{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicrn3girprqvvtrp6myafm4j2dt42vbh4uqnu6kvdiyr4mtdoqzn4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpsmulqxrbi2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigvbnpua7bc5hbg2c5iw3kgfco3p3rvectbqxxcxlwhgm3ozrz5xa"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 152456
},
"path": "/node/186625",
"publishedAt": "2026-07-04T06:30:04.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران",
"آیت اللہ علی خامنہ ای",
"آخری رسومات",
"تہران",
"اے ایف پی",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے رپورٹ کیا ہے کہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی چھ روزہ آخری رسومات ہفتے کو سرکاری طور پر شروع ہو گئیں۔**\n\nاس تقریب میں ہزاروں افراد شریک ہیں جس کا مقصد ایران کے دشمنوں کے سامنے طاقت کا مظاہرہ ہے۔\n\nایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں آئندہ تین دن کے دوران صرف تہران میں علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت کی توقع ہے۔\n\nعلی خامنہ ای کی یاد میں چھ روزہ آخری رسومات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جنہوں نے 1989 سے لے کر رواں سال 28 فروری کو ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے پہلے دن 86 برس کی عمر میں اپنی موت تک ایران کے اعلیٰ ترین رہنما کے طور پر حکمرانی کی۔\n\nان تقریبات کا خاص طور پر خامنہ ای کے بیٹے اور جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کی کسی بھی جھلک کے لیے باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، جنہیں اپنے والد کی موت کے ایک ہفتے بعد سپریم لیڈر نامزد کیا گیا تھا لیکن وہ تاحال منظر عام پر نہیں آئے۔\n\nتہران کے وسیع مذہبی کمپلیکس گرینڈ مصلیٰ کے صحن میں ہزاروں سوگوار خامنہ ای کے تابوت کی آمد کے انتظار میں جمع ہیں، جنہوں نے انتقام کی علامت سمجھے جانے والے سرخ پرچم اٹھا رکھے ہیں۔\n\nیونیورسٹی کے 37 سالہ پروفیسر رضا نے بتایا ’ہم (آخری رسومات میں) اس لیے آئے ہیں کیوں کہ ہم نے سپریم لیڈر سے وعدہ کیا تھا کہ ہم آخر تک ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔\n\n’طویل عرصے تک یہ نعرے لگاتے رہے کہ ہم رہنما کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں گے لیکن یہ وہ تھے جنہوں نے ہمارے لیے خود کو قربان کر دیا۔‘\n\nفوڈ پروسیسنگ پلانٹ میں کام کرنے والے 43 سالہ جواد اکبری کا کہنا تھا ’مجھے سپریم لیڈر کو کبھی قریب سے دیکھنے کا موقع نہیں ملا اور مجھے اس کا افسوس ہے۔ آج میں انہیں الوداع کہنے آیا ہوں۔‘\n\nاے ایف پی کے ایک اور صحافی نے سوگواروں کو کئی کلومیٹر پیدل چل کر پنڈال تک پہنچتے دیکھا۔\n\n4 جولائی، 2026 کو آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے آغاز پر لوگ تہران کے گرینڈ مصلیٰ میں موجود ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nایران کے سینکڑوں حامی جمعے کی شام سے ہی گرینڈ مصلیٰ کے باہر پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔\n\nسمیہ حامدی نے کہا ’ہم اپنے رہنما کو الوداع کہنا چاہتے ہیں، اسی لیے اس طرح انتظار کرنا ہمارے لیے تکلیف دہ یا مشکل نہیں۔‘\n\n1989 میں خامنہ ای کے پیشرو روح اللہ خمینی کی تدفین کے بعد سے ایران میں ہونے والے اس سب سے بڑے متوقع عوامی اجتماع کے لیے سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔\n\nسڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور فضائی حدود بند رہنے کا امکان ہے۔\n\n**’آخری الوداع‘**\n\nمیت پیر تک عوامی دیدار کے لیے رکھا جائے گا جس کے بعد تہران میں جلوس نکالا جائے گا۔\n\nمنگل کو اسے مذہبی مرکز قم منتقل کر دیا جائے گا جس کے بعد بدھ کو پڑوسی ملک عراق میں مقدس شہروں اور پھر جمعرات کو تدفین کے لیے شمال مشرقی ایران میں واقع خامنہ ای کے آبائی شہر مشہد لے جایا جائے گا۔\n\nجنگ میں بچ جانے والے حکام نے جمعے کو اپنے دکھ کا اظہار کیا اور متحدہ محاذ کا مظاہرہ کیا، جب کہ پارلیمنٹ کے سپیکر اور امریکہ سے بات چیت میں اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف واضح طور پر آبدیدہ تھے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nخراج عقیدت پیش کرنے والے اعلیٰ ایرانی حکام میں احمد وحیدی بھی شامل تھے، جنہیں ان کے پیشرو کی ان ہی حملوں میں موت کے بعد طاقتور پاسداران انقلاب کا سربراہ نامزد کیا گیا تھا جن میں خامنہ ای مارے گئے تھے۔\n\nتاہم اس کے بعد سے وہ منظر عام پر نہیں آئے۔\n\nحملوں میں جان سے جانے والے دیگر رشتہ داروں کی بھی تدفین کی جائے گی، جن میں علی خامنہ ای کی شیر خوار پوتی بھی شامل ہیں۔\n\n**عالمی رہنماؤں کی شرکت**\n\nٓخری رسومات میں کئی ملکوں کے سربراہان اور وفود بھی شریک ہو رہے ہیں۔\n\nایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاکستان، روس، چین، افغانستان، عراق، کردستان، انڈیا، ترکی آذربائیجان، آرمینیا، جارجیا، تاجکستان، قازقستان، ترکمانستان کے لیڈر اور وفود شامل ہوں گے۔\n\nملائیشیا، عمان، قطر، بیلاروس، کرغزستان، ازبکستان، مصر، گھانا، نکاراگوا، جمہوری جمہوریہ کانگو، سربیا اور کیوبا سے بھی متوقع ہیں۔\n\nایرانی میڈیا نے مزید بتایا کہ تیونس، لبنان، نمیبیا، سری لنکا، میانمار، گیمبیا اور تھائی لینڈ کے وفود کے ساتھ ساتھ شنگھائی تعاون تنظیم اور اقتصادی تعاون تنظیم کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔\n\nایران نے کسی بھی یورپی ملک کو باضابطہ طور پر مدعو نہیں کیا کیونکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعئیل بقائی کے مطابق جن ممالک نے حملوں کے حوالے سے ’نامناسب موقف‘ اپنایا، انہیں دعوت نہیں دی گئی۔\n\nایران\n\nآیت اللہ علی خامنہ ای\n\nآخری رسومات\n\nتہران\n\nایرانی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ تین دن کے دوران صرف تہران میں ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ڈیڑھ سے دو کروڑ افراد کی آمد متوقع ہے۔\n\nاے ایف پی\n\nہفتہ, جولائی 4, 2026 - 11:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">چار جولائی، 2026 کو تہران کے امام خمینی گرینڈ مصلیٰ میں لوگ آیت اللہ علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جمع ہیں (روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nآیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکہ اور اسرائیل نے کیسے مارا؟\n\n’مزاحمت کا محور‘ تشکیل دینے والے علی خامنہ ای کون تھے؟\n\nایرانی رہبر اعلی خامنہ ای کے بعد کیا ہوگا؟\n\nSEO Title:\n\nایران: سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی چھ روزہ آخری رسومات شروع\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "ایران: سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی چھ روزہ آخری رسومات شروع"
}