{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreie7nypqnygwvdaju5l4hbfdrxedtp4qz4fxnhxrr7pwttbyhddpjq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mps6exey5fk2"
  },
  "path": "/node/186611",
  "publishedAt": "2026-07-04T01:15:01.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "افغانستان",
    "افغان طالبان",
    "افغان سرحد",
    "ٹی ٹی پی",
    "بکر عطیانی",
    "زاویہ",
    "news",
    "@atyanibaker_"
  ],
  "textContent": "**مجھے یاد ہے جب میں نے افغان طالبان کے کابل کے محاذ پر ان کے ایک کمانڈر کا ستمبر 2009 میں انٹرویو کیا تھا۔**\n\nان کا عسکری نام سیف اللہ جلالی تھا اور وہ اس اعتماد سے بات کر رہے تھے جس سے لگتا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ وقت ان کے حق میں ہے۔\n\nانہوں نے مجھ سے کہا ’ہم تیار ہیں۔ تمام صوبوں میں ہماری متوازی حکومت موجود ہے۔ جب وقت آئے گا، ہم اقتدار سنبھال لیں گے۔‘\n\nاس وقت کابل بین الاقوامی حمایت یافتہ افغان حکومت کے زیرِ انتظام تھا جبکہ طالبان باغی جنگجو سمجھے جاتے تھے۔\n\nانٹرویو کے بعد ہماری گفتگو ہوئی تو اس کا ایک حصہ پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات سے متعلق تھا۔ انہوں نے کہا ’اب مزید اعتماد نہیں رہا۔‘\n\nپھر انہوں نے 2001 کے بعد سے طالبان رہنماؤں کی گرفتاریوں کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستان اس وقت قابل اعتماد اتحادی نہیں رہا جب اس نے ’پالیسی بدل لی اور افغانستان میں امریکہ کی قیادت میں چلنے والی جنگ میں شامل ہو گیا۔\n\nانہوں نے مزید کہا ’جب ہم واپس آئیں گے تو تعلقات اعتماد کی بنیاد پر نہیں بلکہ مفادات کی بنیاد پر ہوں گے۔‘\n\nتقریباً دو دہائیوں بعد ان کے یہ الفاظ حیران کن حد تک درست محسوس ہوتے ہیں۔\n\nطالبان ضرور واپس آئے۔ انہوں نے 2021 میں کابل پر قبضہ کر لیا اور آج اسلام آباد اور کابل کے تعلقات ایک بار پھر کشیدہ ہیں۔\n\nپاکستان الزام لگاتا ہے کہ کابل میں موجود طالبان حکومت کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔\n\nاس کے نتیجے میں سرحدی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں اور سفارتی ذرائع دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔\n\nدوحہ، استنبول اور ارومچی میں ثالثی کی مختلف کوششیں ابھی تک کوئی پائیدار نتیجہ نہیں دے سکیں۔\n\nلیکن موجودہ کشیدگی کو اس تاریخی پس منظر سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا جس نے اسے جنم دیا ہے۔\n\nتحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کے لیے پاکستانی وفد کابل روانگی کے وقت فوجی طیارے میں (تحریک اصلاحات پاکستان)\n\n\n\n\nاعتماد کا بحران 1947 میں قیام پاکستان کے وقت سے ہی شروع ہو گیا تھا، جب افغانستان نے ڈیورنڈ لائن سے متعلق تنازعات کے باعث اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کے خلاف واحد ووٹ دیا تھا۔\n\nاس کے بعد سے دونوں دارالحکومتوں کے تعلقات کبھی عملی تعاون اور کبھی بداعتمادی کے درمیان جھولتے رہے۔\n\n1996 سے 2001 تک طالبان کے پہلے دورِ حکومت کو دونوں ممالک کے تعلقات کا سب سے گرم جوش دور سمجھا جاتا ہے۔\n\nتاریخی طور پر پاکستان کی افغانستان پالیسی اس کے سٹریٹجک مفادات کے تحت تشکیل پاتی رہی ہے۔\n\n1999 میں جب میں نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گل کا انٹرویو کیا تو انہوں نے افغانستان پر سوویت حملے کے دوران امریکہ کی حمایت میں پاکستان کے کردار کے بارے میں بتایا۔\n\nان کے مطابق پاکستان نے امریکیوں کے ساتھ ایک ایسی مفاہمت کی تھی جس کے نتیجے میں اسے اپنے جوہری پروگرام کو بغیر رکاوٹ جاری رکھنے کی رعایت ملی۔\n\nاس کے بدلے میں پاکستان ان افغان ’مجاہدین‘ کی مدد کر رہا تھا جو سوویت یونین کے خلاف لڑ رہے تھے۔\n\nجنرل حمید گل نے کہا کہ یہ سب کچھ خفیہ طور پر کرنا پڑتا تھا جبکہ کھلے عام اس کی تردید کی جاتی تھی کیونکہ ’امریکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں فوجی امداد کے لیے اپنی کانگریس کو مطمئن کرنا ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nافغانستان صرف ایک میدان جنگ نہیں تھا بلکہ ایک سٹریٹیجک مقام بھی تھا۔