{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreieravwgevzyhsszmk2iedp7txdy6yf7owebg7qpcx5tzazgiydpxq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpmcm7cd7rs2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreia2gfoxx7aq5uqoj545lc7x57aye52ei5ccju32sqyhlwb4d32kfi"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 131342
},
"path": "/node/186577",
"publishedAt": "2026-07-01T05:47:50.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"سائنس",
"تحقیق",
"صحت",
"اظہار اللہ",
"video"
],
"textContent": "**پاکستان میں خاندانوں یا قبیلوں کے درمیان شادیاں عام ہیں اور ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان روایات کی وجہ سے بعض پاکستانیوں میں قدرتی طور پر کچھ جین ’غائب یا غیر فعال‘ پائے گئے ہیں جس سے طب کی دنیا میں دوائیں بنانے میں اہم مدد مل سکتی ہے۔**\n\nپاکستانی ماہر جینیات اور کولمبیا یونیورسٹی کے میڈیسن اینڈ جینومکس فیکلٹی کے ڈائریکٹر دانش صالحین کی سربراہی میں نیچر نامی جریدے میں شائع اس تحقیق کے لیے ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد پاکستانیوں کے جین کا مطالعہ کیا گیا ہے۔\n\nتحقیق میں پاکستان میں بسنے والی مختلف نسلوں جیسے پٹھان، پنجابی، سندھی اور کشمیریوں کو شامل کیا گیا ہے اور تحقیق میں یہ پتہ لگا کہ ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد پاکستانیوں میں کم از کم ایک جین غائب یا نان فنکشنل ہے۔\n\nمجموعی طور پر تحقیق کے مطابق ان 34 ہزار افراد میں چھ ہزار سے زائد مختلف قسم کے جینز غائب پائے گئے ہیں جس سے مستقبل میں پارکنسن، امراض قلب، جگر کی بیماریوں سمیت مختلف دیگر بیماریوں کے لیے موثر دوا بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔\n\nکولمبیا یونیورسٹی کے مطابق یہ دنیا میں اب تک جنوبی ایشیا کی آبادی کے حوالے سے سب سے بڑی جینوم ڈیٹا بیس ہے جس سے طب کے شعبے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔\n\nاس تحقیق کے سربراہ دانش صالحین نے بتایا ہے کہ ’جینوم مطالعے میں دنیا میں جنوبی ایشیا کی نمائندگی صرف دو فیصد ہے جبکہ جنوبی ایشیا دنیا کی آبادی کا 25 فیصد ہے اور اس تحقیق اور جینوم ڈیٹا بیس سے مختلف امراض کے لیے دوا اور علاج میں مریضوں کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔‘\n\n**جینوم کیا ہے؟**\n\nڈاکٹر یاسر یوسفزئی خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور میں جینیات کے ماہر ہیں اور ان کے مطابق جس طرح کسی مشین کے ساتھ ایک کتابچہ یا مینول دیا جاتا ہے جس میں اس مشین کی ساخت اور طریقہ کار لکھا ہوا ہوتا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n’اسی طرح انسانی جسم کے ساتھ بھی اللہ نے ایک مینول بھیجا ہے کہ فلاں بندے کا رنگ کیسا ہوگا، آنکھیں، چہرہ اور دیگر ساخت کیسے ہوں گے۔‘\n\nاسی ساخت کو بنانے کے لیے ڈاکٹر یاسر کے مطابق سائنسی اصطلاح میں اے سی جی ٹی استعمال کیا جاتا ہے اور انہی حروف سے مختلف جین کے کمبینیشن بنتے ہیں جس سے انسانی ساخت بنتی ہے۔