{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifspsehur5odolcmj3bohxg6e2zqnqszcij25nn5wo5oxwxb23bgq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpsfzvno7zr2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreicfdzmn7ux2ucui76twmuetwbixo4be5ha2dp47wxfi3xhfyhjx2a"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 126806
},
"path": "/node/186621",
"publishedAt": "2026-07-04T04:45:24.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"صحافی",
"صحافی قتل کیس",
"لندن حملہ",
"لندن",
"ایران",
"رومانیہ",
"سٹینلے مرفی جانز",
"یورپ",
"news"
],
"textContent": "**لندن میں ایک صحافی پر چاقو سے ’ہدف بنا کر‘ حملہ کرنے پر دو افراد کو مجموعی طور پر 20 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس حملے کے بارے میں ایک جج نے قرار دیا کہ یہ ’ایرانی ریاست کے ایما پر کیا گیا۔‘**\n\n29 مارچ 2024 کو ایران انٹرنیشنل کے صحافی پوریا زراعتی کو ومبلڈن میں ان کے گھر کے باہر چاقو کے تین وار کر کے سڑک پر خون میں لت پت چھوڑ دیا گیا تھا۔\n\nالزامات سے انکار کے باوجود، رومانیہ کے شہریوں 21 سالہ نندیٹو باڈیا اور 25 سالہ جارج سٹانا کو شدید جسمانی نقصان پہنچانے کی نیت سے زخمی کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔\n\nجمعے کو اولڈ بیلی میں جسٹس چیما گرب نے جارج سٹانا کو 12 سال قید کی سزا سنائی اور کہا کہ انہیں ’معلوم ہونا چاہیے تھا‘ کہ یہ 'ٹارگٹڈ اور سنگین‘ حملہ ایران کے ایما پر تھا۔ سازش میں کم عرصے تک شامل رہنے والے نندیٹو باڈیا کو آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی۔\n\nجج نے کہا: ’مجھے یقین ہے کہ یہ حملہ ایک غیر ملکی طاقت کے لیے اور اس کے مفاد میں کیا گیا تھا۔‘\n\nانہوں نے واضح کیا کہ پوریا زراعتی ’حکومت کے معروف ناقد تھے اور ان کے ساتھ ساتھ ان کے اہل خانہ کو بھی پہلے دھمکیاں مل چکی تھیں۔‘\n\nسرکاری وکلا نے اس واقعے کو ’منصوبہ بند حملہ قرار دیا جس سے پہلے ریکی کی گئی اور جس کا حکم ایرانی ریاست کی جانب سے کام کرنے والے ایک تیسرے فریق نے دیا تھا۔‘\n\nعدالت کو بتایا گیا کہ نندیٹو باڈیا اور ایک اور شخص ڈیوڈ آندرے نے، جو تاحال رومانیہ میں موجود ہیں، پوریا زراعتی کو ’گھیر لیا‘ جس کے بعد ان میں سے ایک نے ان کی ران پر چاقو کے کئی وار کیے۔ جارج سٹانا فرار ہونے کے لیے نیلے رنگ کی مزدا 3 گاڑی میں انتظار کر رہا تھے، جسے حملے سے قبل ’دشمنی پر مبنی ریکی‘ کے دوران سی سی ٹی وی کیمرے میں دیکھا گیا تھا۔\n\nپوریا زراعتی نے متاثرہ شخص کی حیثیت سے پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں بتایا کہ اس واقعے نے انہیں ’خوف زدہ اور پریشان‘ کر دیا ہے اور وہ ’انتقامی کارروائی کے خوف‘ سے بیرون ملک منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔\n\nاستغاثہ نے انکشاف کیا کہ نندیٹو باڈیا اور ڈیوڈ آندرے نے پانچ مختلف تاریخوں پر آٹھ مرتبہ اس گھر کا دورہ کیا تھا، اور وہ ’خاص طور پر‘ اس حملے کے لیے برطانیہ آئے تھے جس کے بارے میں خیال ہے کہ اس کی منصوبہ بندی ایک سال سے زیادہ عرصے سے کی جا رہی تھی۔