{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreihrm37yn37yhpyks5irqon5zv7bano4ua7nqcdxqx5lwcdtao5n2m",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mprqx67x5p42"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifq3hlaf5ubudpjzojpuffxfvlijqiisayvbypqpfjv3ivygozenq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 117192
},
"path": "/node/186613",
"publishedAt": "2026-07-03T10:54:44.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاکستان",
"صحت",
"خواتین",
"پیدائش",
"عدالت",
"قرۃ العین شیرازی",
"video"
],
"textContent": "**اسلام آباد کی مقامی عدالت نے جمعے کو ایک مقدمے کی سماعت کے بعد انسانی پلیسنٹا کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث تین چینی اور دو پاکستانی شہریوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔**\n\nسول جج احمد شہزاد گوندل نے اسلام آباد میں انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے کیس میں گرفتار پانچ ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، ان افراد میں تین چینی باشندے جبکہ دو پاکستانی افراد کو 24 جون کو گرفتار کیا گیا تھا۔\n\nپلیسنٹا کی غیر قانونی خرید و فروخت کا یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی نے کاروائی کرتے ہوئے تقریبا ساڑھے پانچ سو کلو گرام انسانی پلیسنٹا اور بڑی مقدار میں انسانی بال برآمد کیے۔\n\nسول جج احمد شہزاد گوندل کی عدالت میں ہونے والی سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے بتایا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون اور ای الیون میں قائم مبینہ غیرقانونی سینٹرز میں لاہور، پشاور اور راولپنڈی سے خواتین کا پلیسنٹا دو لاکھ روپے فی کلو کے حساب سے خریدا جاتا تھا۔ اور اسے مبینہ طور پر بھیڑ کے خون میں رکھ کر ان مراکز تک منتقل کیا جاتا تھا تاکہ اسے چھپایا جا سکے۔\n\nپولیس کے مطابق برآمد کیے گئے پلیسنٹا کی مالیت تقریبا 11 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایف آئی اے کے عہدے دار نے سماعت کے بعد انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان مراکز میں پہلے پلیسنٹا کو بوائل کیا جاتا اور سکھا کر خشک کیا جاتا تھا اور اس سے کیپسول بھی تیار کیے جا رہے تھے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ اس مبینہ نیٹ ورک کے ذریعے ان کیپسولز اور پلیسنٹا کو جعلی دستاویزات کی مدد سے ویتنام اور دیگر ممالک سمگل کیا جا رہا تھا۔\n\nطبی ماہرین کے مطابق پلیسنٹا حمل کے دوران رحم میں بننے والا ایک عارضی عضو ہے جو ماں اور بچے کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے، اور اس کا کام ماں کے خون سے آکسیجن بچے تک پہنچانا ہوتا ہے۔\n\nپاکستانی قانون کے مطابق بچے کی پیدائش کے بعد پلیسنٹا کو زمین میں دفن کیا جانا چاہیے، اور متعلقہ خاندان کی رضامندی کے بغیر اسے فروخت یا کسی طبی مقصد کے لیے استعمال ہی نہیں کیا جا سکتا۔\n\nایف آئی نے یہ بھی بتایا کہ ایسا اقدام عمومی طور پر سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ کی ممکنہ ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔\n\nپاکستان\n\nصحت\n\nخواتین\n\nپیدائش\n\nعدالت\n\nاسلام آباد کی مقامی عدالت نے انسانی پلیسنٹا کی غیر قانونی خرید و فروخت میں ملوث تین چینی شہریوں اور دو پاکستانیوں کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعہ, جولائی 3, 2026 - 15:45\n\nMain image:\n\nصحت\n\njw id:\n\nNmLwtjhx\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nانڈیا: پابندی کے خلاف ٹیلی گرام کا عدالت سے رجوع\n\nعدالت کا ون کانسٹی ٹیوشن کی لیز منسوخی کا فیصلہ برقرار\n\nملازمت سے نکالنے کے لیے اے آئی کا بہانہ نہیں چلے گا: چینی عدالت\n\nچترال: چینی کمپنی کا لیز کی منسوخی کے خلاف عدالت سے رجوع\n\nSEO Title:\n\nاسلام آباد: عدالت نے پلیسنٹا سمگلنگ کیس میں ملزمان کو جیل بھیج دیا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "اسلام آباد: عدالت نے پلیسنٹا سمگلنگ کیس میں ملزمان کو جیل بھیج دیا"
}