{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiasl5iqar5doc6hhjktfzpxb3kwrqzlu4km5cgz7j3ho5oohvtvcm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpsg265ekfk2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiawohgmpc56pah5ohx6c57kge45dcdfbxkvdcpxrrqpupmqchgzxi"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 70707
},
"path": "/node/186616",
"publishedAt": "2026-07-04T01:52:14.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"آیت اللہ علی خامنہ ای",
"ایران",
"امریکہ",
"اسرائیل",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**28 فروری، 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے ہی دن تہران میں 30 برس سے زیادہ عرصے تک رہبرِ اعلیٰ رہنے والے آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کر دیا۔**\n\nیہ کوئی اتفاقی یا معمولی قتل نہیں تھا۔\n\nاسرائیلی جاسوس برسوں سے خامنہ ای کے بارے میں ایک تفصیلی فائل تیار کر رہے تھے، جس میں ان کے روزمرہ معمولات، خاندان، معاونین، سکیورٹی حلقے اور نقل و حرکت کے طریقوں تک کی معلومات شامل تھیں۔\n\nاسرائیل اور امریکہ نے تصدیق کی کہ خامنہ ای حملے کی صبح ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں شریک ہوئے۔\n\nروئٹرز کے مطابق یہ اجلاس دراصل صبح کے بعد متوقع تھا لیکن اسرائیلی انٹیلی جنس نے پتہ چلا لیا کہ اسے منعقد کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں حملے کے وقت بھی بدل دیا گیا۔\n\nیہ اجلاس خامنہ ای کے قریبی حلقے کے لیے تھا اور اس میں علی شمخانی اور علی لاریجانی جیسی اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔\n\nاسرائیلی ذرائع ابلاغ نے، جن میں ’وائی نیٹ‘ اور ’دی ٹائمز آف اسرائیل‘ شامل ہیں، رپورٹ کیا کہ حملوں کی پہلی لہر نے تہران میں کئی ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جہاں ایرانی سیاسی اور سکیورٹی قیادت کے اعلیٰ عہدے دار جمع تھے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاسرائیلی فوج کا دعویٰ تھا کہ خامنہ ای کو ایک نہایت درست اور انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے فضائی آپریشن میں نشانہ بنایا گیا، جب وہ تہران میں مرکزی قیادت کے ہیڈکوارٹر میں موجود تھے۔\n\nاخبار فنانشل ٹائمز نے بتایا امریکی فوجی اور سائبر معاونت نے اسرائیلی طیاروں کے لیے راستہ ہموار کرنے میں مدد دی،جبکہ سی آئی اے کی فراہم کردہ محل وقوع سے متعلق انٹیلی جنس نے بھی حملے کے وقت کے تعین میں کردار ادا کیا۔\n\nاسی دن بعد میں ایک سینیئر اسرائیلی عہدے دار نے میڈیا کو بتایا کہ خامنہ ای کی لاش مل گئی ہے۔\n\nابتدا میں ایران نے اس واقعے کے بارے میں بیانیے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی لیکن حملوں کے تقریباً 20 گھنٹے بعد ایران نے تصدیق کر دی کہ خامنہ ای جان سے چلے گئے ہیں۔\n\n40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا۔ یہ قیادت کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کارروائی تھی۔ یہ صرف میزائل نہیں، فضائی طاقت نہیں بلکہ انٹیلی جنس، درست وقت کے انتخاب، سائبر معاونت اور باہمی رابطہ کاری کا مجموعہ تھا۔\n\nآیت اللہ علی خامنہ ای\n\nایران\n\nامریکہ\n\nاسرائیل\n\nخامنہ ای محض ایک اور سیاسی رہنما نہیں تھے۔ وہ 1989 سے ایران کے اقتدار کے سب سے نمایاں چہرہ تھے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, جولائی 4, 2026 - 09:15\n\nMain image:\n\n> <p>ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی ایک تصویر، جو فروری 2026 کے آخر میں امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملے میں جان سے چلے گئے تھے (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nآیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات جولائی میں\n\n’مزاحمت کا محور‘ تشکیل دینے والے علی خامنہ ای کون تھے؟\n\nایرانی سپریم لیڈر کے امیدوار مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟\n\nمجتبیٰ خامنہ ای کے استاد مصباح یزدی کتنی اہم ایرانی شخصیت ہیں؟\n\nSEO Title:\n\nآیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکہ نے کیسے مارا؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "آیت اللہ علی خامنہ ای کو امریکہ نے کیسے مارا؟"
}