{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidtznsxj7syia45ekrzr6qaxz7xtivalxzzz7h4sa5u4gdehxj5vq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpozr5ay4fi2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifpaew44fuvqpudxbzmhwhtevxptplb72z5h4ydfkde537zv6moyy"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 161476
},
"path": "/node/186596",
"publishedAt": "2026-07-02T13:43:40.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"انڈیا",
"برقی گاڑیاں",
"چینی ایپ",
"ستوتی مشرا",
"ٹیکنالوجی",
"news"
],
"textContent": "**انڈیا میں ایسی ویڈیوز وائرل ہو گئی ہیں جن میں لوگوں کو ایک چینی ایپ استعمال کرتے ہوئے سفر کے دوران دور سے ای رکشوں کی برقی توانائی منقطع کرتے دکھایا گیا ہے۔**\n\nاس صورت حال نے کم قیمت الیکٹرک گاڑیوں میں ایک سکیورٹی خامی کے بارے میں خدشات پیدا کر دیے ہیں، جس کے باعث ڈرائیور ٹریفک میں پھنس جاتے ہیں اور اپنی گاڑیاں دوبارہ چلانے سے قاصر رہتے ہیں۔\n\nاس ایپ کا نام BAT-BMS ہے، جسے چینی کمپنی شین ژین گرینرجی ٹیکنالوجی نے تیار کیا ہے۔\n\nاس میں ’ڈسچارج سوئچ‘ نامی ایک فیچر شامل ہے، جو عام طور پر مکینک مرمت سے پہلے محفوظ طریقے سے توانائی منقطع کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔\n\nتاہم اب اس فیچر کا غلط استعمال کرتے ہوئے ای رکشوں کو سفر کے دوران بند کیا جا رہا ہے۔ اس عمل میں ملوث بعض افراد نے اپنی پوسٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ای رکشہ ڈرائیوروں سے ’بدلہ‘ لے رہے ہیں۔\n\nسوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑیاں اچانک بند ہونے کے بعد ڈرائیور انہیں ٹریفک کے درمیان دھکا دے رہے ہیں، جس سے کئی افراد کی روزی روٹی بھی متاثر ہو رہی ہے۔\n\nاس خطرناک رجحان کو ’تِرّی کنٹرول‘ کا نام دیا گیا ہے۔ انڈیا کے بعض علاقوں میں ’تِرّی‘ ای رکشوں کے لیے استعمال ہونے والا عام لفظ ہے۔\n\nگذشتہ چند دنوں میں یہ ویڈیوز انسٹاگرام، یوٹیوب، ریڈٹ اور ایکس پر تیزی سے پھیلی ہیں۔\n\nان میں سے کئی ویڈیوز، جو مبینہ طور پر خود مذاق کرنے والوں نے اپ لوڈ کی ہیں، دکھاتی ہیں کہ لوگ مصروف سڑکوں پر ای رکشوں کے قریب جاتے ہیں، ایپ کھولتے ہیں، بلوٹوتھ کے ذریعے گاڑی کی بیٹری سے منسلک ہوتے ہیں اور ڈسچارج سوئچ آن کر دیتے ہیں، جس سے موٹر کی توانائی منقطع ہو جاتی ہے اور گاڑی اچانک رک جاتی ہے۔\n\nایک وائرل پوسٹ پر تحریر ہے: بدلے کا وقت آ گیا ہے۔\n\nبہت سے صارفین نے نشاندہی کی ہے کہ ٹریفک میں چلتی گاڑی کی بجلی منقطع کرنا ڈرائیور، مسافروں اور دیگر سڑک استعمال کرنے والوں کے لیے حقیقی حفاظتی خطرہ ہے۔\n\nیہ ایپ بلوٹوتھ کے ذریعے ای رکشے کی لیتھیم بیٹری میں نصب بیٹری مینجمنٹ سسٹم سے منسلک ہوتی ہے۔\n\nانڈیا میں متعدد کم قیمت ای رکشوں میں چینی ساختہ بیٹری مینجمنٹ یونٹس استعمال ہوتے ہیں جو مکمل طور پر غیر محفوظ ہوتے ہیں، کیونکہ ان پر نہ کوئی پاس ورڈ ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی تصدیقی نظام۔\n\nاس کا مطلب ہے کہ 10 سے 15 میٹر کے فاصلے پر موجود کوئی بھی شخص ان سے اسی طرح جڑ سکتا ہے جیسے کسی غیر محفوظ وائی فائی نیٹ ورک سے جڑا جاتا ہے۔\n\nویڈیوز میں بعض متاثرہ ڈرائیوروں کو اپنی گاڑیاں دوبارہ چلانے کے لیے راہگیروں کو 100 سے 200 انڈین روپے ادا کرتے بھی دکھایا گیا ہے۔\n\nتمام ڈرائیوروں کے پاس سمارٹ فون نہیں ہوتے یا وہ بلوٹوتھ سیٹنگز دوبارہ ترتیب دینے کی تکنیکی معلومات نہیں رکھتے، جبکہ کئی بی ایم ایس یونٹس مکمل طور پر چینی زبان میں ترتیب دیے گئے ہوتے ہیں۔\n\nتاہم ویڈیوز اس خامی کے پھیلاؤ کو حقیقت سے زیادہ ظاہر کرتی ہیں۔