\n\nتحقیقی مقالے کے حوالے سے ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ یہ بہت بڑی پیش رفت ہے کہ پاکستان میں اب جینوم کا ایک ڈیٹا بیس سامنے آیا ہے اور اس سے کچھ حد تک یہ پتہ بھی چلا ہے کہ پاکستانیوں میں کس قسم کی بیماریاں زیادہ ہیں۔\n\nڈاکٹر یاسر نے بتایا: ’تحقیق میں بعض جین پاکستانیوں میں غائب پائے گئے اور اس سے مختلف امراض کے لیے دوا بنانے میں مدد بھی ملے گی اور یہ پتہ بھی لگے گا کہ دوا کتنا اثر کرتی ہے اور کتنا نہیں کرتی۔‘\n\nاس سے پہلے ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ دنیا میں مختلف امراض کے لیے برطانیہ یا امریکہ کے جینوم ڈیٹا بیس کو دیکھ کر دوا بنائی جاتی تھی جس میں پاکستان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ یعنی کچھ برٹش پاکستانی اور امریکہ نژاد پاکستانی اس میں شامل ہوتے تھے جو پاکستان کی آبادی اور ان کے جین میں بہت زیادہ فرق ہوتا تھا۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ’اب اس تحقیق میں ایک ڈیٹا بیس ہمارے پاس آگیا ہے اور اس سے ہمیں یہ پتہ لگے گا کہ ان ممالک کے جینوم کے مطابق بنائی گئی دوا پاکستانی آبادی پر کتنی پراثر ہے یا اثر نہیں کرتی۔‘\n\n**غائب جینز کا فائدہ کیا ہے؟**\n\nجینز کے مطالعے نے دنیا میں مختلف امراض کے لیے دوائیں بنانے کا کام آسان کر دیا ہے جیسے PCSK9 نامی جین کے بارے میں پتہ لگایا گیا تھا کہ یہ جسم میں کولیسٹرول کو ریگولیٹ کرتا ہے۔\n\nجب یہ پتہ لگایا گیا تو اس تحقیق کے مطابق چوہوں کے اوپر تجربات کے دوران ان سے یہ جین ختم کر دیا گیا تاکہ دوا کو استعمال میں لایا جا سکے اور جین کے ختم ہونے کے اثرات کو بھی دیکھا جا سکے، تاہم دانش صالحین کے مطابق چوہوں کے بعد انسانوں پر اس کا تجربہ کرنا مشکل ہوتا تھا۔\n\nدانش کے مطابق ’اب اس (پاکستانی جینوم ڈیٹابیس) میں آسانی یہ ہو سکتی ہے کہ ہم تحقیق کے لیے ایسے افراد کو ڈھونڈ سکتے ہیں جن میں قدرتی طور پر یہ جینز غائب ہیں اور غائب ہونے کے صحت پر اثرات دیکھ سکتے ہیں جبکہ برطانیہ یا امریکہ کے جینوم ڈیٹابیس میں ایسے افراد بہت کم ملتے ہیں۔‘\n\nسائنس\n\nتحقیق\n\nصحت\n\nپاکستانی ماہر جینیات اور کولمبیا یونیورسٹی کے میڈیسن اینڈ جینومکس فیکلٹی کے ڈائریکٹر دانش صالحین کی سربراہی میں نیچر نامی جریدے میں شائع تحقیق کے لیے ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد پاکستانیوں کے جین کا مطالعہ کیا گیا۔\n\nاظہار اللہ\n\nبدھ, جولائی 1, 2026 - 10:45\n\nMain image:\n\n> <p>لاہور کے ایک بازار میں 16 اپریل 2023 کو گاہکوں کا رش دیکھا جا سکتا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nسائنس\n\njw id:\n\nBZV3XE0y\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nچوہوں میں طویل عمری کے جینز کی کامیاب منتقلی: سائنس دان\n\nمعذوری کے باوجود پاکستان بھر میں سانپوں پر تحقیق کرنے والے مدثر\n\nتربوز کے حیران کن طبی فوائد دریافت\n\nنیند کی پانچ اقسام دریافت\n\nSEO Title:\n\nپاکستانیوں میں ’قدرتی طور پر بعض جین غائب‘: اس دریافت کا کیا مطلب ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پاکستانیوں میں ’قدرتی طور پر بعض جین غائب‘: اس دریافت کا کیا مطلب ہے؟"
}