\n\nسوویت یونین کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینے کا پاکستان کا فیصلہ اپنے قومی مفادات پر مبنی تھا: جوہری پروگرام کا تحفظ اور افغانستان میں سٹریٹیجک گہرائی حاصل کرنا، یعنی ایسا مغربی ہمسایہ جو پاکستان کے سکیورٹی چیلنجز، خصوصاً مشرقی ہمسائے انڈیا سے تعلق رکھنے والے مسائل، کم کرنے میں مدد دے سکے۔\n\nجب اگست 2021 میں طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے تو پاکستان اس بارے میں واضح طور پر محتاط تھا کہ آیا وہ افغانستان میں پہلے جیسا سٹریٹیجک اطمینان دوبارہ حاصل کر سکے گا یا نہیں۔\n\nسقوط کابل کے چند روز بعد اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ جنرل فیض حمید افغان دارالحکومت پہنچے اور صحافیوں سے کہا:’فکر نہ کریں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘\n\nلیکن ان کا یہ مختصر جملہ ایک اور حقیقت کی بھی عکاسی کر رہا تھا — ایک ایسے خدشے کی کہ شاید سب کچھ ٹھیک نہ ہو اور طالبان کی واپسی لازماً تعلقات کو دو دہائیاں پیچھے نہیں لے جائے گی۔\n\nتقریباً پانچ سال بعد بھی یہی الفاظ اس صورت حال کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں۔\n\nطالبان آج افغانستان کے عملی حکمران ہیں، اپنی خودمختاری پر زور دیتے ہیں اور اپنی سفارتی ترجیحات خود طے کرتے ہیں۔\n\nدوسری جانب پاکستان کو بدستور ٹی ٹی پی کا خطرہ درپیش ہے اور وہ سکیورٹی ضمانتوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ اعتماد ابھی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔\n\nاصل مسئلہ پاکستان کے ’سٹریٹیجک گہرائی‘ کے تصور اور طالبان کے ’خودمختار حکمرانی‘ کے تصور کے درمیان موجود تضاد ہے۔\n\nاسلام آباد طویل عرصے سے یہ سمجھتا رہا ہے کہ کابل میں ایک دوستانہ طالبان حکومت اسے اثر و رسوخ اور سکیورٹی کا اضافی دائرہ فراہم کرے گی۔\n\nلیکن جو جنگجو کبھی پاکستان پر انحصار کرتے تھے، وہ آج کابل کے حکمران ہیں اور وہ خود کو کسی غیر ریاستی فریق کے طور پر پیش کیے جانے کی مزاحمت کرتے ہیں۔\n\nکوئی فریق مکمل ٹکراؤ نہیں چاہتا ہے اور نہ ہی کسی کے مفاد میں افراتفری ہے۔\n\nاسی طرح 2021 کے بعد وجود میں آنے والے ان کشیدہ حالات سے بھی کوئی مکمل طور پر مطمئن دکھائی نہیں دیتا۔\n\nموجودہ تعلقات کھلی محاذ آرائی پر مبنی نہیں بلکہ ایک نازک توازن پر قائم ہیں، ایسا توازن جو اعتماد سے زیادہ احتیاط کے سہارے برقرار ہے۔\n\n’فکر نہ کریں، سب ٹھیک ہو جائے گا،‘ شاید آج بھی اس تعلق کی بہترین عکاسی کرتا ہے — کیونکہ سب کچھ اب تک ٹھیک نہیں ہوا۔\n\n_بکر عطیانی ایشیا میں عسکریت پسند گروہوں کی دو دہائیوں سے رپورٹنگ کرنے والے سینیئر صحافی ہیں۔ انہیں جنوبی فلپائن میں ابو سیاف گروپ نے 18 ماہ تک یرغمال بنائے رکھا۔_\n\n_وہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں سے قبل اسامہ بن لادن کا انٹرویو کرنے والے آخری صحافی تھے۔ ان کا ایکس اکاؤنٹ: @atyanibaker_\n\nافغانستان\n\nافغان طالبان\n\nافغان سرحد\n\nٹی ٹی پی\n\nموجودہ تعلقات کھلی محاذ آرائی پر مبنی نہیں بلکہ ایک نازک توازن پر قائم ہیں، ایسا توازن جو اعتماد سے زیادہ احتیاط کے سہارے برقرار ہے۔\n\nبکر عطیانی\n\nہفتہ, جولائی 4, 2026 - 06:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ایک تصویر پوری کہانی بیان کرتی ہے: یکم سے سات اپریل 2026 تک ارومچی میں چین کی مدد سے اختلافات دور کرنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان غیر رسمی مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے نمائندے تصویر میں ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے کی بجائے چینی اہلکار سے ہاتھ مٹلا رہے ہیں (بی این اے)</p>\n\nزاویہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nدو صوبوں میں افغان طالبان کے حملے پروپیگنڈا: پاکستان\n\nپاکستان کے خلاف القاعدہ کا حالیہ بیان اور افغان طالبان کی حمایت\n\nپاک افغان مذاکرات: معمولی اختلافات کو رکاوٹ نہ بنائیں، متقی\n\nپاک افغان کشیدگی: حملے نہیں، سفارت کاری ہی حل ہے\n\nSEO Title:\n\nافغانستان کے ساتھ ’سب ٹھیک ہو جائے گا‘ اب تک نہیں ہوا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "افغانستان کے ساتھ ’سب ٹھیک ہو جائے گا‘ اب تک نہیں ہوا"
}