{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigau4ccfrq6p5sxe7g3kduyoj6zqzpdg6uodlwxztqspqfshz3mam",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mgyqtkulsvo2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicvuy67ad2prqvpraphzdfhucmtkqkz3dfqnigmxxxng7tf6jtv7y"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 169206
  },
  "path": "/node/185055",
  "publishedAt": "2026-03-14T04:13:19.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "افغانستان",
    "کابل",
    "افغان سرحد",
    "سرحدی جھڑپیں",
    "سرحدی کشیدگی",
    "روئٹرز",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے اپنے افغان ہم منصب امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو میں کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان اختلافات طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ بات چیت اور مشاورت سے حل ہونے چاہییں۔**\n\nچینی وزارت خارجہ کی طرف سے جمعے کو جاری کیے گئے بیان کے مطابق وزیر خارجہ وانگ یی نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ پرسکون رہیں اور تحمل سے کام لیں۔ جتنی جلد ممکن ہو آمنے سامنے بات چیت کریں۔ فوری جنگ بندی کی کوشش کریں اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔\n\nچینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طاقت کے مزید استعمال سے صورت حال صرف زیادہ پیچیدہ ہو گی اور کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔\n\nچینی وزارت خارجہ کا یہ بیان اس کے بعد سامنے آیا جب پاکستان نے جمعے کو افغانستان کے قندھار ایئرپورٹ کے قریب نجی ایئرلائن کام ایئر کے ایندھن ڈپو پر بمباری کی، جس سے چین کی ثالثی کی کوششوں کے باوجود دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان برسوں میں بدترین کشیدگی مزید بڑھ گئی۔\n\nبیان کے مطابق وانگ یی اور امیر خان متقی نے ایران کی صورت حال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔\n\nبیان میں بتایا گیا کہ چینی وزیر خارجہ نے افغان ہم منصب سے کہا کہ بیجنگ افغانستان سمیت عالمی برادری کے ساتھ مل کر ایران میں امن لانے کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی کا باقاعدہ آغاز 26 فروری 2026 کو ہوا جب افغان فورسز نے پاکستان پر سرحد پار سے حملے کیے۔\n\nافغان حملوں کے جواب میں پاکستان نے آپریشن غضب للحق شروع کیا اور افغانستان کے اندر شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں۔\n\nدونوں ممالک کے درمیان یہ تنازع گذشتہ کئی سال سے جاری ہے اور پاکستان کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر شدت پسند گروہ پاکستانی سکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔\n\nدونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی سے قبل اکتوبر 2025 میں بھی دونوں ممالک کی فورسز کے درمیان شدید سرحدی جھڑپیں ہو چکی ہیں۔\n\nافغانستان\n\nکابل\n\nافغان سرحد\n\nسرحدی جھڑپیں\n\nسرحدی کشیدگی\n\nچینی وزیر خارجہ وانگ یی نے افغان ہم منصب امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ طاقت کے استعمال سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گی اور کشیدگی بڑھے گی۔\n\nروئٹرز\n\nہفتہ, مارچ 14, 2026 - 09:45\n\nMain image:\n\n> <p>ایک شخص 13 مارچ 2026 کو کابل کے مضافات میں تباہ شدہ عمارت کے باہر کھڑا ہے جو افغان طالبان کے مطابق پاکستان کی مبینہ فضائی بمباری میں نشانہ بنی (روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nاسلام آباد کی فضائی حدود میں دفاعی نظام نے افغانستان کے دو ڈرون مار گرائے\n\nافغانستان ’ناجائز حراست کی پشت پناہی والا ملک‘ قرار پانے کے بعد ممکنہ پابندیاں\n\nپاکستان نے افغانستان میں 4 عسکریت پسند ٹھکانوں کو نشانہ بنایا: سکیورٹی حکام\n\nفضل الرحمٰن خلیل سمیت وفد کا دورہ کابل ’ذاتی نوعیت‘ کا ہے: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nپاکستان اور افغانستان تناؤ کو طاقت کے بجائے مذاکرات سے کم کریں: چین\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پاکستان اور افغانستان تناؤ کو طاقت کے بجائے مذاکرات سے کم کریں: چین"
}