{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidaszt6r2pnm32zdbjyfzmox3fag57yavg6f62k44ctotsb2rpi4u",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mpmclobzj6g2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiere2frhabhj4otgerptiwkeut2lw3dggpzlj5i4yq4wdxghhdwny"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 213368
},
"path": "/node/186579",
"publishedAt": "2026-07-01T07:08:20.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاکستان",
"پنجاب",
"مون سون",
"بارش",
"سیلاب",
"اربن فلڈنگ",
"ارشد چوہدری",
"ماحولیات",
"video"
],
"textContent": "**پنجاب حکومت نے مون سون بارشوں کے دوران شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ پر قابو پانے کے لیے صوبے کے مختلف شہروں میں زیر زمین پانی ذخیرہ کرنے کے بڑے ٹینک تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے۔**\n\nحکام کے مطابق لاہور میں 18 جبکہ دیگر شہروں میں ابتدائی مرحلے میں نو زیر زمین ٹینک تعمیر کیے جا رہے ہیں، جن میں سے بیشتر مکمل ہو چکے ہیں جبکہ باقی آخری مراحل میں ہیں۔\n\nمون سون کے دوران پنجاب کے کئی شہری علاقے شدید بارشوں کے باعث زیر آب آ جاتے ہیں۔ نشیبی علاقوں میں سڑکوں، گلیوں اور گھروں میں پانی داخل ہو جاتا ہے جبکہ کئی روز تک پانی کھڑا رہنے سے معمولات زندگی بھی متاثر ہوتے ہیں۔\n\nموسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کلاوڈ برسٹ جیسے واقعات میں اضافے نے شہری انتظامیہ کے لیے نئے چیلنج پیدا کر دیے ہیں۔\n\nپنجاب ڈیویلپمنٹ پروگرام کے ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر قیصر رضا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ حکومت اربن فلڈنگ سے نمٹنے کے لیے بڑے شہروں میں زیر زمین پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔\n\nان کے مطابق فیصل آباد، سرگودھا، ساہیوال اور اوکاڑہ میں پہلے مرحلے کے تحت نو زیر زمین ٹینکوں کی تعمیر آخری مراحل میں ہے۔ ان ٹینکوں کی مجموعی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 10 لاکھ گیلن ہو گی۔\n\nانہوں نے بتایا کہ جمع شدہ پانی بعد میں ہارٹی کلچر اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ مزید یہ کہ جن علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح کم ہو چکی ہے، جیسے ملتان اور ساہیوال، وہاں جدید نظام کے ذریعے اس پانی کو دوبارہ زمین میں جذب کیا جا سکے گا۔\n\nواسا لاہور کے ایکسئین عمر ایوب کے مطابق لاہور میں 18 زیر زمین ٹینکوں کا منصوبہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nان کا کہنا تھا کہ 13 ٹینک پہلے ہی مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ لکشمی چوک سمیت مزید تین ٹینک رواں مون سون سے قبل مکمل ہو جائیں گے۔ ان ٹینکوں میں لاکھوں گیلن بارش کا پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔\n\nعمر ایوب کے مطابق یہ ٹینک ان علاقوں میں تعمیر کیے گئے ہیں جہاں ماضی میں مون سون کے دوران کئی فٹ پانی جمع ہو جاتا تھا۔\n\nانہوں نے کہا کہ اس سال لکشمی چوک جیسے مقامات پر، جہاں پہلے دو سے تین فٹ تک پانی کھڑا رہتا تھا، صورت حال میں واضح بہتری آئے گی اور ٹریفک کی روانی بھی متاثر نہیں ہو گی۔\n\nیاد رہے کہ گذشتہ سال سیالکوٹ، نارووال اور جہلم سمیت کئی علاقوں میں شدید بارشوں اور اربن فلڈنگ کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا، جبکہ بعض متاثرہ خاندان عارضی طور پر اپنے گھروں سے نقل مکانی پر بھی مجبور ہوئے تھے۔\n\nحکومت کو امید ہے کہ نئے پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے مستقبل میں ایسے حالات کے اثرات کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔\n\nپاکستان\n\nپنجاب\n\nمون سون\n\nبارش\n\nسیلاب\n\nاربن فلڈنگ\n\nحکام کے مطابق لاہور میں 18 جبکہ دیگر شہروں میں ابتدائی مرحلے میں نو زیر زمین ٹینک تعمیر کیے جا رہے ہیں، جن میں سے بیشتر مکمل ہو چکے ہیں جبکہ باقی آخری مراحل میں ہیں۔\n\nارشد چوہدری\n\nبدھ, جولائی 1, 2026 - 12:00\n\nMain image:\n\nماحولیات\n\njw id:\n\n61Iyw3fG\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\n’پرانا انفراسٹرکچر، وسائل کی کمی، کراچی اربن فلڈنگ کی وجہ‘\n\nکراچی میں بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی کوریج سازش ہے؟\n\n13 زیر زمین ٹینکس کے باوجود لاہور اربن فلڈنگ کا شکار\n\nکراچی: نالوں پر مکانات کی مسماری ہی اربن فلڈنگ بچاؤ کا طریقہ ہے؟\n\nSEO Title:\n\nپنجاب: مون سون میں اربن فلڈنگ روکنے کے لیے زیر زمین ٹینک کتنے مؤثر ہوں گے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "مون سون میں اربن فلڈنگ روکنے کے زیر زمین ٹینک کتنے مؤثر؟"
}