{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihgapuqmt54wsewtij2ygrwu25erax3ro6jgzrb56xqb5enme3rea",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpozrnuhoei2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreig37hhprcf2paweug3sn3qykcxkqujlfjptfcjw5usbdbbdsqjqjy"
    },
    "mimeType": "image/png",
    "size": 937204
  },
  "path": "/node/186589",
  "publishedAt": "2026-07-02T07:07:36.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by @38parasitespodcast",
    "مرض",
    "بیماری",
    "برطانیہ",
    "دماغ",
    "ریچل ڈیوس",
    "صحت",
    "news",
    "@38parasitespodcast"
  ],
  "textContent": "**انڈیا کے سفر کے دوران ٹیپ ورم کا شکار ہونے کے بعد دماغ میں 38 پیراسائٹس کی موجودگی کے مسئلے میں مبتلا ہونے والی خاتون، پیراسائٹس کی وجہ سے ہونے والی انفیکشن کے بار بار شدت اختیار کرنے کے بعد ایک دہائی تک دوروں، نفسیاتی مسائل اور اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورت حال کا مقابلہ کرتی رہیں۔**\n\nکارڈف کی رہائشی 42 سالہ لوری ڈینمین نے 2007 میں، جب ان کی عمر 25, 26 سال تھی، اپنی دوست کے ہمراہ دو ماہ کے لیے انڈیا کا سفر کیا۔\n\nانہوں نے ملک بھر کا سفر کیا اور وہاں کی ثقافت کی گرویدہ ہو گئیں. وہ شکر گزار تھیں کہ وہ نام نہاد ’دہلی بیلی‘ کا شکار نہیں ہوئیں جو ایک ایسی بیماری اور ڈائریا ہے جس کا سامنا ان مسافروں کو کرنا پڑتا ہے جو ایسے بیکٹیریا یا وائرس کھا لیتے ہیں جن کا ان کا جسم عادی نہیں ہوتا۔\n\nتاہم انہوں نے بتایا کہ اپنے سفر کے چار سال بعد جب وہ واش روم گئیں تو ان کے جسم سے ایک میٹر لمبا ٹیپ ورم خارج ہوا۔ ان میں ایسی کوئی علامات یا نشانیاں ظاہر نہیں ہوئی تھیں جن سے کسی خرابی کا علم ہوتا، لیکن ڈاکٹر سے معائنے کے بعد انہیں یقین ہو گیا کہ برا وقت گزر چکا ہے اور انہوں نے اپنی معمول کی زندگی جاری رکھی۔\n\nلوری ڈینمین نے بتایا کہ اس کے بعد انہیں ’بہت شدید سر درد‘ رہنے لگا، جس کا انہیں پہلے کبھی سامنا نہیں ہوا تھا، اور 2011 میں انہیں ٹانک کلانک (گرینڈ مال) دورہ پڑا۔ این ایچ ایس کے مطابق جس کی علامات میں جسم کا اکڑ جانا، بے ہوش ہونا اور جھٹکے لگنا شامل ہے۔\n\nانہوں نے فوری طور پر طبی مشورہ لیا اور دماغ کے سکین کے لیے تین ماہ انتظار کرنے کے بعد، لوری ڈینمین کو معلوم ہوا کہ انہیں نیورو سسٹی سرکوسس لاحق ہے، جو سور کے ٹیپ ورم کے لاروا کی وجہ سے دماغ میں ہونے والا ایک پیراسائٹک انفیکشن ہے۔\n\nلوری ڈینمین نے کہا: ’یہ سوچنا ہی انتہائی تکلیف دہ تھا کہ یہ چیزیں میرے سر میں موجود تھیں۔‘\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by @38parasitespodcast\n\nلوری ڈینمین نے بتایا کہ 2007 میں انڈیا کے سفر کے دوران، انہوں نے خوراک سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے صرف سبزیوں پر مشتمل خوراک کھانے کا فیصلہ کیا تھا۔\n\nتاہم، عالمی ادارہ صحت کے مطابق، ٹیپ ورم اور نیورو سسٹی سرکوسس ٹیپ ورم کے انڈوں سے آلودہ پانی یا حفظان صحت کے ناقص اصولوں کی وجہ سے ہو سکتے ہیں۔ نیورو سسٹی سرکوسس اس وقت ہوتا ہے جب ٹیپ ورم کے انفیکشن کا علاج نہ کیا جائے، کیوں کہ لاروا مرکزی اعصابی نظام میں جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ بیماری کی سب سے شدید شکل ہے، اور دورے پڑنے کی ایک عام وجہ ہے۔\n\nاپنی تشخیص کے بعد، لوری ڈینمین کا مرگی کا علاج کیا گیا جب کہ ڈاکٹروں نے پیراسائٹس کو ختم کرنے کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کی غرض سے دنیا بھر کے ٹراپیکل امراض کے ماہرین سے مشورہ کیا۔ ڈرائیونگ کے دوران دورہ پڑنے کے خطرات کی وجہ سے لوری ڈینمین کا ڈرائیونگ لائسنس منسوخ ہو گیا، اور ان کی خود مختاری متاثر ہوئی۔\n\nانہیں دورہ پڑنے کے خدشے کے پیش نظر گھر میں اکیلے ہونے کی صورت میں نہانے جیسے کچھ کام نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا، اور چوں کہ وہ اکیلی رہتی تھیں اس لیے انہیں یہ خاصا مشکل لگا۔ مرگی کی دوا کی درست خوراک کا تعین ہونے تک لوری ڈینمین کو دورے پڑتے رہے، اور انہیں گھر سے باہر جانے کے حوالے سے بے چینی کا سامنا ہونے لگا۔ انہوں نے کہا کہ ’ایک دورہ تب پڑا، دوپہر کے کھانے کا وقت تھا، اور میں اکیلی ہی کارڈف میں گھوم رہی تھی۔‘\n\n’خوش قسمتی سے میں اپنی دوست سے فون پر بات کر رہی تھی، اور میں نے کہا، ’میری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔‘ پھر میں نے اپنا فون سڑک پر موجود ایک اجنبی کو دے دیا۔ پھر جب مجھے ہوش آیا تو میری وہ دوست وہیں موجود تھیں جس سے میں فون پر بات کر رہی تھی، اور انہوں نے کہا کہ ’تمہیں پھر سے دورہ پڑا ہے۔‘\n\n’ظاہر ہے، اس کے بعد میں بہت محتاط ہو گئی تھی، بس کہیں بھی جانے اور ایسا ہونے سے ڈرتی تھی۔‘\n\nاس دوران، لوری ڈینمین کو سٹیرائڈز اور البینڈازول دی گئی، جو پیراسائٹک کیڑوں کی مختلف انفیکشنز کے علاج کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔\n\nکچھ عرصے کے لیے حالات معمول پر آ گئے اور ان کے دورے کم ہو گئے، لیکن 2015 میں لوری ڈینمین نے بتایا کہ پیراسائٹس کی وجہ سے بیماری نے دوبارہ شدت اختیار کر لی کیوں کہ وہ 'توقع کے مطابق ختم نہیں ہو رہے تھے'۔\n\nاس کے بعد ڈاکٹروں نے البینڈازول اور سٹیرائڈز کے ساتھ کیڑے مارنے والی ایک اور دوا پرازیکوانٹل آزما کر دیکھی، اور لوری ڈینمین نے بتایا کہ اگرچہ اس دوا نے ابتدا میں پیراسائٹس کو مارنا اور ان کے دماغ کی سوجن کو کم کرنا شروع کر دیا تھا، لیکن جب انہوں نے دوا چھوڑی تو ان کے دماغ کے کسی اور حصے میں سوجن واپس آ جاتی تھی۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ’یہ سلسلہ کم از کم ایک سال تک چلتا رہا، جس دوران میں مزید بیمار اور پریشان ہوتی گئی۔‘\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by @38parasitespodcast\n\n’مجھے کام چھوڑنا پڑا، دیکھ بھال کے لیے گھر واپس جانا پڑا، اور پھر ایک وقت ایسا آیا کہ مجھے پرسنل انڈیپنڈنس پیمنٹس (پی آئی پی) پر جانا پڑا، اور میں خود سے فارم پُر کرنے کے بھی قابل نہیں تھی۔