{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicuq5hsathwkxfkkevq3a6zwakluuvjhigjnyp3bxpjuazjqhfh4i",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mprqxkzdmjb2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreicgpuv2vltwlrijm57kwcund5wgsft3nwfca2dqsfu4httbbki3a4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 88696
},
"path": "/node/186610",
"publishedAt": "2026-07-03T07:47:48.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"رام مندر",
"ایودھیا",
"انڈیا",
"چندہ",
"عطیہ",
"وشوام سنکرن",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**انڈیا میں ایودھیا کے رام مندر کے چندے میں مبینہ خورد برد کے الزام میں کم از کم آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جس سے یہ بڑا مندر ایک اور تنازعے میں الجھ کر رہ گیا ہے۔**\n\nشمالی ریاست اتر پردیش میں واقع اس بہت بڑے مندر کا افتتاح دو سال قبل ایک ایسی تقریب میں کیا گیا تھا جسے ’زندگی میں ایک بار‘ آنے والے موقع کے طور پر پیش کیا گیا۔ تقریب میں انڈین سیاست اور ثقافت کی اہم ترین شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی تھی۔\n\nہندو دیوتا رام سے منسوب یہ مندر قرون وسطیٰ کی بابری مسجد کی جگہ پر تعمیر کیا گیا تھا۔ 1992 میں ہندو ہجوم نے مسجد کو مسمار کر دیا تھا۔ مندر کی تعمیر سے انڈیا کے ہندو قوم پرست حلقوں کا ایک دیرینہ مطالبہ پورا ہوا، جن میں نریندر مودی کی حکمران جماعت بی جے پی بھی شامل ہے۔\n\nکئی ماہ سے یہ الزامات گردش کر رہے تھے کہ ہندوؤں کی جانب سے دیے گئے چندے کی بھاری رقوم مندر کے انتظام میں شامل کچھ افراد خورد برد کر رہے ہیں۔ اس پر بی جے پی کی زیر قیادت ریاستی حکومت تحقیقات کا حکم دینے پر مجبور ہو گئی۔\n\nمندر میں روزانہ 70 سے 80 ہزار ہندو آتے ہیں۔\n\nاس ہفتے حکومت کو تحقیقاتی رپورٹ ملنے کے بعد، مندر کا انتظام سنبھالنے والے ٹرسٹ نے پولیس میں باقاعدہ شکایت درج کرائی، جس کے نتیجے میں چوری، نقدی کے غبن، اور فنڈز اور قیمتی اشیا کی خورد برد کے الزام میں آٹھ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔\n\n25 نومبر 2025 کو ایودھیا ہندو خواتین میں رام مندر کے قریب واقع بازار سے گزر رہی ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nپولیس کے مطابق، ان میں سے زیادہ تر افراد چندے کی رقم جمع کرنے، گننے اور اسے منتقل کرنے کے کام میں شامل تھے۔\n\nپولیس نے گرفتاری کی ایک رپورٹ میں کہا، ’ایس آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ اور دستیاب زبانی، دستاویزی اور الیکٹرانک شواہد سے یہ واضح ہے کہ چندہ گننے کے لیے تعینات کچھ ملازمین نے تواتر کے ساتھ چوری اور خورد برد کر کے جرم کا ارتکاب کیا۔‘\n\nاگرچہ یہ رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں لائی گئی، لیکن مقامی میڈیا اداروں نے اس کے مندرجات سے باخبر افراد کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس میں مندر کو دی جانے والی نقدی اور قیمتی اشیا کو گننے اور ان کے انتظام میں خامیوں، ناکافی نگرانی اور غفلت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس میں مالی احتساب کو مضبوط بنانے کے لیے عطیات کے انتظامی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی بھی سفارش کی گئی ہے۔\n\nحکومت کا کہنا ہے کہ ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور حتمی رپورٹ 15 دنوں میں جاری کر دی جائے گی۔\n\nحزب اختلاف کی مرکزی جماعت کانگریس نے اس سے قبل الزام لگایا تھا کہ ہندوؤں کی جانب سے دی گئی نقدی اور زیورات کو ٹرسٹ کی نگرانی میں مندر کے عملے نے منظم طریقے سے غائب کیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپارٹی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مندر کمپلیکس کی تعمیر میں تقریباً 50 ارب روپے (40 کروڑ ڈالر) کا ’غلط استعمال‘ کیا گیا ہے۔\n\nبی جے پی کے سینیئر رہنما اور سابق نائب وزیر اعظم لال کرشن ایڈوانی کی 1980 کی دہائی کے آخر اور 1990 کی دہائی کے آغاز میں چلائی گئی اس مہم کا حوالہ دیتے ہوئے جس کے نتیجے میں بابری مسجد مسمار کی گئی تھی، پارٹی کے صدر ملکارجن ایم کھرگے نے کہا کہ ’یہ مندر پیسہ لوٹنے کے لیے تعمیر کیا گیا ہے۔ ایڈوانی کی رتھ یاترا کے بعد جمع ہونے والے پیسوں کا کسی نے کوئی حساب نہیں دیا۔ اب، مندر کی تعمیر کے بعد 50 ارب روپے کا غلط استعمال کیا گیا۔‘\n\nاخبار دی ہندو کے مطابق انہوں نے مزید کہا، ’ایسی اطلاعات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پجاری نے بھگوان رام کے نام پر پیسوں کا غبن کیا ہے۔‘\n\nدریں اثنا، عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ نے الزام لگایا کہ مندر کے ٹرسٹ نے اپنے دفتر اور عجائب گھر کے لیے مقامی بی جے پی رہنماؤں کے اہل خانہ سے انتہائی مہنگے داموں زمین خریدی ہے۔\n\nرام مندر\n\nایودھیا\n\nانڈیا\n\nچندہ\n\nعطیہ\n\nپولیس نے گرفتاری کی ایک رپورٹ میں کہا کہ ’دستیاب زبانی، دستاویزی اور الیکٹرانک شواہد سے یہ واضح ہے کہ چندہ گننے کے لیے تعینات ملازمین نے تواتر کے ساتھ چوری اور خورد برد کر کے جرم کا ارتکاب کیا۔‘\n\nوشوام سنکرن\n\nجمعہ, جولائی 3, 2026 - 14:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">21 جنوری 2024 کو انڈیا کے شہر ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر نو کے بعد 22 جنوری 2024 کو اس کے افتتاح کی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبابری مسجد کی جگہ بنے رام مندر پر جھنڈا لہرانا افسوسناک: پاکستان\n\nبابری مسجد کی جگہ رام مندر کا افتتاح، پاکستان کی مذمت\n\nایودھیا: رام مندر کا افتتاح قریب لیکن متبادل مسجد کی تعمیر میں دیر\n\nرام مندر کا افتتاح قریب، ایودھیا کے مسلمانوں کی تلخ یادیں تازہ\n\nSEO Title:\n\nایودھیا مندر ’لُوٹنے کے لیے بنایا گیا‘ چندے میں مبینہ خوردبرد پر گرفتاریاں\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/india/ram-temple-india-donations-theft-arrest-b3003512.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "بابری مسجد کی جگہ بنائے گئے رام مندر کے چندے میں خردبرد کی کہانی ہے کیا؟"
}