 126.41 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔\n\nفروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیوں کہ نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہو گئی اور دنیا کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی فراہمی کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل معطل ہو گئی تھی۔\n\nصرف مارچ میں برینٹ کی قیمتوں میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔\n\nآٹھ اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے، تاہم ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جمعرات کی شام کہا کہ امریکی مذاکرات سے فوری نتائج کی توقع رکھنا مناسب نہیں ہے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ’میری رائے میں، اس بات سے قطع نظر کہ ثالث کون ہے، کم وقت میں کسی نتیجے پر پہنچنے کی توقع کرنا زیادہ حقیقت پسندانہ نہیں ہے۔‘\n\nدن کے آغاز میں، ایران کے پاسداران انقلاب کے ایک اعلیٰ اہلکار نے دھمکی دی کہ اگر واشنگٹن نے ایران پر دوبارہ حملے کیے تو امریکی ٹھکانوں پر ’طویل اور تکلیف دہ حملے‘ کیے جائیں گے، جس کے بعد تیل کی قیمتیں گرنے سے پہلے دن کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔\n\n* * *\n\n**آبنائے ہرمز کی بندش کی قیمت پوری انسانیت ادا کر رہی ہے: انتونیو گوتریش**\n\nاقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریش نے آبنائے ہرمز کے علاقے میں جہاز رانی کے حقوق اور بحری نقل و حرکت کی آزادیوں کو محدود کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی قیمت پوری انسانیت ادا کر رہی ہے اور عالمی معشیت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔\n\nانہوں نے جمعے کو اپنی ایکس پوسٹ میں کہا کہ ’مجھے آبنائے ہرمز کے علاقے میں جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کو محدود کیے جانے پر سخت تشویش ہے جس سے توانائی، ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ اور خوراک کی منڈیاں درہم برہم ہو رہی ہیں اور عالمی معیشت کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔‘\n\n> I’m deeply concerned about the curtailment of navigational rights & freedoms in the area of the Strait of Hormuz disrupting energy, transport, manufacturing & food markets & strangling the global economy.\n>\n> All of humanity is paying the price.\n>\n> Consider these three scenarios:\n>\n> 1:…\n\n> — António Guterres (@antonioguterres) April 30, 2026\n\nانہوں نے آبنائے ہرمز کی بندش کے پیش نظر تین طرح کی صورت حال کی نشاندہی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہی پابندی ہٹانے کی صورت میں فراہمی کا سلسلہ بحال ہونے میں مہینوں لگیں گے جس سے معاشی پیداوار میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ طویل ہو جائے گا۔\n\nعالمی معاشی شرح نمو 3.4 فیصد سے کم ہو کر 3.1 فیصد رہ جائے گی۔ عالمی مہنگائی، جس میں کمی آ رہی تھی 3.8 فیصد سے بڑھ کر 4.4 فیصد ہو جائے گی۔\n\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانتونیو گوتریش کے مطابق اگر تعطل سال کے وسط تک جاری رہے رہا تو شرح نمو کم ہو کر 2.5 فیصد رہ جائے گی۔ مہنگائی 5.4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تین کروڑ 20 لاکھ افراد غربت میں دھکیل دیے جائیں گے۔ کھاد کی قلت پیدا ہو جائے گی، اور فصلوں کی پیداوار کم ہو جائے گی۔ مزید 4 کروڑ 50 لاکھ افراد کو شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑے گا۔\n\nاپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں انہوں نے مزید لکھا ہے کہ سخت رکاوٹیں رواں سال کے آخر تک جاری رہنے کی صورت میں مہنگائی تیزی سے بڑھ کر چھ فیصد سے تجاوز کر جائے گی۔ شرح نمو گر کر دو فیصد رہ جائے گی۔ خاص طور پر دنیا کی کمزور ترین آبادیوں کو بے پناہ مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’ہمیں عالمی کساد بازاری کے خطرے کا سامنا ہے، جس کے لوگوں، معیشت اور سیاسی و سماجی استحکام پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔‘\n\nاقوام متحدہ\n\nانتونیو گوتیریش\n\nآبنائے ہرمز\n\nایران\n\nاسرائیل\n\nامریکہ\n\nصدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے لان میں صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ایران ڈیل کرنا چاہتا ہے، لیکن میں اس (تجویز) سے مطمئن نہیں ہوں۔‘\n\n انڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, مئی 1, 2026 - 22:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یکم مئی 2026 کو واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے لان میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں (روئٹرز)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nجی سی سی کی ایرانی حملوں کی مذمت، آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ\n\nآبنائے ہرمز کی صورت حال پاکستان پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے: عاصم افتخار\n\nایران ’تباہی کی حالت‘ میں ہے، آبنائے ہرمز جلد از جلد کھلوانا چاہتا ہے: صدر ٹرمپ\n\nآبنائے ہرمز ایران کے معاہدہ نہ کرنے تک بند رہے گی: ٹرمپ\n\nSEO Title:\n\nصدر ٹرمپ کی پاکستان کی پھر تعریف، ایران کی نئی تجویز سے ’مطمئن نہیں‘\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "صدر ٹرمپ کی پاکستان کی پھر تعریف، ایران کی نئی تجویز سے ’مطمئن نہیں‘"
}