\n\n’مجھ جیسی انتہائی خود مختار اور قابل خاتون جس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اکیلے گزارا ہو، اس کے لیے میں سوچ رہی تھی کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟‘\n\nاس کے بعد لوری ڈینمین کو زیادہ شدید خوف کا سامنا ہونے لگا۔ وہ مناسب نیند لینے کے حوالے سے فکر مند رہنے لگیں، اور ادویات کی وجہ سے اپنی ظاہری حالت اور احساسات میں ہونے والی تبدیلیوں سے پریشان رہنے لگیں۔ سٹیرائڈز کی وجہ سے ان کا چہرہ سوج گیا تھا، اور وہ خود کو پہلے جیسا محسوس نہیں کر رہی تھیں۔\n\nانہوں نے کہا، ’بس حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے تھے۔\n\n’میں صرف کام پر واپس جانا چاہتی تھی۔ میں صرف ایک عام زندگی گزارنا چاہتی تھی، اور میں سماجی محفلوں میں خود کو غیر آرام دہ محسوس کرتی تھی۔ سچ کہوں تو میں گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہتی تھی۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’سوجن بار بار آ جا رہی تھی، اس لیے وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ مجھے کون سی دوا دی جائے۔\n\n’پھر انہوں نے مجھے میتھو ٹریکسٹیٹ شروع کروا دی، جو کیموتھراپی کی ایک دوا ہے، اس لیے مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرے بال نہ گر جائیں۔ اس سے مجھے بہت تھکاوٹ محسوس ہوتی تھی، لیکن پھر سٹیرائڈز مجھے بہت توانا کر دیتے تھے، اس لیے ٹھیک نہ ہونے کی پریشانیوں کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت کچھ چل رہا تھا۔‘\n\nستمبر 2016 میں، لوری ڈینمین کی گرتی ہوئی ذہنی صحت کی وجہ سے انہیں تین ماہ کے لیے نیورو سائیکاٹرک وارڈ میں داخل کر دیا گیا، اور ان کی دیگر ادویات کے ساتھ انہیں موڈ سٹیبلائزرز اور اینٹی سائیکاٹکس تجویز کی گئیں۔\n\nانہوں نے بتایا: ’مجھے گھبراہٹ کے دورے پڑتے تھے، میرا خیال ہے کہ مجھے لگتا تھا کہ میں مرنے والی ہوں، اور پھر وہ پیرانویا میں بدل گیا، اور پھر سائیکوسس ظاہر ہو گیا۔\n\n’میں بالکل بھی نارمل نہیں تھی، یہ تمام خیالات اور پاگل کر دینے والی چیزیں میرے دماغ میں چل رہی تھیں۔‘\n\nلوری ڈینمین نے وضاحت کی کہ یہ جاننا مشکل ہے کہ آیا یہ علامات براہ راست پیراسائٹس کی وجہ سے تھیں، یا ان کے طویل علاج کے دباؤ اور صدمے کی وجہ سے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’اس وقت یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن گیا تھا۔ کوئی مجھے نہیں بتا سکتا تھا کہ میں کب ٹھیک ہوں گی۔‘\n\nبالآخر، جنوری 2017 میں لوری ڈینمین ہسپتال سے نکل کر اپنے والد کے پاس واپس جانے کے قابل ہو گئیں۔ اس وقت تک وہ 34 سال کی ہو چکی تھیں، اور شدت سے اپنی معمول کی زندگی واپس چاہتی تھیں۔\n\nانہوں نے کہا، ’میں خود کو پہچان نہیں پا رہی تھی، اور میں بہت زیادہ پیرانویا کا شکار بھی تھی۔\n\n’میں اپنے دوستوں سے، جو کوئی بھی ہسپتال میں مجھ سے ملنے آتا، اس سے پوچھتی رہتی تھی کہ، میں نے کیا کیا ہے؟\n\n’کیوں کہ مجھے لگتا تھا کہ کوئی ہولناک کام کرنے کی وجہ سے میرا ذکر خبروں میں ہونے والا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n’مجھے لگتا تھا کہ میں نے کوئی پاگل پن والا کام کیا ہے، اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں نے کیا کیا ہے۔