{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihtxob7tyefpec5mcdis2f72yu2737gp2pblcnrm4njidccdlnxau",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpt2bztim3j2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidh36mun6evhlfj6scxvaavonqle546erykt2oliaolki2tutqpda"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 100878
  },
  "path": "/node/186628",
  "publishedAt": "2026-07-04T11:43:56.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "بلوچستان",
    "خودکش دھماکہ",
    "بی ایل اے",
    "محمد عیسیٰ",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی ایک چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں کم از کم تین سکیورٹی اہلکار جان سے گئے جبکہ 15 زخمی ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق حملہ جمعے کی شب کیا گیا۔**\n\nسینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) گوادر عطا الرحمٰن خان ترین نے بتایا کہ بارود سے بھرا ایک ٹرک خودکش حملہ آور نے گوادر کے علاقے جیوانی سے تقریباً 10 کلومیٹر دور پانوان چیک پوسٹ سے ٹکرا دیا۔\n\nایس ایس پی عطا الرحمن کی جانب سے انڈپینڈنٹ اردو کو بھیجی جانے والی تفصیلات کے مطابق جان سے جانے والوں میں پاکستان کوسٹ گارڈز کے نائیک یاسر اور پاکستان آرمی کی 32 پنجاب رجمنٹ کے حوالدار عدنان اور سپاہی مغفور شامل ہیں۔\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ حملے کے وقت چیک پوسٹ پر پاکستان آرمی اور پاکستان کوسٹ گارڈز کے مجموعی طور پر 18 اہلکار تعینات تھے۔ حملے میں پاکستان آرمی کے دو اہلکار اور پاکستان کوسٹ گارڈز کا ایک اہلکار جان سے گیا، جبکہ 15 اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے اور اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔\n\nکالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجید بریگیڈ‘ نے اس کارروائی کو انجام دیا۔\n\nیہ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں بلوچستان میں بی ایل اے کی جانب سے دوسرا خودکش حملہ ہے۔ مئی میں کوئٹہ میں ایک شٹل ٹرین پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے کیے گئے اسی نوعیت کے حملے میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت درجنوں افراد جان سے گئے تھے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایس ایس پی عطا الرحمٰن ترین کے مطابق دھماکے کے فوری بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا اور شواہد اکٹھے کرنے کے ساتھ حملے میں سہولت کاری کرنے والوں کی تلاش کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔\n\nگوادر پاکستان کے لیے اسٹریٹجک لحاظ سے اہم شہر ہے، جہاں واقع گہرے سمندر کی بندرگاہ کو حکومت علاقائی تجارت اور چین، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کو ملانے والے توانائی کے راستوں کے لیے اہم قرار دیتی ہے۔ یہ بندرگاہ تقریباً 60 ارب ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کا بھی اہم حصہ ہے۔\n\nبلوچ علیحدگی پسند گروہ وفاقی حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان کے وسائل ملک کے دیگر حصوں کی ترقی پر خرچ کرتی ہے، تاہم پاکستانی حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کرتی ہے کہ وہ بلوچستان میں مقامی آبادی کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہے۔\n\nبلوچستان\n\nخودکش دھماکہ\n\nبی ایل اے\n\nایس ایس پی عطا الرحمن کی جانب سے انڈپینڈنٹ اردو کو بھیجی جانے والی تفصیلات کے مطابق جان سے جانے والوں میں پاکستان کوسٹ گارڈز کے نائیک یاسر اور پاکستان آرمی کی 32 پنجاب رجمنٹ کے حوالدار عدنان اور سپاہی مغفور شامل ہیں۔\n\nمحمد عیسیٰ\n\nہفتہ, جولائی 4, 2026 - 16:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">13 نومبر 2016 کو پاکستان اور چین کے درمیان آزمائشی تجارتی پروگرام کی افتتاحی تقریب کے موقع پر گوادر بندرگاہ پر کنٹینر بردار جہاز کے قریب پاکستان نیوی کے اہلکار پہرہ دے رہے ہیں (عامر قریشی / اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nگوادر ساحل پر تیل سے آلودگی، وجہ پتہ نہ چل سکی: حکام\n\nگوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگر چار اہلکار بازیاب\n\nگوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سمیت چار افراد اغوا: ترجمان صوبائی وزارت داخلہ\n\nطیارے نہ مسافر: گوادر کا نیا ائیرپورٹ ’سفید ہاتھی‘ ثابت ہوا ہے؟\n\nSEO Title:\n\nگوادر میں خودکش حملہ: تین سکیورٹی اہلکار جان سے گئے، 15 زخمی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "گوادر میں خودکش حملہ: تین سکیورٹی اہلکار جان سے گئے، 15 زخمی"
}