{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibmrtudu4jrlf7a6jh6r6ryurvseie6loy743eaz3brjsjjev5ip4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpozrbc7ssc2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreif4vcpqzh3qf5whqgbi4dfiwoggtnfobcgiket3owxj3xgahbyqhq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 168637
  },
  "path": "/node/186595",
  "publishedAt": "2026-07-02T11:30:44.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "خیبر پختونخوا",
    "سوات",
    "کالام",
    "حادثہ",
    "اظہار اللہ",
    "ملٹی میڈیا",
    "video"
  ],
  "textContent": "**کالام کشتی حادثے کی ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ حادثہ پانی کے تیز بہاؤ والی جگہ پر کشتی کے جانے اور الٹنے کی وجہ سے پیش آیا جب کہ ایف آئی آر میں ’بند انجن والی کشتی‘ اور ’ڈرائیور (ملاح) کی غفلت‘ کو بنیاد بنایا گیا ہے، ریسکیو 1122 کے مطابق ملاح تاحال لاپتہ ہے۔**\n\nخیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے سیاحتی مقام کالام میں بدھ کو سیف اللہ جھیل میں کشتی رانی کے دوران پیش آنے والے حادثے میں بچوں اور خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے چھ افراد جان سے گئے ہیں۔\n\nریسکیو 1122 کے ترجمان نیاز خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کشتی الٹنے کی وجہ سے حادثے میں لاہور کے جوہر ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کی موت واقع ہوئی ہے۔\n\nاپر سوات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے ترجمان سعیدالرحمٰن نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جس جھیل میں یہ واقعہ پیش آیا، وہ نسبتاً چھوٹی ہے لیکن اس کی گہرائی زیادہ ہے۔\n\nتاہم سعیدالرحمٰن کے مطابق اگر جھیل کے سرکل سے باہر نکل جائیں تو پانی کا بہاؤ تیز ہو جاتا ہے، جہاں کشتی کو قابو میں رکھنا مشکل ہوتا ہے۔\n\nسعیدالرحمٰن نے بتایا کہ بعض اوقات کشتی آپریٹر پیٹرول کی بچت کے لیے درمیان میں انجن بند کر دیتا ہے اور بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ انجن بند کرنے کے بعد دوبارہ سٹارٹ نہیں ہوا، جس کے باعث کشتی تیز بہاؤ کی طرف چلی گئی۔\n\nانہوں نے بتایا: ’ابتدائی تفتیش میں یہی سامنے آیا ہے کہ کشتی جھیل کے سرکل سے نکل کر تیز پانی کے بہاؤ کی طرف گئی، جہاں وہ الٹ گئی اور یہ حادثہ پیش آیا، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے، جس کی رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کی جائے گی۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ فی الحال جھیل میں کشتی رانی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور مقامی افراد کے ساتھ اس سلسلے میں جرگے بھی جاری ہیں تاکہ کشتیوں میں حفاظتی تدابیر یقینی بنائی جا سکیں۔\n\nپولیس حکام کے مطابق مرنے والوں میں پاکستان نیوی کے ریٹائرڈ لیفٹننٹ کموڈور محمد عامر، ان کی دو بیٹیاں، ایک بیٹا، ایک نواسہ اور ایک نواسی شامل ہیں۔\n\nاس واقعے کا مقدمہ تھانہ کالام میں مرنے والوں میں شامل پاکستان نیوی کے ریٹائرڈ لیفٹننٹ کموڈور محمد عامر کے بھتیجے کنعان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کے چچا اپنے خاندان کے ساتھ سیر و تفریح کی غرض سے کالام گئے ہوئے تھے۔