ڈرون بمقابلہ ڈرون: یوکرین کی نئی حکمت عملی نے جنگ کا نقشہ بدل دیا
روس کی یوکرین سے جنگ شروع ہوئے ابھی ایک سال ہی گزرا تھا جب ایک یوکرینی ڈرون انسٹرکٹر نے ایک ایسا خیال پیش کیا جو فوجیوں کو کسی سائنس فکشن فلم جیسا لگا۔
خیال سادہ تو تھا، مگر ناقابلِ یقین بھی، یعنی چھوٹے کواڈکاپٹر ڈرونز کو فضا میں دشمن کے ڈرونز سے ٹکرا دینا۔
فوجیوں نے اسے فوراً مسترد کر دیا۔ ان کے نزدیک ایک چھوٹے ڈرون کو تیزی سے حرکت کرتے ہوئے ہدف سے ٹکرانا تقریباً ناممکن تھا۔ کچھ نے مذاق میں کہا کہ یہ آئیڈیا پیش کرنے والے انسٹرکٹر یقیناً سائنس فکشن سیریز ’سٹار وارز‘ بہت زیادہ دیکھ رہے ہوں گے۔
لیکن جنگ میں وہی خیالات زندہ رہتے ہیں، جو ناممکن لگتے ہیں اور وقت کے ساتھ یہی تصور یوکرین کے دفاع کا ایک اہم ستون بن گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
روس کی جانب سے دھماکہ خیز ڈرونز شہروں کو نشانہ بنا رہے تھے، جبکہ یوکرین کے پاس مہنگے میزائل کم ہوتے جا رہے تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ حملہ آور ڈرونز دفاعی نظام کو عبور کرتے رہے، بجلی کے نظام تباہ ہوتے گئے اور شدید سردی میں شہریوں کو اندھیرے اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی دباؤ نے جدت کو جنم دیا اور یوکرینی انجینیئرز نے چھوٹے کواڈکاپٹرز کو انٹرسیپٹر ڈرونز میں تبدیل کرنا شروع کر دیا، یعنی ایسے ڈرونز جو دشمن کے ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر سکیں۔
یہ سستے تھے، نسبتاً آسان اور مؤثر بھی۔ ایک حملے میں انہی انٹرسیپٹرز نے 150 روسی حملہ آور ڈرونز کو گرا دیا۔ یہ صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں تھی، بلکہ ایک نئی حکمت عملی تھی۔ جیسے جیسے خطرہ بڑھتا گیا، ویسے ویسے انٹرسیپٹر ڈرونز کی اہمیت بھی بڑھتی گئی۔
19 مارچ 2026 کو یوکرین میں ایک نامعلوم مقام پر پی ون سن انٹرسیپٹر ڈرون آزمائشی پرواز کرتے ہوئے (اے ایف پی)
یوکرین اب روزانہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے ڈرونز تیار کرنے کا ہدف رکھتا ہے جبکہ دنیا بھر کی افواج اس ماڈل کو مستقبل کے دفاع کے طور پر دیکھ رہی ہیں۔ لیکن یہ سب آسان نہیں۔
ایک انٹرسیپٹر ڈرون کو کامیاب بنانے کے لیے رفتار، درستگی اور مہارت تینوں ضروری ہیں۔ پائلٹ کے پاس صرف چند منٹ ہوتے ہیں کہ وہ ایک تیز رفتار ہدف کو تلاش کرے، اس کا تعاقب کرے اور اسے نشانہ بنائے۔ یہ صرف ایک فرد کا کام نہیں بلکہ ایک مکمل ٹیم کی کوشش ہوتی ہے، جہاں ریڈار آپریٹر اور پائلٹ مل کر کام کرتے ہیں۔
اسی دوران، ٹیکنالوجی بھی تیزی سے بدل رہی ہے۔ مگر مقابلہ یہاں ختم نہیں ہوتا۔ روس اب مزید جدید اور تیز رفتار، جیٹ انجن والے ڈرونز استعمال کر رہا ہے، جو موجودہ انٹرسیپٹرز کے لیے ایک نیا چیلنج ہیں۔
اس کے جواب میں یوکرینی انجینیئرز خاموشی سے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ جنگ اب صرف ہتھیاروں کی نہیں رہی بلکہ یہ رفتار، جدت اور بقا کی جنگ بن چکی ہے۔ اور اس جنگ میں ایک حقیقت واضح ہے اور وہ یہ کہ آج کا جدید حل، کل پرانا ہو سکتا ہے۔
روس یوکرین جنگ
یوکرین
روس
ڈرونز
ڈرون حملہ
ایک یوکرینی انسٹرکٹر نے خیال پیش کیا کہ چھوٹے کواڈکاپٹر ڈرونز کو فضا میں دشمن کے ڈرونز سے ٹکرا دیا جائے جو کامیاب ثابت ہوا۔
انڈپینڈنٹ اردو
جمعہ, اپریل 3, 2026 - 17:00
Main image:
یوکرین کی سکائی فال کمپنی کا ایک ملازم 19 مارچ 2026 کو یوکرین میں ایک نامعلوم مقام پر پی ون سن انٹرسیپٹر ڈرون کو آزمائشی پرواز کروا رہا ہے (اے ایف پی)
ٹیکنالوجی
jw id:
XUMaIz2J
type:
video
related nodes:
روس ایران کی مدد کے لیے ڈرونز بھیج رہا ہے: رپورٹ
افغان طالبان نے چند ڈرونز داغے جو مار گرائے: پاکستان فوج
خیبر پختونخوا پولیس کی اینٹی ڈرون صلاحیت بڑھانے کی کوششیں
کابل میں ہدف ڈرون ڈپو تھا، سویلین اموات جھوٹ: پاکستان فوج
SEO Title:
ڈرون بمقابلہ ڈرون: یوکرین کی نئی حکمت عملی نے جنگ کا نقشہ بدل دیا
copyright:
show related homepage:
Hide from Homepage
Discussion in the ATmosphere