{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigwmfmfndehrrlhyrggjvojoucom6vp23xvkqc6pcw2azttrcpbny",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mprqwyqcad42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreifqvzo3jys3xzwotzb36fscgsz2jsmj433yoil6aob5vfr3tai2lm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 54868
  },
  "path": "/node/186618",
  "publishedAt": "2026-07-03T13:41:19.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "صحافی",
    "ارشد شریف",
    "قتل کیس",
    "کینیا",
    "قرۃ العین شیرازی",
    "پاکستان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**کینیا کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کے قتل کیس میں دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے جمعے کو یہ فیصلہ سنایا ہے کہ صرف فائرنگ کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہونا ازخود یہ ثابت نہیں کرتا کہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔**\n\nسپریم کورٹ کینیا کے مطابق ’محض فائرنگ کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہو جانا ازخود یہ ثابت نہیں کرتا کہ اسے تشدد، ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔‘\n\nاس ضمن میں ارشد شریف کی اہلیہ جویریہ صدیق کا موقف ہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے سفارتی دباؤ نہ ڈالنے کے باعث ارشد شریف کو کینیا میں بھی اب تک انصاف نہیں مل سکا۔\n\nانہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ارشد شریف کے قتل کو اکتوبر میں چار سال ہو جائیں گے، ’لیکن پاکستان اور کینیا کی حکومتوں نے اس کیس کو حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی۔ پاکستان کی عدالتوں میں حکومتی وکیلوں کو اپنے شہری کے قتل سے زیادہ کینیا کے ساتھ سفارتی تعلقات عزیز نظر آئے۔‘\n\n2023 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے صحافی ارشد شریف کے کینیا میں ہونے والے قتل کا ازخود نوٹس لیا تھا جس کے بعد کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تھا۔\n\nاس سے قبل دسمبر 2022 میں پاکستانی حکومت نےسپریم کورٹ کی ہدایت پر ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جی آئی ٹی) تشکیل دی تھی جس کے تین ماہ گزرنے کے بعد جے آئی ٹی سربراہ اویس احمد نے کہا تھا کہ کینیا میں متعلقہ حکام تحقیقات کے سلسلے میں مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کر رہے۔\n\nتاہم تقریباً چار سال گزرنے کے بعد پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے رواں برس فروری میں صحافی ارشد شریف قتل کیس کی ازخود نوٹس کی کارروائی نمٹاتے ہوئے فیصلہ جاری کیا تھا کہ چونکہ پاکستان اور کینیا کی حکومتیں اس کیس کے سلسلے میں مناسب اقدامات اٹھا رہی ہیں لہذا ’عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔‘\n\nکینیا کی سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ ’اس نوعیت کے سلوک (تشدد) کے لیے عموماً یہ ضروری ہوتا ہے کہ متاثرہ شخص زندہ ہو اور کسی نہ کسی شکل میں اپنے مبینہ اذیت دینے والے کی تحویل، کنٹرول یا اس کے اثر و رسوخ میں ہو۔‘ نیز ’کسی مقدمے میں یہ دعویٰ کیا جائے کہ مہلک فائرنگ کے دوران یا اس کے بعد متاثرہ شخص کو تشدد یا غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، تو اس کے لیے قابلِ اعتماد شواہد، بالخصوص طبی یا سائنسی شہادت، پیش کرنا ضروری ہے۔‘\n\nعدالت نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’مثال کے طور پر یہ ثابت کیا جانا چاہیے کہ موت فوری طور پر واقع نہیں ہوئی بلکہ متاثرہ شخص فائرنگ کے بعد کچھ عرصے تک شدید درد، اذیت یا تکلیف میں مبتلا رہا۔