{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreielohagjq2kdqyjf22qa5ho3yoknxuaub3wkayo6xfvnm4a2dbv6q",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpt2c3po6h22"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiemlhczyw4qmmiegoqfojlqzqtqn6kepwiyat6vg6oz73w54v6u5u"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 104741
},
"path": "/node/186627",
"publishedAt": "2026-07-04T11:03:45.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"امریکہ",
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"یوم آزادی",
"اے ایف پی",
"news"
],
"textContent": "**امریکہ ہفتے کے روز اپنی آزادی کے 250 سال مکمل کر رہا ہے۔ یہ ایک تاریخی سنگِ میل ہے، جو ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک گہری سیاسی تقسیم کا شکار ہے اور صدر اس تقریب کے مرکزی کردار بننے کے لیے پُرعزم نظر آتے ہیں۔**\n\nیومِ آزادی کی تقریبات ایسے وقت میں بھی ہو رہی ہیں جب شدید گرمی کی لہر نے تقریباً 16 کروڑ امریکیوں کو شدید یا انتہائی گرمی کی وارننگز کے دائرے میں لا رکھا ہے، جس کے باعث ملک بھر کے کئی شہروں اور قصبوں میں منصوبہ بند پریڈز اور تقریبات متاثر ہوئی ہیں۔\n\nتاہم شدید گرمی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو زیادہ متاثر نہیں کر سکی، جنہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے خاصا اہتمام کیا ہے کہ یہ تقریب بڑی حد تک ان کی اپنی شخصیت کے جشن میں تبدیل ہو جائے۔\n\nہفتے کی شام ٹرمپ دارالحکومت واشنگٹن کے نیشنل مال میں انتخابی مہم کے انداز کا ایک بڑا سیاسی جلسہ کریں گے، جس کے ساتھ فوجی طیاروں کی پروازیں اور ان کے بقول دنیا کا سب سے بڑا آتش بازی کا مظاہرہ بھی ہوگا۔\n\nٹرمپ نے پہلے کہا تھا: ’درجہ حرارت تقریباً 107 فارن ہائیٹ (41 ڈگری سینٹی گریڈ) ہوگا، اور میں وہاں جاؤں گا اور بہت طویل تقریر کروں گا — صرف یہ دکھانے کے لیے کہ میں کچھ بھی کر سکتا ہوں۔‘\n\nجمعے کی شب صدر نے ماؤنٹ رشمور قومی یادگار کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اپنے چار مشہور پیش رو صدور کے عظیم الشان گرینائٹ مجسموں کے سائے میں خطاب کیا۔\n\n**’ہمارے ملک میں خطرہ‘**\n\nاگرچہ انہوں نے امریکی غیر معمولی حیثیت کی تعریف کی اور ماضی کے رہنماؤں کو سراہا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکی شناخت ’ایک مرتبہ پھر حملے کی زد میں ہے۔‘\n\nملکی سطح پر موجود ’انتہا پسندوں اور شدت پسند عناصر‘ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’ہمارے ملک میں کمیونسٹ خطرہ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔‘\n\nیہ وہی مؤقف ہے جسے ٹرمپ حالیہ ہفتوں میں مسلسل دہراتے رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب ڈیموکریٹک پارٹی کے نظام مخالف بائیں بازو نے متعدد امریکی پرائمری انتخابات میں کامیابیاں حاصل کیں۔\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یکم ستمبر، 2017 کو واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں دعا کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nصدر ٹرمپ نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل بائیں بازو کے ابھار کو ’کمیونسٹوں کی یلغار‘ قرار دیتے ہوئے اسے ملک کے لیے ایک بڑا ’خطرہ‘ بتایا ہے۔\n\nجمعے کو ٹرمپ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ’ہم سے امریکی جذبہ چھیننے اور ہمیں ہماری تاریخ سے دور کرنے‘ کی کوشش کی گئی ہے۔\n\nاگرچہ ان کی زبان ماضی کی بعض تقاریر میں استعمال ہونے والی زیادہ سخت تارکینِ وطن مخالف بیان بازی سے نرم تھی، تاہم بنیادی پیغام واضح تھا۔\n\nانہوں نے کہا: ’ضروری نہیں کہ آپ یہاں پیدا ہوئے ہوں، لیکن یہ ضروری ہے کہ آپ اس چیز سے محبت کریں جو ہم نے تعمیر کی ہے۔