{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigwacmdjdnqkgxz6alr2exxeryeybrqqgxs6alzkbvpenqeg4cchy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpozri5ekuw2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibp6kwmrjh3dekyyhxqtesuo34ny4akspsbomlrc3wappkpuraiyu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 78256
},
"path": "/node/186593",
"publishedAt": "2026-07-02T11:12:15.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاکستان",
"امریکہ",
"ایران",
"قطر",
"ترکی",
"امن معاہدہ",
"دفتر خارجہ",
"قرۃ العین شیرازی",
"news"
],
"textContent": "**پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا۔**\n\nاسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے ایران امریکہ مذاکرات سے متعلق کہا ہے کہ ’پاکستان نے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں اور اہم فریقین کے ساتھ اپنی سفارتی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں تاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر سنجیدہ پیش رفت اور عمل درآمد کو ممکن بنایا جا سکے یہ کوشش 21 جون کو پاکستان اور قطر کے مشترکہ بیان کے مطابق جاری ہے۔‘\n\nطاہر اندرابی کے مطابق اسی سلسلے میں ’پاکستان اور قطر نے گذشتہ روز دوحہ میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ رابطے کیے اور امریکی و ایرانی مذاکراتی وفود سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ یہ ملاقاتیں رات گئے تک جاری رہیں اور آج صبح کے اوقات تک اختتام پذیر ہوئیں۔‘\n\nاس ضمن میں ترجمان نے کہا کہ ’وہ تین اہم نکات کو اجاگر کرنا چاہیں گے۔ اول یہ کہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مختلف پہلوؤں پر مثبت پیش رفت ہوئی، جو گذشتہ سربراہی ملاقات میں طے پانے والی مفاہمت کی بنیاد پر آگے بڑھائی گئی۔‘\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ ’دونوں فریقین نے آئندہ دنوں میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اور تیسرا یہ کہ سابق ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین اور سوگ کی تقریبات کے بعد اگلے اجلاس کی تاریخ جلد از جلد طے کی جائے گی۔‘\n\nترجمان کے مطابق ’پاکستان اپنے قطری شراکت داروں کے ساتھ مل کر مذاکراتی عمل میں سہولت کار اور ثالث کے طور پر اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔‘\n\nطاہر اندرابی نے کہا ہے کہ ’ان مذاکرات میں ثالث کے طور پر ہمارا کردار بدستور ضبط اور مکالمے کے تسلسل کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس بات کو مثبت سمجھنا چاہیے کہ مذاکرات کا عمل جاری ہے۔\n\nترجمان نے کہا کہ ’جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مرحوم سپریم لیڈر کی تدفین اور سوگ کی تقریبات کے بعد آئندہ اجلاس منعقد کیا جائے گا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فریقین اب بھی مذاکرات کی میز پر موجود ہیں اور بات چیت کا عمل تعطل کا شکار نہیں ہوا، مذاکرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔‘\n\nطاہر اندرابی نے کہا کہ ’مذاکرات کے دوران اختلافات اور موقف میں فاصلے موجود ہونا ایک معمول کی بات ہے۔ ہر مذاکرات کے دور کے بعد فریقین واپس جا کر غور و فکر کرتے ہیں اور اگلے مرحلے کی تیاری کرتے ہیں، اس لیے مذاکراتی عمل جاری رہنا بذات خود ایک مثبت پیش رفت ہے۔‘\n\nترجمان نے مذاکرات کے اسلام آباد میں منعقد ہونے سے متعلق کہا کے ’میں مستقبل میں مذاکرات کے اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کر سکتا۔ ہم یقینا ایسے کسی بھی موقع کا خیرمقدم کریں گے، تاہم اس مرحلے پر میرے پاس اسلام آباد کو میزبان مقام کے طور پر منتخب کیے جانے کے حوالے سے کوئی مخصوص معلومات نہیں ہیں۔‘\n\n18 جون، 2026 کو فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کے ایکس اکاؤنٹ سے دستیاب ہونے والی فوٹیج سے ایک ویڈیو گریب جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان امن معاہدے پر دستخط کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\n**وزیراعظم شہباز شریف 3 سے 5 جولائی تک ایران اور ترکی کا دورہ کریں گے: دفتر خارجہ**\n\nترجمان طاہر اندرابی نے بتایا کہ کہ وزیر اعظم شہباز شریف تین سے پانچ جولائی تک ایران اور ترکی کا سرکاری دورہ کریں گے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ’وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، دیگر وفاقی وزرا اور اعلی سرکاری حکام بھی ہوں گے۔ شہباز شریف پہلے ایران جائیں گے، جہاں وہ سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔‘\n\nان کے مطابق ’وزیراعظم پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے ایرانی قیادت اور سوگوار خاندان سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کریں گے۔ وہ اس غم کے وقت میں برادر ایرانی قوم کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ بھی کریں گے۔‘\n\nطاہر اندرابی نے بریفنگ کے دوران کہا کہ اس کے بعد وزیراعظم، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کی دعوت پر استنبول جائیں گے جہاں وہ دوطرفہ تعلقات کے تمام شعبوں، جس میں تجارت، سرمایہ کاری اور دونوں برادر ممالک کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔\n\nانہوں نے بتایا کہ استنبول میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم ایک کاروباری کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے، جس کا مقصد پاکستان کی معاشی طاقت اور سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کرنا ہے۔ اس کانفرنس میں خصوصی اقتصادی زونز (SEZs)، توانائی، تجارت، آئی ٹی اور نجکاری سمیت ترجیحی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پیش کیے جائیں گے۔\n\n**افغانستان میں مستند انٹیلی جنس معلومات پر کارروائی کی گئی: دفتر خارجہ**\n\nافغانستان کے حوالے سے طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ ’حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے بعد ہم نے مخصوص اہداف پر کارروائیاں کیں، جو ہدف اور مستند انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nان کے مطابق ’یہ تمام کارروائیاں قابل اعتماد انٹیلی جنس معلومات اور درست نشانہ بندی کی بنیاد پر کی گئیں۔ اس دوران بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد اور تباہ کیا گیا۔ اور اہداف کے انتخاب میں مکمل احتیاط برتی گئی۔‘\n\nترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ’ہم نے صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا اور ہماری معلومات کے مطابق مارے جانے والے تمام 29 افراد مختلف دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھتے تھے۔‘\n\nانہوں نے کہا ہے کہ ’ہم خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، تاہم اپنے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور پاکستان کے اندر اور باہر موجود دہشت گرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک ہماری انسداد دہشت گردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی۔‘\n\nطاہر اندرابی نے کہا ’جہاں تک افغانستان سے ڈرون حملوں کا تعلق ہے، آئی ایس پی آر اس حوالے سے ایک مفصل پریس ریلیز جاری کر چکا ہے، لہذا ان کے پاس اس میں مزید اضافہ کرنے کے لیے کچھ نہیں۔\n\n’البتہ یہ ابتدائی نوعیت کے ڈرون تھے جو افغانستان کی جانب سے سرحد پار بھیجے گئے۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اور معاونت کا حصہ تھے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’ہمارے فضائی دفاعی نظام نے انہیں بروقت شناخت کیا، جس سے ہماری اعلی سطح کی آپریشنل تیاری کا پتہ چلا اور تمام ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا گیا۔\n\n’اگر اس نوعیت کی اشتعال انگیز کارروائیاں، یا حالیہ دہشت گرد حملوں جیسے واقعات جاری رہے تو پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت حاصل اپنے حق دفاع کے مطابق مناسب اور موثر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘\n\nپاکستان\n\nامریکہ\n\nایران\n\nقطر\n\nترکی\n\nامن معاہدہ\n\nدفتر خارجہ\n\nترجمان دفتر خارجہ نے جمعرات کو کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی سفارتی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں تاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر سنجیدہ پیش رفت اور عمل درآمد کو ممکن بنایا جا سکے۔\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعرات, جولائی 2, 2026 - 16:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">دو جولائی، 2026 کی اس تصویر میں پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالوں جواب دیتے ہوئے(دفتر خارجہ پاکستان فیس بک پیج)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسعودی وزیر خارجہ کا جلد پاکستان دورے کا ارادہ: دفتر خارجہ\n\nایران امریکہ مذاکرات، پاکستان پرامید انداز میں عمل میں شریک: دفتر خارجہ\n\nبنوں پولیس پر حملہ، افغان ناظم الامور کی پاکستانی دفتر خارجہ طلبی\n\nیو اے ای سے پاکستانیوں کی واپسی قانونی معاملہ سیاسی نہیں: دفتر خارجہ\n\nSEO Title:\n\nپاکستان امریکہ ایران مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا: دفتر خارجہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "پاکستان امریکہ ایران مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہے گا: دفتر خارجہ"
}