{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigkweealsyd54hc7kkgdb6q4uohrxwtagcpvl62ponm7mj3vmhmqi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpozqzdtz2i2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreid33sgbo5ulym5gguqkvrhi65bhslrcoftajunbhhgivxtffw36pq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 129157
  },
  "path": "/node/186597",
  "publishedAt": "2026-07-02T14:08:10.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "وینزویلا",
    "زلزلہ",
    "ریسکیو",
    "اے ایف پی",
    "امریکہ",
    "news"
  ],
  "textContent": "وینزویلا میں آنے والے دو طاقتور زلزلوں کے بعد ملبے تلے آٹھ دن سے پھنسے ایک سکیورٹی گارڈ کو جمعرات کے روز بین الاقوامی امدادی ٹیم نے کامیابی سے زندہ نکال لیا، جس کا مشاہدہ اے ایف پی کے صحافیوں نے کیا۔\n\n43 سالہ ہرنان گل ریاست لا گوائیرا کے ساحلی علاقے کاتیا لا مار میں واقع ایک سات منزلہ عمارت کے ملبے تلے دب گئے تھے، جہاں وہ ملازمت کرتے تھے۔ یہ علاقہ زلزلوں کے باعث شدید تباہی کا شکار ہوا تھا۔\n\nتین روز تک انتہائی احتیاط سے کھدائی کے بعد امدادی کارکنوں نے گل کو سٹریچر پر ملبے سے باہر نکالا۔\n\nکامیاب ریسکیو پر امدادی کارکن ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے اور گلے ملتے نظر آئے۔ بعد ازاں انہیں ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔\n\nاس پیچیدہ ریسکیو آپریشن میں وینزویلا، چلی، امریکہ، پرتگال، کوسٹا ریکا، ایل سلواڈور اور میکسیکو سمیت سات ممالک کے امدادی اہلکاروں نے حصہ لیا۔\n\nکارروائی کے آخری مرحلے میں دو امدادی کارکن اس تین میٹر طویل سرنگ میں داخل ہوئے جو متاثرہ شخص تک پہنچنے کے لیے بنائی گئی تھی، جبکہ عمارت کی پارکنگ میں تقریباً 30 افراد ملبہ ہٹانے کے لیے مسلسل کام کرتے رہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nامدادی کارکنوں نے ایک دھاتی پلیٹ توڑنے کے لیے ہتھوڑا استعمال کیا، تاہم اس سے قبل قریبی عمارت کے منہدم ہونے کے خطرے سے بھی خبردار کیا گیا تھا۔\n\nپورے آپریشن کے دوران ہرنان گل کو پانی فراہم کیا جاتا رہا، جبکہ ایک نلی کے ذریعے انہیں مسلسل ہوا بھی پہنچائی جاتی رہی۔\n\nموقع پر موجود ایک امدادی کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ’میں نے اس سے زیادہ مشکل ریسکیو کارروائی کبھی نہیں دیکھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس سے پہلے اتنی طویل ریسکیو کارروائی کبھی ہوئی بھی ہے یا نہیں۔‘\n\nدوسری جانب وینزویلا کی قومی اسمبلی کے صدر خورخے روڈریگیز نے بدھ کو بتایا کہ زلزلوں کے نتیجے میں اموات کی تعداد بڑھ کر 2,295 ہو گئی ہے، جبکہ 11,000 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔\n\nوینزویلا\n\nزلزلہ\n\nریسکیو\n\nموقعے پر موجود ایک امدادی کارکن کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس سے زیادہ مشکل ریسکیو کارروائی کبھی نہیں دیکھی۔‘\n\nاے ایف پی\n\nجمعرات, جولائی 2, 2026 - 19:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">یکم جولائی، 2026 کی اس تصویر میں وینزویلا کی ریاست لا گوائیرا میں زلزلے کے بعد ریسکیو اہلکار امدادی کارروائی میں مصروف ہیں(اے ایف پی)</p>\n\nامریکہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nوینزویلا: زلزلے میں اموات کی تعداد 900 سے زیادہ، ہزاروں لاپتہ\n\nوینزویلا میں زلزلے سے 235 اموات، ہزاروں لاپتہ\n\nوینزویلا میں زلزلے سے اموات کی تعداد 188 ہو گئی، 1500 سے زیادہ زخمی\n\nوینزویلا آپریشن: امریکی فوجی پر شرط لگا کر لاکھوں ڈالر کمانے کا الزام\n\nSEO Title:\n\nوینزویلا زلزلہ: ملبے سے آٹھ روز بعد ایک شخص کو زندہ نکال لیا گیا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "وینزویلا زلزلہ: ملبے سے آٹھ روز بعد ایک شخص کو زندہ نکال لیا گیا"
}