{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiecsr4osnmjgadfpdaa6fiqlgcom4quhbilvey5ukczmvz3g3aifa",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mps6e5v7gqo2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidakclsjs62rgnj5uz65lxfabiwtznayisa3x2a2bfpyzfzx6r544"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 100351
  },
  "path": "/node/186614",
  "publishedAt": "2026-07-04T01:30:03.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ہنڈی",
    "ترسیلات زر",
    "معیشت",
    "بیرون ملک",
    "پاکستان",
    "سٹیٹ بینک آف پاکستان",
    "میاں عمران احمد",
    "news"
  ],
  "textContent": "**جب پاکستان معاشی مشکلات میں گھرا ہوتا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر کم ہونے لگتے ہیں، ڈالر مہنگا ہو جاتا ہے اور حکومتیں نئے قرضوں کی تلاش میں سرگرداں ہوتی ہیں تو ایک طبقہ ایسا ہے جو گمنام رہ کر اس ملک کو سہارا دیتا ہے۔**\n\nیہ وہ لاکھوں پاکستانی ہیروز ہیں جو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، یورپ، برطانیہ اور امریکہ میں دن رات محنت کرکے اپنی کمائی کا ایک حصہ ہر ماہ اپنے خاندانوں اور وطن کو بھیجتے ہیں۔\n\nیہ صرف پیسہ نہیں ہوتا بلکہ ماں کی دوائی، بچوں کی فیس، مکان کا کرایہ ہوتا ہے۔\n\nیہ پاکستان کی معیشت کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے جو مالی سال 2025 میں 38.3 ارب ڈالر تک بڑھ گیا۔\n\nاب سٹیٹ بینک آف پاکستان نے یکم جولائی 2026 سے ترسیلات زر سے متعلق دو مراعاتی سکیموں ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو سکیم اور سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔\n\nاس نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے کہ کیا اس فیصلے کے بعد بیرون ملک پاکستانی دوبارہ ہنڈی اور حوالہ کے غیر رسمی نظام کی طرف رجوع کریں گے؟\n\nسب سے پہلے ان سکیموں کو سمجھنا ضروری ہے۔ ٹیلی گرافک ٹرانسفر چارجز انسینٹو سکیم، پاکستان ریمیٹنس انیشی ایٹو کے تحت چلنے والی ایک بڑی سکیم تھی۔\n\nاس میں ترسیلات بھیجنے کے اخراجات اور کمیشن کا کچھ حصہ حکومت برداشت کرتی تھی تاکہ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے رقم بھیجنا آسان اور مفت رہے۔\n\nحکومت اس پروگرام پر سالانہ 100سے 120ارب روپے سبسڈی دے رہی تھی۔\n\n\n\n\nدوسرا پروگرام سوہنی دھرتی ریمیٹنس پروگرام تھا جو براہ راست اوورسیز پاکستانیوں کے لیے تھا، جس میں قانونی چینل سے رقم بھیجنے پر انعامی پوائنٹس ملتے تھے جنہیں مختلف سرکاری فیسوں اور سہولتوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔\n\nاس پروگرام کو ختم کرنے سے سرکار کو تقریباً سات ارب روپے کا فائدہ ہو سکتا ہے لیکن اورسیز پاکستانیوں کے لیے بینکنگ چینل سے پاکستان رقم بھجوانا مہنگا ہو سکتا ہے۔\n\nشاید یہ مراعات بہت بڑی نہ تھیں، لیکن ان کی علامتی اہمیت بہت زیادہ تھی۔\n\nسب سے بڑا پروگرام پاکستان ریمیٹنس انیشیٹو ہے۔ اس پروگرام کے تحت رقوم بھیجنے کی سہولیات پہلے کی طرح موجود ہیں لیکن اس میں مالی فائدہ زیادہ نہیں ہے۔\n\nاس لیے تارکین وطن ہنڈی حوالے کے ذریعے رقم بھیجنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپاکستان میں ہنڈی حوالے کے ذریعے رقم وصول کرنا یا ملک سے باہر بھجوانا آج بھی معمولی کام ہے۔\n\nسرکاری دعوں کے مطابق سختی بہت زیادہ ہے لیکن زمینی حقائق مختلف ہیں۔\n\nاب ہنڈی حوالے کا کاروبار بھی ڈیجیٹل اور پہلے کی نسبت آسان ہو گیا ہے۔ اس کاروبار کا حجم کئی ارب ڈالر ہوسکتا ہے۔\n\nہنڈی اور حوالہ کا نظام صرف اس وجہ سے مقبول نہیں ہوتا کہ بینکوں میں سہولت کم ہو بلکہ اس کی ایک بڑی وجہ بہتر شرح مبادلہ، فوری ادائیگی اور بعض اوقات کم کاغذی کارروائی بھی ہوتی ہے۔\n\nاگر رسمی چینلز کے ذریعے رقوم بھیجنے کی لاگت بڑھتی ہے یا سہولتوں میں کمی آتی ہے تو کچھ ترسیلات دوبارہ غیر رسمی راستوں کی طرف منتقل ہو سکتی ہیں۔