\n\nکنعان نے بتایا ہے کہ کالام کے نیوی ریسٹ ہاؤس جالکنڈ میں رات گزارنے کے بعد ان کے چچا خاندان سمیت جھیل سیف اللہ چلے گئے، لیکن شام کے وقت مجھے اطلاع ملی کہ چچا کو جھیل میں حادثہ پیش آیا ہے۔\n\nمقدمے کے مطابق: ’کشتی کے ڈرائیور لیاقت علی نے بند انجن کے باوجود میرے رشتہ داروں کو کشتی میں سوار کیا، لیکن کشتی کا انجن سٹارٹ نہیں ہو رہا تھا اور اسی دوران ڈرائیور کی غفلت سے کشتی الٹ گئی، جس سے یہ حادثہ پیش آیا۔‘\n\nریسکیو 1122 کے ترجمان نیاز خان کا کہنا ہے کہ ’کشتی کا ملاح بھی غائب ہے تاکہ اس سے سیاحوں کی تعداد معلوم کی جا سکے، جبکہ 17 سالہ لاپتہ لڑکی کی تلاش دوسرے روز بھی جاری ہے اور اس آپریشن میں ریسکیو اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے بتایا کہ کہ کشتی میں سوار افراد کی تعداد کے بارے میں ابھی مصدقہ معلومات نہیں ہیں، تاہم مقامی لوگوں کے مطابق چھ افراد کے علاوہ ایک 17 سالہ لڑکی بھی لاپتہ ہے، جس کی تلاش جاری ہے۔\n\nامجد علی سحاب سوات کے مقامی صحافی ہیں اور سوات کے سیاحتی مقامات پر مسلسل مضامین لکھتے ہیں۔\n\nامجد علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کالام میں ایک مشہور مہوڈنڈ جھیل ہے اور اس سے تقریباً پانچ منٹ کی مسافت پر سیف اللہ جھیل واقع ہے، جبکہ آگے جا کر تیسری جھیل پنغالی کے نام سے موجود ہے۔\n\nانہوں نے کہا: ’زیادہ تر سیاح مہوڈنڈ جھیل پہنچ کر ہی وہاں وقت گزارتے ہیں اور ان دونوں جھیلوں میں مقامی سطح پر بنائی گئی کشتیاں ہوتی ہیں، جن میں آٹھ سے 10 افراد کی گنجائش ہوتی ہے۔‘\n\nجھیل سیف اللہ کے بارے میں امجد علی نے بتایا کہ اس جھیل کا پانی نہایت ٹھنڈا ہوتا ہے، اتنا ٹھنڈا کہ اس میں ہاتھ بھی نہیں دھویا جا سکتا۔ ایسے میں اگر کوئی حادثہ پیش آ جائے تو تیراکی کرنا یا ہاتھ پاؤں مارنا بھی شدید ٹھنڈ کی وجہ سے انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔\n\nانہوں نے بتایا: ’جھیل کے آس پاس ریسکیو کا کسی قسم کا بندوبست موجود نہیں ہے، جبکہ جو کشتیاں ہیں، ان کے سیفٹی پروٹوکول کا بھی کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ گذشتہ سال بھی مہوڈنڈ جھیل میں ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا۔‘\n\nخیبر پختونخوا\n\nسوات\n\nکالام\n\nحادثہ\n\nخیبر پختونخوا کے ضلع سوات کے سیاحتی مقام کالام میں بدھ کو سیف اللہ جھیل میں کشتی رانی کے دوران پیش آنے والے حادثے میں بچوں اور خواتین سمیت ایک ہی خاندان کے چھ افراد جان سے گئے ہیں۔\n\nاظہار اللہ\n\nجمعرات, جولائی 2, 2026 - 16:30\n\nMain image:\n\n> <p>خیبر پختونخوا کے ضلع سوات کی تحصیل بحرین میں چار مئی 2023 کو دریائے سوات کے اردگرد دکانیں دکھائی دے رہی ہیں (عامر قریشی / اے ایف پی)</p>\n\nملٹی میڈیا\n\njw id:\n\n8NCZo7Ah\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nکالام میں سنو فیسٹیول کا آغاز، سیاحت اور سنو سپورٹس کا فروغ\n\nبحرین اور کالام میں سیلاب سے ٹوٹی سڑکیں کھولنے کی کوششیں\n\nکالام سنو جیپ ریلی: ’چاہتی ہوں کہ یہ مقابلہ جیتوں‘\n\nSEO Title:\n\nکالام حادثہ: ملاح لاپتہ، خراب انجن والی کشتی کا مقدمہ درج\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "کالام حادثہ: ملاح لاپتہ، خراب انجن والی کشتی کا مقدمہ درج"
}