{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreia2du2zcsk2t24dgsa6rqr64v5xcmc5w7ts34n5sly5jtxipuzqku",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mprqxrsegay2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreid6nobey5omvyque72oi7tjmvt2q2goukimx52qajfrcwf7cgmxnq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 66277
  },
  "path": "/node/186612",
  "publishedAt": "2026-07-03T10:34:26.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "pic.twitter.com/1mrQeAWV7n",
    "July 3, 2026",
    "ایران",
    "آیت اللہ علی خامنہ ای",
    "تہران",
    "پاکستان",
    "وزیراعظم",
    "فیلڈ مارشل عاصم منیر",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news",
    "@GovtofPakistan"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر جمعے کو دو طرفہ سرکاری دورے پر استنبول پہنچ گئے۔**\n\nوہ پاکستان - ترکی تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی امن و سلامتی سمیت مختلف امور پر اعلیٰ سطح کے مذاکرات کریں گے۔\n\nاستنبول کے ہوائی اڈے پر وزیر اعظم کا اسقبال وزیر تجارت ترکی پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات، ترکی میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر یوسف جنید اور ترکی کی وزارت خارجہ کے حکام نے کیا۔\n\nوزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی موجود ہیں۔\n\nحکومت پاکستان کے ایکس اکاؤنٹ پر موجود بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور ترکی کے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہو گا، جبکہ خصوصی توجہ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر مرکوز رہے گی۔\n\n> وزیر اعظم شہباز شریف ترکیہ کے دوطرفہ دورے پر استنبول پہنچ گئے۔\n>\n>  استنبول کے اتاترک ایئر پورٹ پر ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات، ترکیہ میں پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید اور ترکیہ کے وزارت خارجہ اور سفارت خانے کے دیگر افسران نے وزیر اعظم کا استقبال کیا ۔\n>\n>  نائب… pic.twitter.com/1mrQeAWV7n\n>\n> — Government of Pakistan (@GovtofPakistan) July 3, 2026\n\nدونوں رہنما خطے میں امن و سلامتی سے متعلق امور پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کریں گے۔\n\nاپنے دورہ استنبول کے دوران وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ ایک بزنس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے، جس میں خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجکاری سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان میں سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع کو اجاگر کیا جائے گا۔\n\nکانفرنس میں ترکی کے ممتاز کاروباری رہنما، سرمایہ کار، اعلیٰ سرکاری حکام اور دیگر اہم شخصیات شرکت کریں گی۔\n\nوزیر اعظم شہباز شریف جمعے کو آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے بعد تہران سے استنبول کے لیے روانہ ہوئے تھے۔\n\nایران کے صدر مسعود پزشکیان کی دعوت پر وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کی۔\n\nوزیراعظم نے پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کی، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیر داخلہ سید محسن نقوی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اعلیٰ حکومتی حکام شامل تھے۔\n\nوزیراعظم نے مسعود پزشکیان اور ایران کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔\n\nسینیٹ چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں پارلیمانی وفد، ارکانِ پارلیمان اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی وزیراعظم کے ہمراہ جنازے میں شرکت کی۔\n\nتین دہائیوں سے زائد عرصہ تک ایران کے سپریم لیڈر رہنے والے علی خامنہ ای کو 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے پہلے روز ہی قتل کر دیا گیا تھا۔\n\nایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق سابق سپریم لیڈر کی میت جمعے کو تہران کے گرینڈ مصلیٰ پہنچا دی گئی تھی جہاں ان کی نماز جنازہ اور آخری رسومات ادا کی گئیں۔\n\nجنگ کے دوران مؤخر ہونے والی عوامی تدفین کی تقریب کی تیاریاں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایران اور امریکہ، جنگ بندی کے ایک نازک مرحلے پر ہیں اور دونوں ممالک نے تنازع ختم کرنے کے لیے ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تقریباً 30 ممالک کے نمائندوں کی اس جنازے میں شرکت متوقع ہے، جبکہ عراق، افغانستان اور پاکستان سمیت پڑوسی ممالک سے بھی لوگ ایران پہنچ رہے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n\nتہران کے مرکزی مذاکرات کار اور ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے جمعرات کو عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’تمام ایرانی عوام اپنی بھرپور شرکت کے ذریعے اسلامی ایران کی تاریخ میں ایک شاندار باب رقم کریں۔‘\n\nایران میں سرکاری حکام کے مطابق ان کی آخری رسومات میں ایک کروڑ پچاس لاکھ سے دو کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے، جو ایران کی تاریخ کا سب سے بڑا سرکاری جنازہ ثابت ہو سکتا ہے۔\n\nحکام نے ہفتے سے پیر تک تہران میں تمام سرکاری و نجی دفاتر بند رکھنے کا حکم دیا ہے، جبکہ ٹریفک پابندیوں کے باعث شہر کا بڑا مرکزی حصہ نجی گاڑیوں کے لیے بند رہے گا۔\n\nتہران کی فضائی حدود جمعہ سے جزوی جبکہ پیر کے روز مکمل طور پر بند کر دی جائیں گی۔\n\nتہران میں رسومات مکمل ہونے کے بعد علی خامنہ ای کی میت کو عراق کے شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جس کے بعد 9 جولائی کو ان کی تدفین شمال مشرقی ایرانی شہر مشہد میں حضرت امام رضا کے روضے کے احاطے میں کی جائے گی، جو ان کی جائے پیدائش بھی ہے۔\n\nیہ ابھی واضح نہیں کہ علی خامنہ ای کے صاحبزادے اور موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای، جو سپریم لیڈر بننے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے، تہران میں مرکزی تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں۔\n\nایران\n\nآیت اللہ علی خامنہ ای\n\nتہران\n\nپاکستان\n\nوزیراعظم\n\nفیلڈ مارشل عاصم منیر\n\nاستنبول کے ہوائی اڈے پر وزیر اعظم کا اسقبال وزیر تجارت ترکی پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات، ترکی میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر یوسف جنید اور ترکی کی وزارت خارجہ کے حکام نے کیا۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, جولائی 3, 2026 - 23:15\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف 3 جولائی 2026 کو استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد ترکی کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات سے مصافحہ کر رہے ہیں (ایکس، حکومت پاکستان)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان امریکہ ایران مذاکرات میں سہولت کاری کرتا رہے گا: دفتر خارجہ\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مثبت پیش رفت ہوئی: پاکستان\n\nایران معاہدہ: خلیجی ممالک کو یقین دہانی کی امریکی کوشش\n\nSEO Title:\n\nوزیراعظم شہباز شریف ترکی کے سرکاری دورے پر استنبول پہنچ گئے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "وزیراعظم شہباز شریف ترکی کے سرکاری دورے پر استنبول پہنچ گئے"
}