‘\n\nٹرمپ کی تقریر کا مقام بھی ایسے صدر کے لیے موزوں پس منظر فراہم کر رہا تھا جو خود کو عظیم رہنماؤں میں شمار کرتے ہیں۔\n\nان کے حامیوں نے تو یہاں تک قانون سازی کی تجویز بھی پیش کی ہے کہ جارج واشنگٹن، تھامس جیفرسن، ابراہم لنکن اور تھیوڈور روزویلٹ کے مجسموں کے ساتھ ٹرمپ کا چہرہ بھی تراشا جائے۔\n\n**جشن اور غور و فکر**\n\nامریکیوں کے لیے 250 ویں سالگرہ کی تقریبات جشن کے ساتھ ساتھ غور و فکر کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔\n\nڈھائی صدیوں پر محیط کامیابیوں اور سانحات، غلامی اور آزادی، خانہ جنگی اور عالمی جنگوں کے بعد مختلف سرویز ظاہر کرتے ہیں کہ قوم اس بات پر منقسم ہے کہ وہ آج کہاں کھڑی ہے اور کس سمت جا رہی ہے۔\n\nکوئنی پیاک یونیورسٹی کے ایک سروے کے مطابق 61 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکہ اب بھی اعلانِ آزادی میں بیان کردہ اصولوں پر پورا نہیں اترتا، تاہم اس معاملے میں بھی رائے منقسم ہے۔ بیشتر ریپبلکن سمجھتے ہیں کہ ملک ان اصولوں پر عمل کر رہا ہے جبکہ زیادہ تر ڈیموکریٹس اس سے اتفاق نہیں کرتے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nلاس اینجلس سے تعلق رکھنے والے فنکار جانی پریسلے نے کہا کہ ’بہت زیادہ لوگ ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں، ایک دوسرے کا نقصان کرتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے محبت نہیں کرتے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’میں اس بات سے تنگ آ چکا ہوں کہ یہ ملک لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آتا ہے۔ میں اس بات سے بھی تنگ ہوں کہ یہ ملک اپنے بیرونی پڑوسیوں کے ساتھ کیسے برتاؤ کرتا ہے۔ بہت سی چیزوں سے دل بھر چکا ہے۔‘\n\nدوسری جانب اٹلانٹا میں مقیم ایرانی نژاد امریکی ماہرِ تعلیم کاریسا توَسولی کے لیے امریکی خواب کی بنیادی اقدار آج بھی موجود ہیں۔\n\nانہوں نے اے ایف پی کو بتایا: ’میرے پاس تحفظ ہے، اظہارِ رائے کی آزادی ہے، مذہبی آزادی ہے، اور میں ایک عورت ہونے کے باوجود جو چاہوں پہن سکتی ہوں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’یہاں بہت سی خامیاں موجود ہیں، لیکن ہمارے پاس ایک ایسی خاص چیز ہے جسے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔‘\n\nشوشون-بیناک قبائل کے رکن الونزو کوبی نے کہا کہ وہ امریکہ کے 250 سال مکمل ہونے کا جشن منانے پر شکر گزار ہیں۔\n\nتاہم انہوں نے یہ بھی یاد دلایا: ’لیکن میں چاہتا ہوں کہ لوگ یہ یاد رکھیں کہ مقامی امریکی 250 سال سے کہیں زیادہ عرصے سے یہاں آباد ہیں۔‘\n\nامریکہ\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nیوم آزادی\n\nصدر ٹرمپ نے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل بائیں بازو کے ابھار کو ’کمیونسٹوں کی یلغار‘ قرار دیتے ہوئے اسے ملک کے لیے ایک بڑا ’خطرہ‘ بتایا ہے۔\n\nاے ایف پی\n\nہفتہ, جولائی 4, 2026 - 16:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 3 جولائی 2026 کو ساؤتھ ڈکوٹا کے شہر کی سٹون میں واقع ماؤنٹ رشمور نیشنل میموریل میں یومِ آزادی کی تقریبات کے دوران خطاب کر رہے ہیں(تصویر: مینڈل اینگان / اے ایف پی)</p>\n\nامریکہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nٹرمپ نے 2025 میں کرپٹو سے ایک ارب ڈالر سے زیادہ کمائے\n\nامریکی پاسپورٹ پر ٹرمپ کی تصویر\n\nانڈیا: ٹرمپ کے نام سے سڑک منسوب، سیاسی جماعتوں کی تنقید\n\nمعاہدہ اور ٹرمپ کا فرانسیسی محل کا انتخاب\n\nSEO Title:\n\nامریکہ کے 250 سال: ٹرمپ کی امریکی شناخت پر ’حملے‘ کی وارننگ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "امریکہ کے 250 سال: ٹرمپ کی امریکی شناخت پر ’حملے‘ کی وارننگ"
}