\n\nمعاشیات کا ایک سادہ اصول ہے۔ جب دو راستے موجود ہوں تو لوگ عموماً وہ راستہ اختیار کرتے ہیں جو زیادہ آسان، زیادہ تیز اور زیادہ فائدہ مند ہو۔\n\nترسیلات زر پر سبسڈی ختم کرنے کی بجائے اگر ان کا رخ براہ راست اوورسیز پاکستانیوں کی طرف موڑ دیا جائے تو عام آدمی کو حقیقی فائدہ مل سکتا ہے جیساکہ دیگر ممالک میں ہوتا ہے۔\n\nفلپائن، سری لنکا، بنگلہ دیش اور مصر میں حکومتیں ترسیلاتِ زر بڑھانے کے لیے مراعات دیتی ہیں، مگر ان مراعات کا بڑا حصہ براہِ راست تارکینِ وطن کو دیا جاتا ہے۔\n\nپاکستان میں نسبتاً زیادہ زور بینکوں اور منی ٹرانسفر آپریٹرز کو فیس اور انسینٹو دینے پر رہا ہے۔\n\nایک بینک کا اس سبسڈی کی مد میں سالانہ بل تقریباً 30ارب روپے تھا۔\n\nصرف 100 ڈالر کی ترسیل پر حکومت مالیاتی اداروں کو 35 سعودی ریال تک فیس ادا کرتی رہی ہے جس کا کچھ حصہ عوام کو ملتا تھا۔\n\nاس سبسڈی کا بڑا فائدہ بیرون ملک ایکسچیبج کمپنیوں کو بھی ہوتا تھا جن کے مالک انڈین ہیں۔\n\nیہ طریقہ کار 1985 میں جنرل ضیا الحق کے دور میں شروع ہوا تھا جب حکومت نے سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانی مزدوروں کی جانب سے وطن رقم بھیجنے میں سہولت کے لیے بینکوں کو ٹیلی گرافک ٹرانسفر اور مواصلاتی اخراجات کی ادائیگی شروع کی تھی۔\n\nمالی سال 2024 میں پاکستان کو تقریباً 30.3 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔\n\nمالی سال 2025 میں یہ رقم بڑھ کر 38.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح تھی۔\n\nاب مالی سال 2026 میں ترسیلاتِ زر کے 41 سے 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔\n\nصرف دو برسوں میں ترسیلاتِ زر میں تقریباً 12 ارب ڈالر اضافے کا امکان ہے۔ اس موقعے پر ایک غلط پالیسی ترسیلات میں اضافے کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔\n\nپاکستان کے لیے اصل چیلنج 100 یا 120 ارب روپے کی سبسڈی بچانا نہیں بلکہ 40 ارب ڈالر سے زائد سالانہ ترسیلات زر کو برقرار رکھنا ہونا چاہیے۔\n\nاگر مراعات کے خاتمے کے باوجود ترسیلات زر موجودہ سطح پر برقرار رہتی ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ پاکستانی معیشت نے ایک پائیدار نظام قائم کر لیا ہے۔\n\nلیکن اگر آئندہ ایک دو برسوں میں ترسیلات کی رفتار سست پڑتی ہے تو پالیسی سازوں کو دوبارہ غور کرنا پڑے گا کہ آیا بچائی گئی رقم اس نقصان کے مقابلے میں واقعی فائدہ مند تھی یا نہیں۔\n\nفی الحال مکمل یقین کے ساتھ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بیرون ملک پاکستانی دوبارہ ہنڈی سے پیسہ بھیجنا شروع کر دیں گے یا نہیں، البتہ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ترسیلات زر کی پالیسی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں کامیابی کا انحصار سبسڈی سے زیادہ اعتماد، سہولت اور مسابقتی مالیاتی نظام پر ہوگا۔\n\n_نوٹ: یہ تحریر لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nہنڈی\n\nترسیلات زر\n\nمعیشت\n\nبیرون ملک\n\nپاکستان\n\nسٹیٹ بینک آف پاکستان\n\nپاکستان کے لیے اصل چیلنج 100 یا 120 ارب روپے کی سبسڈی بچانا نہیں بلکہ 40 ارب ڈالر سے زائد سالانہ ترسیلات زر کو برقرار رکھنا ہونا چاہیے۔\n\nمیاں عمران احمد\n\nہفتہ, جولائی 4, 2026 - 06:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">کراچی کی ایک دکان پر فارن کرنسی ڈیلر پاکستانی روپوں اور ڈالرز کی گنتی کر رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nحوالہ ہنڈی مافیا: وزیر داخلہ کا ’بڑے لوگوں‘ پر ہاتھ ڈالنے کا حکم\n\nبارہواں کھلاڑی اور کاٹھ کی ہنڈیا\n\nسعودی عرب سے اپریل میں 3.5 ارب ڈالر ترسیلات منتقل: سٹیٹ بینک\n\nجنگ کی طوالت سے ترسیلات زر کتنی متاثر ہو سکتی ہیں؟\n\nSEO Title:\n\nترسیلات زر پر سبسڈی ختم کرنے سے ہنڈی کو فروغ ملے گا؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "ترسیلات زر پر سبسڈی ختم کرنے سے ہنڈی کو فروغ ملے گا؟"
}