\n\nسرکاری وکیل روپرٹ کینٹ نے دعویٰ کیا کہ ’یہ ملزم جانتے تھے، یا کم از کم انہیں معقول حد تک معلوم ہونا چاہیے تھا کہ پوریا زراعتی پر حملہ ایک غیر ملکی طاقت کے اکسانے پر کیا گیا۔ ہمارا مؤقف ہے کہ وہ طاقت ایرانی حکومت ہے جس کے ساتھ ملزموں کا تیسرے فریق کے ذریعے بالواسطہ تعلق تھا۔‘\n\nعدالت کو بتایا گیا کہ ایران انٹرنیشنل ’ایرانی حکومت کا ناقد‘ ہے اور ریاست نے اسے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔ اس نشریاتی ادارے کی ایک اہم شخصیت پوریا زراعتی نے ایرانی دارالحکومت میں اپنے چہرے والا ایک بل بورڈ بھی دیکھا تھا جس پر ’زندہ یا مردہ مطلوب‘ کا پیغام درج تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nجیوری کو بتایا گیا کہ حملہ آوروں کو جائے وقوعہ سے فرار ہوتے وقت ہنستے ہوئے دیکھا گیا، جو ہیتھرو روانہ ہوئے اور وہاں سے سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا پرواز کر گئے۔\n\nنندیٹو سٹانا کی نمائندگی کرنے والے پیٹر کالڈویل کے سی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مؤکل ’عملی طور پر ان پڑھ‘ ہے اور ’حالات حاضرہ سے باخبر نہیں‘ لہٰذا انہیں ’نہیں معلوم ہو سکتا تھا‘ کہ وہ ایران کے ایما پر کام کر رہا تھے۔\n\nپیٹر کالڈویل نے کہا: ’جارج سٹانا دوسروں کے لیے اس کام میں کارآمد تھے جس کا انہوں نے ارادہ کیا مگر وہ خود نہیں جانتا تھے کہ انہیں کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘ نندیٹو باڈیا کے وکیل ڈیوڈ سپینس کے سی نے مؤقف اپنایا کہ عدالت ’یقین سے نہیں کہہ سکتی‘ کہ ان کے مؤکل ہی نے پوریا زراعتی پر چاقو کے وار کیے تھے۔\n\nجج چیما گرب نے یہ کہتے ہوئے بات مکمل کی: ’ظالم حکومتیں اپوزیشن کو دبانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہیں۔ وہ اس کڑے محاسبے کو برداشت نہیں کر سکتیں جو نڈر صحافی کرتے ہیں۔‘ انسداد دہشت گردی پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے 2022 سے اب تک برطانیہ میں ایران سے جڑی 20 سازشوں کو ناکام بنایا۔\n\nصحافی\n\nصحافی قتل کیس\n\nلندن حملہ\n\nلندن\n\nایران\n\nرومانیہ\n\nاولڈ بیلی کی عدالت نے رومانیہ کے شہریوں نندیٹو باڈیا اور جارج سناٹا کو مجموعی طور پر 20 سال قید کی سزا سنائی۔\n\nسٹینلے مرفی جانز\n\nہفتہ, جولائی 4, 2026 - 09:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">کمرہ عدالت کے ایک خاکے میں نندیٹو باڈیا اور جارج سٹانا کو 18 مئی 2026 کو لندن کی وولچ کراؤن کورٹ میں پیش ہوتے ہوئے دکھایا گیا ہے (روئٹرز)</p>\n\nیورپ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nغزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں صحافی أحمد وشاح جان سے گئے\n\nمودی سے سوال کے بعد میٹا نے اکاؤنٹس معطل کر دیے: نارویجین صحافی\n\nبطور بیوٹی جرنلسٹ جھوٹ بولنے پر افسوس ہے: برطانوی صحافی\n\nبغداد میں خاتون امریکی صحافی اغوا، ایک اغواکار گرفتار: عراقی حکام\n\nSEO Title:\n\nلندن: صحافی پر ’ایرانی ریاست کے ایما پر‘ حملہ، دو افراد کو قید\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/uk/crime/badea-stana-zeraati-knife-attack-london-iranian-journalist-b3008560.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "لندن: صحافی پر ’ایرانی ریاست کے ایما پر‘ حملہ، دو افراد کو قید"
}