{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreih6q2kc4ttj5anuvpdo2kpwx5qvypgh4yz622i5ewbrjffqbe6vpm",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpozqtofslx2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreib5dihhjhmhosq4wml3vqas5fgjkvtpymv3l4k7h57b25erdi4t6u"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 57761
  },
  "path": "/node/186598",
  "publishedAt": "2026-07-02T14:50:35.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "لبنان",
    "صدر",
    "امریکہ",
    "اسرائیل",
    "حزب اللہ",
    "اے ایف پی",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**لبنان کے صدر جوزف عون نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکراتی فریم ورک کے حوالے سے جمعرات کو کہا ہے کہ یہ عمل غداری نہیں بلکہ سفارتی محاذ پر لڑی جانے والی ایک جنگ ہے، اور ’لبنان اپنی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑے گا۔‘**\n\nلبنانی ایوانِ صدر کے مطابق صدر جوزف عون نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا مقصد لبنان کی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے انخلا کو یقینی بنانا ہے۔\n\nانہوں نے کہا: ’اسرائیل سے مذاکرات غداری نہیں بلکہ غیر ضروری خونریزی کے بغیر ایک سفارتی جنگ ہیں۔ ہم لبنان کی سرزمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑیں گے۔‘\n\nیہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بدھ کو کہا تھا کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان، شام اور غزہ میں قائم اپنے نام نہاد ’سیکیورٹی زونز‘ میں ’مزید اطلاع تک‘ موجود رہے گی۔\n\nگذشتہ ہفتے لبنان اور اسرائیل نے امریکہ کی ثالثی میں ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔ تاہم حزب اللہ نے اس معاہدے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس معاہدے کے تحت جنوبی لبنان میں مرحلہ وار لبنانی فوج اپنی عملداری قائم کرے گی، جبکہ حزب اللہ ہتھیار چھوڑے گی اور اسرائیلی فوج علاقے سے واپس جائے گی۔ تاہم اس عمل کے لیے کسی حتمی مدت کا تعین نہیں کیا گیا۔\n\nمعاہدے کی تفصیلات ایک سیکیورٹی ضمیمے میں طے کی جائیں گی، جسے تاحال عوام کے سامنے جاری نہیں کیا گیا۔\n\nاسرائیل نے لبنان پر حالیہ حملوں کا سلسلہ دو مارچ کو شروع کیا تھا جس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں فضائی حملے اور زمینی کارروائیاں شروع کیں، جن میں لبنانی حکام کے مطابق چار ہزار 200 سے زائد افراد جان سے گئے۔\n\nرواں ہفتے جنوبی لبنان میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک شخص کی موت ہو گئی، جسے جنگ کے خاتمے کے اعلان کے بعد پہلا مہلک حملہ قرار دیا گیا۔\n\nایران کی وزارت خارجہ نے بھی اس موقع پر زور دیا تھا کہ لبنان کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کسی بھی پائیدار معاہدے کی بنیادی شرط ہے۔\n\nلبنان\n\nصدر\n\nامریکہ\n\nاسرائیل\n\nحزب اللہ\n\nلبنانی ایوانِ صدر کے مطابق صدر جوزف عون نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کا مقصد لبنان کی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے انخلا کو یقینی بنانا ہے۔\n\nاے ایف پی\n\nجمعرات, جولائی 2, 2026 - 19:45\n\nMain image:\n\n> <p>لبنان کے صدر جوزف عون 16 فروری 2026 کو بیروت کے مشرق میں واقع صدارتی محل بعبدا میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (لبنانی ایوانِ صدر / اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ، اسرائیل اور لبنان کے درمیان سہ فریقی معاہدے پر دستخط\n\nلبنان پر اسرائیلی حملوں نے مذاکرات تقریباً ناکام بنا دیے تھے: اسحاق ڈار\n\nامریکہ سے آج مذاکرات میں لبنان بنیادی موضوع ہو گا: ایران\n\nلبنان پر حملوں کے بعد اسرائیل کا سیزفائر پر اتفاق\n\nSEO Title:\n\nلبنان کی ایک انچ زمین سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے: صدر جوزف عون\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "لبنان کی ایک انچ زمین سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے: صدر جوزف عون"
}