پاکستان اور افغانستان تناؤ کو طاقت کے بجائے مذاکرات سے کم کریں: چین
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے افغان ہم منصب امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان اختلافات طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ بات چیت اور مشاورت سے حل ہونے چاہییں۔
چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جمعے کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق وزیر خارجہ وانگ یی نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ پرسکون رہیں اور تحمل سے کام لیں۔ جتنی جلد ممکن ہو آمنے سامنے بات چیت کریں۔ فوری جنگ بندی کی کوشش کریں اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔
چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طاقت کے مزید استعمال سے صورت حال صرف زیادہ پیچیدہ ہو گی اور کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔
چینی وزارت خارجہ کا یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا جب پاکستان نے جمعے کو افغانستان کے قندھار ایئرپورٹ کے قریب نجی ایئرلائن کام ایئر کے ایندھن ڈپو پر بمباری کی، جس سے چین کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان برسوں میں بدترین کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
بیان کے مطابق وانگ یی اور امیر خان متقی نے ایران کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
بیان میں بتایا گیا کہ چینی وزیر خارجہ نے افغان ہم منصب سے کہا کہ بیجنگ افغانستان سمیت عالمی برادری کے ساتھ مل کر ایران میں امن لانے کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی کا باقاعدہ آغاز 26 فروری 2026 کو ہوا جب افغان فورسز نے پاکستان پر سرحد پار سے حملے کیے۔
افغان حملوں کے جواب میں پاکستان نے آپریشن غضب للحق شروع کیا اور افغانستان کے اندر شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں۔
دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازع گذشتہ کئی سال سے جاری ہے اور پاکستان کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروہ پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی سے قبل اکتوبر 2025 میں بھی دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان شدید سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔
افغانستان
کابل
افغان سرحد
سرحدی جھڑپیں
سرحدی کشیدگی
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے افغان ہم منصب امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ طاقت کے استعمال سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گی اور کشیدگی بڑھے گی۔
روئٹرز
ہفتہ, مارچ 14, 2026 - 09:45
Main image:
ایک شخص 13 مارچ 2026 کو کابل کے مضافات میں تباہ شدہ عمارت کے باہر کھڑا ہے جو افغان طالبان کے مطابق پاکستان کی مبینہ فضائی بمباری میں نشانہ بنی (روئٹرز)
ایشیا
type:
news
related nodes:
اسلام آباد کی فضائی حدود میں دفاعی نظام نے افغانستان کے دو ڈرون مار گرائے
افغانستان ’ناجائز حراست کی پشت پناہی والا ملک‘ قرار پانے کے بعد ممکنہ پابندیاں
پاکستان نے افغانستان میں 4 عسکریت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنایا: سکیورٹی حکام
فضل الرحمٰن خلیل سمیت وفد کا دورہ کابل ’ذاتی نوعیت‘ کا ہے: پاکستان
SEO Title:
پاکستان اور افغانستان تناؤ کو طاقت کے بجائے مذاکرات سے کم کریں: چین
copyright:
show related homepage:
Hide from Homepage
Discussion in the ATmosphere