‘\n\nاب لوری ڈینمین فٹ اور صحت مند ہیں، اور ان کی ادویات کی مدد سے ان کے دورے کنٹرول میں ہیں اس لیے انہیں 10 سال سے کوئی دورہ نہیں پڑا۔\n\nاپنی صحت یابی کے دوران، لوری ڈینمین اپنی بیماری کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے اور ان لوگوں سے رابطہ کرنے کے لیے بے چین تھیں جو اس صورت حال سے گزر چکے تھے، لیکن انہیں معلوم ہوا کہ اپنے ڈاکٹروں سے حاصل کردہ معلومات کے علاوہ ان کے لیے بہت کم معلومات دستیاب تھیں۔\n\nاب جب کہ وہ خود کو زیادہ توانا محسوس کر رہی ہیں، تو وہ اپنی کہانی دنیا کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہیں۔ وہ 12 اقساط پر مشتمل ایک پوڈ کاسٹ کے ذریعے ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جس میں ٹراپیکل امراض کے کنسلٹنٹس اور ماہرین کے انٹرویوز، نیورولوجی کے بارے میں بصیرت، اور بہت کچھ کے ساتھ ساتھ ان کے ذاتی سفر کا جائزہ لیا جائے گا۔\n\n’میں نے اپنی زندگی کی 30 کی دہائی بیمار، پریشان اور فکرمند رہتے ہوئے گزاری، اور اب میں اپنی 40 کی دہائی میں داخل ہو چکی ہوں، میں اس منفی تجربے کے ساتھ کچھ مثبت کرنا چاہتی ہوں۔ دوسرے لوگوں کی مدد کرنا چاہتی ہوں، اور صرف یہ محسوس نہیں کرنا چاہتی کہ میں نے اپنا یہ سارا وقت ضائع کر دیا ہے۔'\n\nکراؤڈ فنڈر کے ذریعے، لوری ڈینمین اور ان کی 20 سالہ پرانی دوست، پروڈیوسر نکولا براؤن، اس پراجیکٹ کے لیے 25000 پاؤنڈز جمع کر رہی ہیں، جسے 2025 کے دی وکرز پوڈ کاسٹ پچ ایوارڈ کے لیے شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔\n\nاس پراجیکٹ کے بارے میں مزید جاننے اور عطیہ کرنے کے لیے www.crowdfunder.co.uk/p/38-parasites-podcast پر جائیں، یا انسٹاگرام پر @38parasitespodcast اور فیس بک پر 38parasitespodcast وزٹ کریں۔\n\nمرض\n\nبیماری\n\nبرطانیہ\n\nدماغ\n\nلوری ڈینمین پیراسائٹس کی وجہ سے پیدا ہونے والی دماغی انفیکشن کے بعد ایک دہائی تک دوروں اور نفسیاتی مسائل کا مقابلہ کرتی رہیں۔\n\nریچل ڈیوس\n\nجمعرات, جولائی 2, 2026 - 11:00\n\nMain image:\n\n> <p>لوری ڈینمین اور ان کی 20 سالہ پرانی دوست، پروڈیوسر نکولا براؤن اس پراجیکٹ کے لیے 25000 پاؤنڈز جمع کر رہی ہیں ( لوری ڈینمین انسٹاگرام اکاؤنٹ)</p>\n\nصحت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nانڈیا: ٹرمپ کے نام سے سڑک منسوب، سیاسی جماعتوں کی تنقید\n\nانڈیا میں ٹیپو سلطان کا محل بربادی کے دہانے پر\n\nمخصوص پیراسائٹ چیونٹی کو زومبی بنا سکتا ہے: تحقیق\n\nکیرالہ میں وبائی انفیکشن ’نیپاہ‘ سے موت کے بعد الرٹ جاری\n\nSEO Title:\n\nانڈیا جانے والی برطانوی خاتون کے دماغ میں 38 پیراسائٹ کیوں پیدا ہوئے؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/health-and-wellbeing/parasites-in-brain-lowri-denman-neurocysticercosis-case-b3006878.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "انڈیا جانے والی برطانوی خاتون کے دماغ میں 38 پیراسائٹ کیوں پیدا ہوئے؟"
}