\n\nیہ طریقہ صرف ان رکشوں پر کام کرتا ہے جن میں بلوٹوتھ سے منسلک لیتھیم بیٹری پیک اور ہم آہنگ، غیر محفوظ بیٹری مینجمنٹ سسٹم موجود ہو۔\n\nلیڈ ایسڈ بیٹریوں پر چلنے والے ای رکشے، جو اب بھی انڈیا میں عام ہیں، اس مسئلے سے متاثر نہیں ہوتے۔ اسی طرح وہ گاڑیاں بھی محفوظ ہیں جن میں ملکیتی سافٹ ویئر یا پاس ورڈ سے محفوظ نظام استعمال ہوتا ہے۔\n\nمتعدد افراد جنہوں نے ان حرکات کی نقل کرنے کی کوشش کی، ان کا کہنا تھا کہ یہ مختصر ویڈیوز کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل عمل ہے، کیونکہ اس کے لیے صارف کا قریب ہونا، ساکن ہونا اور قریب ہی کوئی غیر محفوظ و ہم آہنگ بیٹری موجود ہونا ضروری ہے۔\n\nBAT-BMS ایک بیٹری مینجمنٹ ٹول ہے جو صارفین کو بلوٹوتھ سے چلنے والی لیتھیم بیٹریوں کی وائرلیس نگرانی کی سہولت دیتا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیہ بیٹری کی چارج سطح، وولٹیج، کرنٹ، درجہ حرارت اور ہر سیل کی حالت جیسی معلومات دکھاتا ہے۔ ایپ حقیقی وقت میں انتباہات اور کنٹرول فراہم کر کے بیٹریوں کو حد سے زیادہ چارج ہونے، زیادہ ڈسچارج ہونے اور زیادہ گرم ہونے سے بچانے میں مدد دیتی ہے۔\n\nتاہم یہ واقعات ایک پیچیدہ سائبر حملے کے بجائے سکیورٹی ڈیزائن میں موجود ایک خامی کو نمایاں کرتے ہیں۔\n\nٹیکنالوجی مواد تخلیق کرنے والے ابھیشیک بھاٹناگر، جنہوں نے ایکس پر ہندی میں اس مسئلے کی وضاحت پوسٹ کی، نے کہا کہ اس خامی کو دور کرنے کی ذمہ داری ڈیلرز اور مینوفیکچررز پر عائد ہوتی ہے، جنہیں گاڑیاں فروخت کرنے سے پہلے بیٹری مینجمنٹ سسٹمز پر پاس ورڈ ترتیب دینا چاہیے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ریگولیٹری ادارے بھی پاس ورڈ تحفظ کو لازمی قرار دے سکتے ہیں۔\n\nدہلی نے حال ہی میں ایک پالیسی کو حتمی شکل دی ہے جس کے تحت 2027 سے صرف الیکٹرک تھری وہیلرز کو نئے لائسنس پلیٹس جاری کیے جائیں گے، جس سے دارالحکومت میں ای رکشوں کی جانب منتقلی لازمی ہو جائے گی۔\n\nانڈین سڑکوں پر موجود ای رکشوں کی اکثریت کم قیمت گاڑیوں پر مشتمل ہے جو کم لاگت کے پرزے استعمال کرتی ہیں، اور یہی وہ کیٹگری ہے جو وائرل ویڈیوز میں نمایاں ہونے والی اس خامی سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہے۔\n\nوزارتِ الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے ممکنہ سائبر سکیورٹی اور عوامی تحفظ کے خطرات کے پیش نظر اس ایپ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ BAT-BMS کو ایپل کے ایپ اسٹور سے ہٹا دیا گیا ہے، تاہم یہ اب بھی گوگل پلے پر دستیاب ہے۔\n\nانڈیا\n\nبرقی گاڑیاں\n\nچینی ایپ\n\nسوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑیاں اچانک بند ہونے کے بعد ڈرائیور انہیں ٹریفک کے درمیان دھکا دے رہے ہیں، جس سے کئی افراد کی روزی روٹی بھی متاثر ہو رہی ہے۔\n\nستوتی مشرا\n\nجمعرات, جولائی 2, 2026 - 18:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">19 جون، 2024 کی اس تصویر میں انڈیا کے شہر امرتسر میں ایک الیکٹرک رکشے کو سامان سمیت سڑک پر جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nانڈیا جانے والی برطانوی خاتون کے دماغ میں 38 پیراسائٹ کیوں پیدا ہوئے؟\n\nآئرلینڈ نے انڈیا کو تاریخی شکست دینے کے اگلے روز ہی کوچ بدل لیا\n\nاحتجاج، انڈیا سے جنگ، کشمیر کی سیاحت تیسرے سال بھی متاثر\n\nانڈیا: ٹرمپ کے نام سے سڑک منسوب، سیاسی جماعتوں کی تنقید\n\nSEO Title:\n\nانڈیا: سڑک پر چلتے الیکٹرک رکشے کیوں بند ہونے لگے؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/india/india-tirri-control-prank-bat-bms-app-e-rickshaws-b3007497.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "انڈیا: سڑک پر چلتے الیکٹرک رکشے کیوں بند ہونے لگے؟"
}