‘\n\nعدالت نے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ زیرِ سماعت مقدمے میں اس نوعیت کا کوئی طبی، سائنسی یا دیگر قابلِ قبول ثبوت پیش نہیں کیا گیا، اس لیے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ متوفی کو آئینی یا قانونی معنوں میں تشدد، ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا تھا۔\n\nعدالت نے متفقہ طور پر صحافی ارشد شریف کی اہلیہ اور دو صحافتی تنظیموں کی جانب سے دائر اپیل مسترد کرتے ہوئے بیشتر نکات پر کورٹ آف اپیل کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔\n\nجویریہ صدیق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے پاس کینیا کی کورٹ آف اپیل میں جانے کا حق موجود ہے۔\n\nجویریہ صدیق نے یہ بھی بتایا کہ ’کینیا کی عدالت نے دو بار مجھے معاوضہ دینے کا اعلان کیا، لیکن یہ صرف اعلان ہی ہوتا ہے۔ وہاں کے قانون کے مطابق یہ ایک اخلاقی فتح کی علامت ہے، یہ معاوضہ درحقیقت متاثرین کو ادا نہیں کیا جاتا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**ارشد شریف کون تھے؟**\n\nارشد شریف پاکستان کے نامور صحافی اور اینکر تھے۔ وہ چار سال قبل اگست 2022 میں اپنے خلاف متعدد مقدمات درج ہونے کے بعد پاکستان چھوڑ گئے تھے۔ ابتدائی طور پر وہ کچھ عرصہ متحدہ عرب امارات میں رہے اور بعد ازاں کینیا چلے گئے۔ اکتوبر 2022 میں انہیں کینیا میں قتل کر دیا گیا تھا۔\n\n24 اکتوبر 2022 کو کینیا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس نے ایک پریس بیان میں تسلیم کیا کہ کینیا پولیس کے اہلکاروں نے مگاڈی روڈ پر ایک کارروائی کے دوران ارشد شریف پر فائرنگ کی، تاہم ان کے مطابق یہ واقعہ ’غلط شناخت‘ کا نتیجہ تھا۔\n\nتقریباً ایک سال گزرنے اور تحقیقات یا ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی سے متعلق کوئی واضح پیش رفت سامنے نہ آنے پر ارشد شریف کی اہلیہ اور دیگر درخواست گزاروں نے ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی۔\n\nاس درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ’غیر قانونی فائرنگ کی مکمل تحقیقات نہ کرنا، ذمہ دار اہلکاروں کو گرفتار یا ان کے خلاف مقدمہ قائم نہ کرنا، متوفی کے حقِ زندگی، انسانی وقار اور منصفانہ قانونی تحفظ کی خلاف ورزی ہے۔‘\n\nصحافی\n\nارشد شریف\n\nقتل کیس\n\nکینیا\n\nسپریم کورٹ کینیا کے مطابق، ’محض فائرنگ کے نتیجے میں کسی شخص کی موت واقع ہو جانا ازخود یہ ثابت نہیں کرتا کہ اسے تشدد، ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔‘\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعہ, جولائی 3, 2026 - 18:45\n\nMain image:\n\n> <p>22 جون، 2022 کی اس تصویر میں پاکستانی صحافی اور اینکر ارشد شریف اسلام آباد میں ہونے والی ایک تقریب میں شریک ہیں(اے ایف پی/عامر قریشی)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nOWX5DJ9h\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\n’عدالتی مداخلت کی ضرورت نہیں:‘ وفاقی آئینی عدالت نے ارشد شریف قتل کیس نمٹا دیا\n\nارشد شریف قتل کیس: جے آئی ٹی کینیا جا کر شواہد حاصل کرے گی\n\nارشد شریف قتل تفتیش میں پیش رفت پر 17 دسمبر کو رپورٹ طلب\n\nارشد شریف قتل کیس: ایک طویل قانونی جنگ جاری ہے\n\nSEO Title:\n\nموت تشدد ثابت نہیں کرتی: ارشد شریف قتل کیس میں کینیا سپریم کورٹ کا فیصلہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "موت تشدد ثابت نہیں کرتی: ارشد شریف قتل کیس میں کینیا سپریم کورٹ کا فیصلہ"
}