{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreibhf2me3vjvuo4schcgbngbd73uo6jdtln3x5usgrry5aytmdj45m",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpsfzlmxtr22"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifzmatjytbsk4hgfobp76l46sbedponueg3spg4tkbdovms37do54"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 97307
},
"path": "/node/186623",
"publishedAt": "2026-07-04T05:52:32.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"اے ایف پی",
"فٹ بال",
"news"
],
"textContent": "**تالیوں کی گونج، ڈھول کی تھاپ اور گاڑیوں کے ہارن: یہ صورت حال تھی جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب کیپ ورد کے دارالحکومت پرایا میں کیونکہ لوگ ارجنٹینا سے ہارنے کے بعد ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے باوجود اپنی ٹیم کی شاندار کارکردگی سے بہت خوش ہیں۔**\n\nپانچ لاکھ سے کچھ زیادہ آبادی پر مشتمل اس افریقی جزیرہ نما ملک نے اپنی تاریخ میں پہلی بار فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کرتے ہوئے گروپ مرحلے میں یورپی چیمپیئن سپین، یوراگوئے اور سعودی عرب کے خلاف ڈرا کھیل کر ناک آؤٹ مرحلے کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔\n\nتاہم میامی میں کھیلے گئے سنسنی خیز راؤنڈ آف 32 کے مقابلے میں کیپ ورد نے دفاعی چیمپیئن ارجنٹینا کو آخری لمحات تک سخت ٹکر دی لیکن ارجنٹینا نے 3-2 سے کامیابی حاصل کر کے اگلے مرحلے میں جگہ بنا لی۔\n\nپرایا میں سڑکوں پر جشن منانے والے شائقین میں سے ایک، ادیلسن سواریز نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’ہم میچ ہار گئے لیکن ہمیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہم نے فتح حاصل کی ہو کیونکہ ہم نے عالمی چیمپیئن کے خلاف بھرپور مقابلہ کیا۔ کیپ ورد نے شاندار کھیل پیش کیا۔‘\n\nبحر اوقیانوس میں واقع یہ جزیرہ نما ملک رواں برس 48 ٹیموں پر مشتمل توسیع شدہ ورلڈ کپ کی سب سے حیران کن اور متاثر کن کہانیوں میں سے ایک بن گیا، جس نے تمام اندازوں کو غلط ثابت کیا۔\n\nپرایا میں جشن کا سلسلہ رات تقریباً تین بجے تک جاری رہا، جہاں گلیوں میں ووو زیلا بجائے گئے اور براہ راست موسیقی کی محفلیں سجتی رہیں۔\n\nپرایا کے ایک فین زون میں موجود پیڈرو راموس نے اے ایف پی سے کہا ’کیپ ورد ورلڈ کپ سے سر اٹھا کر رخصت ہو رہا ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا ’ہم ارجنٹینا کو شکست دینے کے بہت قریب پہنچ گئے تھے۔ ہمیں خواب دیکھنے کا موقع ملا اور ہمیں خوشی ہے کہ بلیو شارکس نے ارجنٹینا کو سخت پریشان کر دیا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمیچ کے 60 ویں منٹ میں فلوریڈا میں موجود ارجنٹینا کے شائقین کی بڑی تعداد اس وقت حیران رہ گئی جب ڈیرائے ڈوارٹے نے کیپ ورد کے لیے برابری کا گول کر کے مقابلہ اضافی 30 منٹ تک پہنچا دیا۔\n\nتاہم 111ویں منٹ میں ارجنٹینا کے کرسچیان رومیرو کے دباؤ میں کیپ ورد کے دفاعی کھلاڑی ڈائنی بورجیس سے اپنے ہی گول میں گیند چلی گئی، جس کے نتیجے میں ارجنٹینا نے 3-2 سے کامیابی حاصل کی اور کوارٹر فائنل میں مصر کے خلاف کھیلنے کا حق حاصل کر لیا۔\n\nعالمی چیمپیئن کے خلاف کیپ ورد کی غیرمعمولی کارکردگی اور آخری لمحے تک جاری رہنے والے اس مقابلے نے شائقین کو یہ احساس دلایا کہ وہ ایک تاریخی لمحے کے گواہ ہیں۔\n\nسفارت کار آرمانڈو لوپیز نے کہا ’ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم ورلڈ کپ کا فائنل دیکھ رہے ہوں۔ کس نے سوچا تھا کہ کیپ ورد ورلڈ کپ میں ارجنٹینا کو اضافی وقت کھیلنے پر مجبور کر دے گا؟‘\n\nمیچ سے قبل کیپ ورد کے کوچ بوبستا نے کہا تھا ’ہم پرسکون ہیں کیونکہ ہم نے اپنی صلاحیت کی بنیاد پر یہاں تک رسائی حاصل کی ہے، اس لیے ہمیں کسی قسم کا خوف یا غیر ضروری پریشانی نہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا ’ہم جانتے ہیں کہ یہ میچ ہمارے لیے کتنا اہم ہے۔ یہ ہماری زندگی کا سب سے بڑا میچ ہے لیکن ہم اس سے لطف اندوز ہوں گے اور اپنی بہترین کارکردگی پیش کریں گے۔‘\n\nکیپ ورد میں لوگ ارجنٹینا سے ہارنے کے بعد ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے باوجود اپنی ٹیم کی شاندار کارکردگی سے بہت خوش ہیں۔\n\nاے ایف پی\n\nہفتہ, جولائی 4, 2026 - 10:30\n\nMain image:\n\n> <p>تین جولائی، 2026 کو پرایا میں ارجنٹینا کے خلاف 2026 فیفا ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف 32 کے میچ کے دوران کیپ ورد کے حامیوں کا ایک انداز (اے ایف پی)</p>\n\nفٹ بال\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nورلڈ کپ: دنیا کو حیران کرنے والی کیپ ورد کا کیا کل آخری میچ ہوگا؟\n\nورلڈ کپ: ناک آؤٹ سٹیج میں پہنچنے والا سب سے چھوٹا ملک کیپ وردے\n\nورلڈ کپ: میسی مسلسل سات میچوں میں گول کرنے والے پہلے کھلاڑی\n\nتقسیمِ ہند کے بعد سیالکوٹ کی فٹ بال صنعت کیسے دوبارہ کھڑی ہوئی؟\n\nSEO Title:\n\nفٹ بال ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے باوجود کیپ ورد میں شاندار جشن\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "فٹ بال ورلڈ کپ سے باہر ہونے کے باوجود کیپ ورد میں شاندار جشن"
}