{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiawlaqsk4for4k4nojlu3sdljgmw4kvgxkbpqi6zfxncttluj5mqu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mprqy5bbpqh2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreig4pmr7jndlayv32zsvcaxok6l7xeumqhdzq665ffxjmirajtniay"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 94837
  },
  "path": "/node/186606",
  "publishedAt": "2026-07-03T06:11:34.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "بنوں",
    "لوڈ شیڈنگ",
    "بجلی",
    "احتجاج",
    "مظاہرے",
    "لائبہ حُسن",
    "پاکستان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**شدید گرمی کی حالیہ لہر کے دوران خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بندش اور کم وولٹیج کی شکایات ایک بار پھر سامنے آئی ہیں اور لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔**\n\nبجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف بنوں اور سرائے نورنگ سمیت مختلف علاقوں میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کیے۔\n\nاسی دوران ان دونوں شہروں کے گرڈ سٹیشنوں پر پیش آنے والے واقعے نے بجلی کی تقسیم، چوری اور انتظامی عملداری سے متعلق بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔\n\nپشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے مطابق بنوں میں بعض افراد نے ایسے فیڈرز زبردستی بحال کروائے جنہیں زیادہ لائن لاسز اور کم ریکوری کے باعث بند کیا گیا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس سے گرڈ پر اضافی دباؤ پڑا اور نظام متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔\n\nیہ واقعات ایسے وقت پیش آئے جب ہیٹ ویو کے باعث بجلی کی طلب اپنی بلند ترین سطح پر تھی۔\n\nبنوں میں فیڈر زبردستی بحال کروا دیے گئے (لائبہ حُسن/انڈپنڈنٹ اردو)\n\n\n\n\n**کیا خیبر پختونخوا میں بجلی کی کمی ہے ؟**\n\nاسرکاری اقتصادی سروے کے مطابق ملک میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 46 ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہے جس میں پن بجلی ایک بڑا حصہ ہے۔ تربیلا، ورسک اور دیگر منصوبے خیبر پختونخوا کو قومی گرڈ میں اہم کردار دیتے ہیں۔\n\nتاہم ماہرین کہتے ہیں کہ بجلی کی پیداوار اور اس کی دستیابی دو الگ چیزیں ہیں۔ پاکستان میں بجلی قومی گرڈ کے ذریعے تقسیم ہوتی ہے، اس لیے پیداوار کسی ایک صوبے میں ہونے کے باوجود سپلائی پورے نظام کے قواعد کے مطابق ہوتی ہے۔\n\nجب کہ لوڈشیڈنگ کا تعین زیادہ تر ریکوری، لائن لاسز اور متعلقہ فیڈرز کی کارکردگی سے جڑا ہوتا ہے۔\n\n**پیسکو کا مؤقف کیا ہے؟**\n\nپیسکو کے جنرل مینیجر آپریشن محمد زبیر خان کے مطابق خیبر پختونخوا میں لوڈشیڈنگ بجلی کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ بجلی چوری اور کم ریکوری والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔\n\nان کے مطابق کمپنی کو قومی گرڈ سے ضرورت کے مطابق بجلی ملتی ہے اور سینکڑوں فیڈرز ایسے ہیں جہاں 24 گھنٹے سپلائی جاری رہتی ہے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ گذشتہ ایک برس میں 34 فیڈرز کو لوڈشیڈنگ فری کیا گیا جبکہ لائن لاسز میں بھی کمی آئی ہے۔\n\nان کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف سپلائی کا نہیں بلکہ نظام پر مالی دباؤ کا بھی ہے۔\n\n’ہم غیر قانونی کنکشن ختم کر سکتے ہیں، لیکن قانون نافذ کرنا ہمارے اختیار میں نہیں۔ اس کے لیے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کا تعاون ضروری ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**گرڈ سٹیشنوں کا مسئلہ**\n\nپیسکو کے مطابق بعض مواقع پر سیاسی رہنما یا مقامی افراد گرڈ سٹیشنوں پر دباؤ ڈال کر فیڈرز بحال کراتے ہیں جس سے وقتی طور پر سپلائی بحال ہو جاتی ہے لیکن مجموعی نظام متاثر ہوتا ہے۔\n\nپیسکو کا مؤقف ہے کہ اگر بجلی چوری کم ہو، ریکوری بہتر ہو اور مقامی سطح پر تعاون ملے تو انہی علاقوں میں لوڈشیڈنگ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔\n\nبجلی چوری اور نظام پر اثرات\n\nکمپنی کے مطابق بجلی چوری صرف مالی نقصان نہیں بلکہ پورے تقسیم کے نظام پر اثر ڈالتی ہے۔ جب وصولیاں کم ہوں تو اس کا بوجھ مجموعی نظام اور بالآخر صارفین پر پڑتا ہے۔\n\nپیسکو کا کہنا ہے کہ ہر کیس ایف آئی آر تک نہیں پہنچ پاتا، کیوں کہ بعض علاقوں میں مزاحمت اور انتظامی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔\n\n**ماہرین کیا کہتے ہیں؟**\n\nتوانائی کے ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں مسئلہ صرف بجلی کی پیداوار یا چوری نہیں بلکہ پرانا بنیادی ڈھانچہ، زیادہ طلب اور کمزور انتظامی نظام بھی اس میں شامل ہیں۔\n\nگرمی کے موسم میں ایئرکنڈیشنرز اور دیگر آلات کے استعمال سے لوڈ بڑھ جاتا ہے جس سے بعض علاقوں میں ٹرپنگ اور وولٹیج کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔\n\n**صوبائی حکومت کا مطالبہ کیا ہے ؟**\n\nخیبر پختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ صوبہ ملک کی پن بجلی پیداوار میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اسے نیٹ ہائیڈل منافعے سمیت اس کے مالی حقوق ملنے چاہییں۔\n\nحکومت کے مطابق بجلی کے نظام میں بہتری کے لیے ترسیلی نظام کی بہتری اور سرمایہ کاری بڑھانا ضروری ہے۔\n\nبنوں\n\nلوڈ شیڈنگ\n\nبجلی\n\nاحتجاج\n\nمظاہرے\n\nصوبے کے مختلف علاقوں میں کم وولٹیج کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ پیسکو کا کہنا ہے کہ بجلی چوری اور کم ریکوری والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔\n\nلائبہ حُسن\n\nجمعہ, جولائی 3, 2026 - 12:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">بنوں میں بجلی کی لوڈنگ شیڈنگ کے خلاف لوگ احتجاج کر رہے ہیں (لائبہ حُسن/انڈپنڈنٹ اردو)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nK19PoJtb\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nبجلی کی ترسیل کی نیلامی: کابینہ کمیٹی کی رہنما اصولوں کی منظوری\n\nلوڈشیڈنگ کے لیے بٹن مرضی سے بند نہیں کرتے: گرڈ سٹیشن آپریٹر\n\nکیا لائن لاسز کی وجہ سے بجلی کی لوڈشیڈنگ قانونی ہے؟\n\nلنڈی کوتل لوڈشیڈنگ سے پریشان، حکام کا میٹر لگانے کا مشورہ\n\nSEO Title:\n\nخیبرپختونخوا: شدید گرمی میں بجلی کی بندش پر بنوں اور سرائے نورنگ میں احتجاج\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "خیبرپختونخوا: شدید گرمی میں بجلی کی بندش پر بنوں اور سرائے نورنگ میں احتجاج"
}